"kahin ranjha, kahin majnun hua vajud-e-ishq alamgir hai"

Khalid Mubashshir
Khalid Mubashshir
Khalid Mubashshir
Sherشعر
See all 7 →kahin ranjha, kahin majnun hua
کہیں رانجھا، کہیں مجنوں ہوا وجود عشق عالم گیر ہے
Tapak ke dida-e-nam se sada.en deta hai
ٹپک کے دیدۂ نم سے صدائیں دیتا ہے جو ایک حرف تمنا دل تباہ میں تھا
miri vahshaton ka sabab kaun samjhe
مری وحشتوں کا سبب کون سمجھے کہ میں گم شدہ قافلہ چاہتا ہوں
anasir ki ghani zanjir hai
عناصر کی گھنی زنجیر ہے سو یہ ہستی کی اک تعبیر ہے
tumhari yaad ka marham banam-e-dil kar duun
تمہاری یاد کا مرہم بنام دل کر دوں تمام ہجر کے زخموں کو مندمل کر دوں
mujhe shak hai hone na hone pe 'khalid'
مجھے شک ہے ہونے نہ ہونے پہ خالدؔ اگر ہوں تو اپنا پتا چاہتا ہوں
Popular Sher & Shayari
14 total"Tapak ke dida-e-nam se sada.en deta hai jo ek harf-e-tamanna dil-e-tabah men tha"
"miri vahshaton ka sabab kaun samjhe ki main gum-shuda qafila chahta huun"
"anasir ki ghani zanjir hai so ye hasti ki ik ta.abir hai"
"tumhari yaad ka marham banam-e-dil kar duun tamam hijr ke zakhmon ko mundamil kar duun"
"mujhe shak hai hone na hone pe 'khalid' agar huun to apna pata chahta huun"
kahin raanjhaa, kahin majnun huaa
vajud-e-ishq aalamgir hai
mujhe shak hai hone na hone pe 'khaalid'
agar huun to apnaa pataa chaahtaa huun
dasht-e-junun se aa gae shahr-e-khirad mein ham
dil ko magar ye saaneha achchhaa nahin lagaa
Tapak ke dida-e-nam se sadaaein detaa hai
jo ek harf-e-tamannaa dil-e-tabaah mein thaa
miri vahshaton kaa sabab kaun samjhe
ki main gum-shuda qaafila chaahtaa huun
anaasir ki ghani zanjir hai
so ye hasti ki ik taabir hai
Ghazalغزل
chashm ko saunpi gai khidmat-e-khvaab
چشم کو سونپی گئی خدمت خواب دل پہ طاری ہے عجب حالت خواب خواب اب کے نہ حقیقت ہو جائے اب کے ایسی ہے مری شدت خواب میں نے پڑھ لی ہیں تری بھی آنکھیں صرف مجھ پر نہ لگا تہمت خواب تجھ کو مژدہ ہو مری آنکھ کہ اب مجھ میں باقی نہ رہی ہمت خواب خواب مخفی ہی رہے سب سے یہاں کون کرتا ہے بھلا عزت خواب میری آنکھوں میں گہر ہیں کتنے مجھ کو حاصل ہے بہت دولت خواب تم کہ جلوت سے گریزاں ہو بہت اب تو آ جاؤ کہ ہے خلوت خواب اس کے پہرے ہیں مری آنکھوں پر اس کو معلوم ہے کیا قوت خواب کتنا بے خواب کیا ہے تو نے چھوڑ پیچھا مرا اے آفت خواب بس کلیجہ ہی چبا جاتی ہے کتنی خونخوار ہے یہ وحشت خواب کائنات اور حیات اے خالدؔ خواب میں جیسے کوئی ساعت خواب
in dinon shaam aise aati hai
ان دنوں شام ایسے آتی ہے موج خوں میں نہا کے جاتی ہے ایک صحرا مجھے بلاتا ہے ایک وحشت گلے لگاتی ہے پہلے ہم دھوپ میں جھلستے تھے اب تو یہ چھاؤں بھی جلاتی ہے کتنی معصوم ہے وفا اپنی بے وفائی ہنسی اڑاتی ہے غیر کی بات اس سے کیوں پوچھی اس کی سچائی اب رلاتی ہے کتنے عشوے ہیں اک محبت کے کتنے پہلو سے آزماتی ہے ایک دن اعتبار ٹوٹا تھا اب تو ہر چیز ٹوٹ جاتی ہے خواب آنکھوں میں جب بھی آتا ہے ایک تعبیر منہ چڑھاتی ہے تیر کیسا تھا جانے اے خالدؔ روح زخموں سے چھٹپٹاتی ہے
sab log shaam hote hi jab apne ghar gae
سب لوگ شام ہوتے ہی جب اپنے گھر گئے صحرا کو ہم بھی شہر سے پھر لوٹ کر گئے اچھے دنوں کی آس میں جانے کدھر گئے جتنے تھے میرے خواب سہانے بکھر گئے موسیٰ جو بن چلے تھے عوامی خطاب میں ساحر کی رسیوں سے وہی لوگ ڈر گئے گہرائی ناپنے میں تھے کچھ لوگ منہمک کچھ لوگ پانیوں میں بلا خوف اتر گئے اہل جنوں کی جب نہ رہی چاک دامنی شاہان خوش لباس سے رشتے سنور گئے ایسا مجسمہ تھا وہ خوش پیرہن کہ بس ننگے غریب بچے وہیں پر ٹھہر گئے اے خاک ہند بول کہ تو جانتی ہے سب کچھ تو بتا کہاں مرے لعل و گہر گئے کہتے ہیں ان سے پہلے یہ گلشن تھا خار زار وہ کون لوگ تھے جو یہاں سے گزر گئے جس کے لیے خرد کو تھی سردار کی تلاش اہل جنوں وہ کام سر دار کر گئے خود اپنے احتساب کی فرصت کہاں ملی کچھ بھی ہوا تو غیروں پہ الزام دھر گئے لشکر کو جان دے کے ملا بھی تو کیا ملا فتح و ظفر کے تاج تو شاہوں کے سر گئے میں نے کہا مطالبہ کوئی نہیں مرا کہنے لگے کہ آپ تو بالکل سدھر گئے
fusun-saaz tilism-e-shaam tumhaare naam
فسون ساز طلسم شام تمہارے نام وفور شوق خمار جام تمہارے نام زمین دل جو ہوئی تمام تمہارے نام یہ حرف لفظ نوا کلام تمہارے نام ہیں جتنے رنگ تمام رنگ تمہارے ہیں رہے سدا یہ دھنک نظام تمہارے نام بہت سے نام ہیں حسن کے مگر اصل میں ازل سے حسن کے سارے نام تمہارے نام بلاؤں کی تو بس ابتدا ہیں قیامتیں بلاؤں کا مگر اختتام تمہارے نام
miraa vajud usi ki visaal-gaah mein thaa
مرا وجود اسی کی وصال گاہ میں تھا اسی کا ورد مرے دل کی خانقاہ میں تھا تمہارے قول و قسم پر فریب کیا کھاتا تمہارا طرز عمل بھی مری نگاہ میں تھا حروف مکر ترے لب پہ تھے مگر ظالم مجھے فریب بھی کھانا وفا کی راہ میں تھا تمام سنگ دلی یا کہ پھر غرور و حشم کچھ اور اس کے سوا بھی جہاں پناہ میں تھا ٹپک کے دیدۂ نم سے صدائیں دیتا ہے جو ایک حرف تمنا دل تباہ میں تھا مجھے تو راس اے خالدؔ یہی زمیں آئی یہ اور بات مرا ذکر مہر و ماہ میں تھا
dil thaa dulhaa, duniyaa dulhan
دل تھا ،دولہا دنیا دلہن پہلی ہی رتیا ہو گئی ان بن میں مرلی دھر ،میں من موہن تو ہے رادھا، تو ہے پدمن میں ہوں سادھو، تو ہے آسن میں ہوں سپیرا، تو ہے ناگن من ہے جھیلم تن سندرون تو کشمیرن، تو بنگالن میرا تیرا کیسا بندھن میں ٹوٹا دل، تو ہے دھڑکن تجھ سے چپکوں تجھ سے لپٹوں میں ہوں ناگ اور تو ہے چندن چندا جیسا مکھڑا تیرا ندیا ندیا تیرا جوبن تجھ کو دیکھوں، خود کو دیکھوں تو ہے جیسے کوئی درپن





