SHAWORDS
Khushbir Singh Shaad

Khushbir Singh Shaad

Khushbir Singh Shaad

Khushbir Singh Shaad

poet
36Shayari
27Ghazal

Popular Shayari

36 total

Ghazalغزل

See all 27
غزل · Ghazal

چشم حیرت سارے منظر ایک جیسے ہو گئے دیکھ لے صحرا سمندر ایک جیسے ہو گئے جاگتی آنکھوں کو میری بارہا دھوکا ہوا خواب اور تعبیر اکثر ایک جیسے ہو گئے وقت نے ہر ایک چہرہ ایک جیسا کر دیا آرزو کے سارے پیکر ایک جیسے ہو گئے جب سے ہم کو ٹھوکریں کھانے کی عادت ہو گئی راستوں کے سارے پتھر ایک جیسے ہو گئے دیدۂ تر کی کہانی اب مکمل ہو گئی درد سب اشکوں میں گھل کر ایک جیسے ہو گئے شادؔ اتنی بڑھ گئی ہیں میرے دل کی وحشتیں اب جنوں میں دشت اور گھر ایک جیسے ہو گئے

chashm-e-hairat saare manzar ek jaise ho gae

غزل · Ghazal

ایک تو قیامت ہے اس مکاں کی تنہائی اس پہ مار ڈالے گی مجھ کو جاں کی تنہائی تم نے تو ستاروں کو دور ہی سے دیکھا ہے تم سمجھ نہ پاؤگے آسماں کی تنہائی وہ ادھر اکیلا تھا ہم ادھر اکیلے تھے راستے میں حائل تھی درمیاں کی تنہائی پھر وہی چراغوں کا رفتہ رفتہ بجھ جانا پھر وہی سکوت شب پھر وہ جاں کی تنہائی دشت میں بھی کچھ دن تک وحشتیں تو ہوتی ہیں راس آنے لگتی ہے پھر وہاں کی تنہائی کوئی بھی یقیں دل کو شادؔ کر نہیں سکتا روح میں اتر جائے جب گماں کی تنہائی

ek to qayaamat hai is makaan ki tanhaai

غزل · Ghazal

شام تک پھر رنگ خوابوں کا بکھر جائے گا کیا رائگاں ہی آج کا دن بھی گزر جائے گا کیا ڈھونڈنا ہے گھپ اندھیرے میں مجھے اک شخص کو پوچھنا سورج ذرا مجھ میں اتر جائے گا کیا مانتا ہوں گھٹ رہا ہے دم ترا اس حبس میں گر یہی جینے کی صورت ہے تو مر جائے گا کیا عین ممکن ہے بجا ہوں تیرے اندیشے مگر دیکھ کر اب اپنے سائے کو بھی ڈر جائے گا کیا سوچ لے پرواز سے پہلے ذرا پھر سوچ لے ساتھ لے کر یہ شکستہ بال و پر جائے گا کیا ایک ہجرت جسم نے کی ایک ہجرت روح نے اتنا گہرا زخم آسانی سے بھر جائے گا کیا

shaam tak phir rang khvaabon kaa bikhar jaaegaa kyaa

غزل · Ghazal

ہم اس دیار کے اس خاکداں کے تھے ہی نہیں وہیں پہ آ کے بسے ہیں جہاں کے تھے ہی نہیں تھے جس کا مرکزی کردار ایک عمر تلک پتہ چلا کہ اسی داستاں کے تھے ہی نہیں سفر سے لوٹ کے حیرت ہوئی پرندے کو یہ خار و خس تو مرے آشیاں کے تھے ہی نہیں ہر ایک رنگ میں دیکھا ہے اس کو آنکھوں نے یہ رنگ پہلے کبھی آسماں کے تھے ہی نہیں ہمیں بہار کے موسم میں لے اڑی ہے ہوا وہ برگ زرد ہیں ہم جو خزاں کے تھے ہی نہیں اسی لیے نہیں رکھا حساب سانسوں کا کہ مسئلے کبھی سود و زیاں کے تھے ہی نہیں تلاش کرتے ہو کیوں شادؔ گزرے لمحوں کو وہ راہرو تو کسی کارواں کے تھے ہی نہیں

ham is dayaar ke is khaak-daan ke the hi nahin

غزل · Ghazal

وحشتیں بھی کتنی ہیں آگہی کے پیکر میں جل رہا ہے سورج بھی روشنی کے پیکر میں رات میری آنکھوں میں کچھ عجیب چہرے تھے اور کچھ صدائیں تھیں خامشی کے پیکر میں ہر طرف سرابوں کے کچھ حسین منظر تھے اور میں بھی حیراں تھا تشنگی کے پیکر میں میں نے تو تصور میں اور عکس دیکھا تھا فکر مختلف کیوں ہے شاعری کے پیکر میں روپ رنگ ملتا ہے خد و خال ملتے ہیں آدمی نہیں ملتا آدمی کے پیکر میں کیا بتائیں ہم دل پر شادؔ کیا گزرتی ہے غم چھپانا پڑتا ہے جب خوشی کے پیکر میں

vahshatein bhi kitni hain aagahi ke paikar mein

غزل · Ghazal

سمندر یہ تری خاموشیاں کچھ اور کہتی ہیں مگر ساحل پہ ٹوٹی کشتیاں کچھ اور کہتی ہیں ہمارے شہر کی آنکھوں نے منظر اور دیکھا تھا مگر اخبار کی یہ سرخیاں کچھ اور کہتی ہیں ہم اہل شہر کی خواہش کہ مل جل کر رہیں لیکن امیر شہر کی دلچسپیاں کچھ اور کہتی ہیں

samundar ye tiri khaamoshiyaan kuchh aur kahti hain

Similar Poets