SHAWORDS
Khurshid Rabbani

Khurshid Rabbani

Khurshid Rabbani

Khurshid Rabbani

poet
18Sher
18Shayari
14Ghazal

Sherشعر

See all 18

Popular Sher & Shayari

36 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

saae ko dhuup dhuup ko saayaa banaa liyaa

سائے کو دھوپ دھوپ کو سایہ بنا لیا اک لمحۂ وصال نے کیا کیا بنا لیا اک شہر نا شناس میں جانے کی دیر تھی بیگانگی نے مجھ کو تماشا بنا لیا آوارگان شوق کا رستے میں تھا ہجوم میں نے مگر ہجوم میں رستا بنا لیا خوابوں کی میں نے ایک عمارت بنائی اور یادوں کا اس میں ایک دریچہ بنا لیا اتنی سی بات ہے کہ اسے مل نہیں سکا اس نے بڑھا کے بات کو جھگڑا بنا لیا

غزل · Ghazal

suraj ne jab shab kaa labaada pahan liyaa thaa

سورج نے جب شب کا لبادہ پہن لیا تھا ہر اک شے نے اپنا سایہ پہن لیا تھا اپنا عریاں جسم چھپانے کی کوشش میں تیز ہوا نے پتا پتا پہن لیا تھا ماتمی کپڑے پہن لیے تھے میری زمیں نے اور فلک نے چاند ستارہ پہن لیا تھا سارا شہر شریک ہوا تھا اس کے دکھ میں جس دن اس نے غم کا لمحہ پہن لیا تھا مایوسی کے عالم میں بھی اے خورشیدؔ ہم نے اک امید کا رستہ پہن لیا تھا

غزل · Ghazal

koi rusvaai hai na shohrat hai

کوئی رسوائی ہے نہ شہرت ہے یہ محبت ہے یا کرامت ہے شوق میرا نہیں جنوں انگیز سو بیاباں کو مجھ سے وحشت ہے رنگ کیا کیا ہیں زیر بند قبا در و دیوار تک کو حیرت ہے وہ تغافل شعار کیا جانے عشق تو حسن کی ضرورت ہے میرے خورشید خوش گمان نہ ہو مسکرانا تو اس کی عادت ہے

غزل · Ghazal

jab aaftaab ghar pe bulaayaa thaa shaam ne

جب آفتاب گھر پہ بلایا تھا شام نے کیا کیا دیے تھے جن کو جلایا تھا شام نے کیا کیا خوشی تھی وعدۂ ماہ تمام کی گھر کو بہشت زار بنایا تھا شام نے کیا کیا تھے خواب رات جو تعبیر ہو گئے کیا کیا دلوں میں حشر اٹھایا تھا شام نے کیا کیا اڑی تھی گردش دوراں کے دل میں خاک جب رت جگے سے ہاتھ ملایا تھا شام نے کیا کیا گماں مہکنے لگے تھے پس خیال جب مسکرا کے جام اٹھایا تھا شام نے کیا کیا سحر نے پھول کھلائے پس شفق کیا کیا دیار شب کو سجایا تھا شام نے

غزل · Ghazal

salib-e-dard pe vaaraa gayaa thaa kyuun mujh ko

صلیب درد پہ وارا گیا تھا کیوں مجھ کو غم فراق سے مارا گیا تھا کیوں مجھ کو کسی خیال کسی خواب کے جزیرے پر تمام عمر گزارا گیا تھا کیوں مجھ کو پلٹ رہا تھا در خواب سے جو خالی ہاتھ تو بار بار پکارا گیا تھا کیوں مجھ کو کف گماں سے جو گرنا تھا عمر بھر کے لیے تو ایک پل کو سراہا گیا تھا کیوں مجھ کو اگر نہیں تھا یہاں کوئی منتظر میرا تو پھر فلک سے اتارا گیا تھا کیوں مجھ کو کسی نے میری طرف دیکھنا نہ تھا خورشیدؔ تو بے سبب ہی سنوارا گیا تھا کیوں مجھ کو

غزل · Ghazal

tire firaaq mein jo aankh se ravaan huaa hai

ترے فراق میں جو آنکھ سے رواں ہوا ہے وہ اشک خوں ہی مرے غم کا ترجماں ہوا ہے ہے جانے کیا پس دیوار آئینہ جس پر یقین کر کے بھی دل وقف صد گماں ہوا ہے بریدہ شاخ شجر کا شکستہ پتوں کا ترے سوا بھی کوئی موجۂ خزاں ہوا ہے ذرا سی دیر کو اس نے پلٹ کے دیکھا تھا ذرا سی بات کا چرچا کہاں کہاں ہوا ہے بچھڑ کے تجھ سے تھا خورشیدؔ کا ٹھکانہ کیا خوشا نصیب شب غم کا آستاں ہوا ہے

Similar Poets