SHAWORDS
Khan Rizwan

Khan Rizwan

Khan Rizwan

Khan Rizwan

poet
8Shayari
22Ghazal

Popular Shayari

8 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

زمیں سے آسماں تک کوئی استعارہ نہیں کسی کے ہم نہیں ہیں اور کوئی ہمارا نہیں بھنور بدن سے کچھ اس طرح ہم الجھ بیٹھے نکل کے جائیں کدھر کوئی بھی کنارا نہیں اسی کو خواب ہوس میں ہیں دیکھتی آنکھیں ہمارے پاس کوئی اور ماہ پارہ نہیں وہ چاہتا ہے کہ ہم دسترس میں اس کی رہیں کسی کا ہو کے رہیں یہ اسے گوارا نہیں وجود جاں کے سوا ملکیت نہیں کچھ بھی اسی سبب سے مرا کوئی گوشوارا نہیں چلو کہ کرتے ہیں تخلیق اک نئی دنیا کوئی نصیب کا اپنے یہاں ستارہ نہیں

zamin se aasmaan tak koi istiaara nahin

غزل · Ghazal

حصار غم سے جو نکلے بھی تو کدھر آئے بہت ملال ہوا لوٹ کے جو گھر آئے دکھائی کچھ نہ دے لیکن مری نگاہوں کو ترے جمال کا منظر فقط نظر آئے تمہارے در سے گزر جاؤں اور خبر بھی نہ ہو مرے سفر میں اک ایسی بھی رہ گزر آئے تمام عمر میں زد میں رہا ہوں راتوں کی مرے خدا مرے حصے کی اب سحر آئے

hisaar-e-gham se jo nikle bhi to kidhar aae

غزل · Ghazal

دن گزرے گا رات کا منظر آئے گا شہر جنوں میں پھر وہ خود سر آئے گا ساری عمر گزر جائے گی تب شاید عمر کے آخر حصے میں گھر آئے گا روٹھ کے مجھ سے جانے والا شام ڈھلے بن کر خواب مری پلکوں پر آئے گا اچھے دن کی آس لگائے بیٹھے ہیں جانے کب پھر دن وہ بہتر آئے گا نین چرا کر پھیر کے منہ جانے والا خواب میں آخر میرے شب بھر آئے گا لکھ لکھ کر ساری دنیا تھک جائے گا مجھ کو لکھنا تب پانی پر آنے گا

din guzregaa raat kaa manzar aaegaa

غزل · Ghazal

ایک مدت سے بہت چیخ رہا ہے مجھ میں درد فرقت کا کوئی مارا ہوا ہے مجھ میں کیسے کہہ دوں کہ نہیں خانۂ دل میں کوئی روز اول سے مکیں میرا خدا ہے مجھ میں کوئی پر شور بیاباں کی صدا ہے مجھ میں میں تعلق کو نبھانے کا ہنر جانتا ہوں پھر بھی روٹھا ہوا ہم راز مرا ہے مجھ میں کیسے میں حال دل زار بتاؤں سب کو اک عجب طرح کا طوفان بپا ہے مجھ میں

ek muddat se bahut chikh rahaa hai mujh mein

غزل · Ghazal

اب اداسی ہی اداسی ہے مقدر اپنا جانے کس راہ میں گم ہو گیا لشکر اپنا دل کے ہونے کا پتا اب نہیں لگتا ہے ہمیں جسم و جاں جیسے ہوا سارا ہے پتھر اپنا نور ایمان سے روشن ہے وجود آدم عکس ایمان سے سینہ تھا منور اپنا راس دنیا مجھے آئی ترے ہونے سے مگر تیرا غم ہی تو رہا آج بھی رہبر اپنا کی ہے سرگوشی سر شام مرے دل نے پھر اس لیے ہم نے لپیٹا نہیں بستر اپنا

ab udaasi hi udaasi hai muqaddar apnaa

غزل · Ghazal

اب نہ کیجے خواہش برگ و ثمر کی جستجو چھوڑیئے کشتی بنانے کے ہنر کی جستجو عمر رفتہ جا کسی دیوار کے سائے میں بیٹھ بے سبب کی خواہشیں ہیں اور گھر کی جستجو بے گھری کے دور پر آشوب میں بھی جانے کیوں ہے سبھی کے دل میں بس دیوار و در کی جستجو قربتوں کے ساتھ جینے کا ہنر آیا نہ پھر اب کہاں مجھ کو کسی بھی ہم سفر کی جستجو ایک لمحہ کو بھی حاصل ہے سکون دل کہاں پھر بھی دل کو ہے مرے شاخ شجر کی جستجو اب شکستہ خواب پلکوں پر نہیں آتے مری مجھ کو بھی رضواںؔ نہیں اب چشم تر کی جستجو

ab na kiije khvaahish-e-barg-o-samar ki justuju

Similar Poets