"shaam hote hi bujh gaya 'ajiz' ek muflis ka khvab tha na raha"

Laiq Aajiz
Laiq Aajiz
Laiq Aajiz
Sherشعر
See all 11 →shaam hote hi bujh gaya 'ajiz'
شام ہوتے ہی بجھ گیا عاجزؔ ایک مفلس کا خواب تھا نہ رہا
khetiyan chhalon ki hoti thiin lahu ugte the
کھیتیاں چھالوں کی ہوتی تھیں لہو اگتے تھے کتنا زرخیز تھا وہ در بدری کا موسم
qalam uTha.un ki bachchon ki zindagi dekhun
قلم اٹھاؤں کہ بچوں کی زندگی دیکھوں پڑا ہوا ہے دوراہے پہ اب ہنر میرا
ai mire paanv ke chhalo mire ham-rah raho
اے مرے پاؤں کے چھالو مرے ہمراہ رہو امتحاں سخت ہے تم چھوڑ کے جاتے کیوں ہو
dushmanon ko dost bhaa.i ko sitamgar kah diya
دشمنوں کو دوست بھائی کو ستم گر کہہ دیا لوگ کیوں برہم ہیں کیا شیشے کو پتھر کہہ دیا
vo dhuup thi ki zamin jal ke raakh ho jaati
وہ دھوپ تھی کہ زمیں جل کے راکھ ہو جاتی برس کے اب کے بڑا کام کر گیا پانی
Popular Sher & Shayari
22 total"khetiyan chhalon ki hoti thiin lahu ugte the kitna zarkhez tha vo dar-badari ka mausam"
"qalam uTha.un ki bachchon ki zindagi dekhun paDa hua hai dorahe pe ab hunar mera"
"ai mire paanv ke chhalo mire ham-rah raho imtihan sakht hai tum chhoD ke jaate kyuun ho"
"dushmanon ko dost bhaa.i ko sitamgar kah diya log kyuun barham hain kya shishe ko patthar kah diya"
"vo dhuup thi ki zamin jal ke raakh ho jaati baras ke ab ke baDa kaam kar gaya paani"
khetiyaan chhaalon ki hoti thiin lahu ugte the
kitnaa zarkhez thaa vo dar-badari kaa mausam
ai mire paanv ke chhaalo mire ham-raah raho
imtihaan sakht hai tum chhoD ke jaate kyuun ho
dushmanon ko dost bhaai ko sitamgar kah diyaa
log kyuun barham hain kyaa shishe ko patthar kah diyaa
mein chaahtaa huun ta'alluq ke darmiyaan parda
vo chaahtaa hai mire haal par nazar karnaa
shaam hote hi bujh gayaa 'aajiz'
ek muflis kaa khvaab thaa na rahaa
kirnon ko vo baazaar mein bech aayaa hai
shaayad ki kai din se thaa bhukaa suraj
Ghazalغزل
tark-e-jaam-o-subu na kar paae
ترک جام و سبو نہ کر پائے اس لیے ہم وضو نہ کر پائے وقت آخر بھی حضرت ناصح اپنا منہ قبلہ رو نہ کر پائے اس کی رحمت کے سائبان میں تھا میرا شک بھی عدو نہ کر پائے مصلحت کی کھڑی تھی جو دیوار دور اس کو کبھو نہ کر پائے عمر بھر دوسروں کی فکر رہی اپنا دامن رفو نہ کر پائے ہائے مجبوریاں کہ اس کے حضور پیش اپنا لہو نہ کر پائے کر لی کمرے میں خودکشی عاجزؔ اس سے جب گفتگو نہ کر پائے
mujh mein us mein hijaab thaa na rahaa
مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا پہلے جو اضطراب تھا نہ رہا کفر ہی دین بن گیا میرا کفر میں جو حجاب تھا نہ رہا لذت صبح و شام بھول گئے دل جو بھن کر کباب تھا نہ رہا بے حیائی کی اوڑھ لی چادر پہلے وہ آب آب تھا نہ رہا اس نے اب ساتھ میرا چھوڑ دیا عشق میں کامیاب تھا نہ رہا روز و شب چین سے گزرتے ہیں وقت میں پیچ و تاب تھا نہ رہا ہو گئے اس کے در کے پہرے دار میرا جینا عذاب تھا نہ رہا شام ہوتے ہی بجھ گیا عاجزؔ ایک مفلس کا خواب تھا نہ رہا
ek duniyaa banaa gai miTTi
ایک دنیا بنا گئی مٹی جس گھڑی روح پا گئی مٹی جس نے سوچا کہ روند دیں اس کو آخر اک دن چبا گئی مٹی میں نے جتنے بھی بیج بوئے تھے بانجھ عورت تھی کھا گئی مٹی تشنگی تھی کنویں کی قیمت میں بدلی چھائی گرا گئی مٹی سرخ رو ہے وہ ساری دنیا میں ساتھ جس کا نبھا گئی مٹی سب قبالے اٹھا کے لے آئی کسی کی ہے یہ بتا گئی مٹی کس نے کب کس کو کیسے قتل کیا شکل سب کی چھپا گئی مٹی
us husn-e-be-niyaaz ke kuchh martabe the aur
اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اور میری اداس راتوں کے بجھتے دیے تھے اور زخموں کو نوک خار کی لذت پسند تھی ویسے تمہارے گھر کے کئی راستے تھے اور میں ہی نہیں تھا کھوکھلے پیڑوں کے درمیاں مجھ جیسے نا شناس وہاں پر کھڑے تھے اور اس سے بچھڑ کے رونے کی فرصت نہیں ملی قرطاس زندگی پہ کئی غم لکھے تھے اور دامن میں جو گہر ہیں نتیجے ہیں عشق کے پہلے جو میرے پاس تھے وہ آئنے تھے اور ساقی بچا لی آبرو تو نے خود اپنی آج ورنہ مری منظر میں کئی میکدے تھے اور جس کے اک ایک مصرعے میں رہتا تھا اس کا ذکر عاجزؔ وہ شعر اور تھے وہ قافیے تھے اور
mujhe to jo bhi milaa hai 'azaab ki surat
مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورت مری حیات ہے اک تشنہ خواب کی صورت ہواؤ دل کی طرف احتیاط سے جانا وجود امن ہے قائم حباب کی صورت ملامتیں غم و آلام فکر مایوسی یہ زندگی ہے شکستہ کتاب کی صورت خود اپنی کرگسی فطرت سے ہو گئے رسوا وگرنہ تم بھی اٹھے تھے عقاب کی صورت کبھی فلک تو سمندر کبھی اٹھا لایا پسند دونوں کو ہے آفتاب کی صورت شگفتگی کی جگہ جھریوں نے لے لی ہے ہمارا چہرہ تھا عاجزؔ گلاب کی صورت
sabaa ye baargah-e-husn mein khabar karnaa
صبا یہ بارگہہ حسن میں خبر کرنا اسے تو چاہئے ذروں کو بھی قمر کرنا میں چاہتا ہوں تعلق کے درمیاں پردہ وہ چاہتا ہے مرے حال پر نظر کرنا مرے خدا مری دنیا ہی ختم کر دینا اگر دعاؤں کو میری تو بے اثر کرنا یہ دیکھ لینا محلے کے لوگ کیسے ہیں پھر اس کے بعد ہی تعمیر اپنا گھر کرنا تمہارا کام ہے کیچڑ اچھالنا لیکن ہمارے ظرف میں شامل ہے درگزر کرنا مری حیات سے ہے پیار اس لیے عاجزؔ وہ چاہتا ہے مری عمر مختصر کرنا





