SHAWORDS
Laiq Aajiz

Laiq Aajiz

Laiq Aajiz

Laiq Aajiz

poet
11Sher
11Shayari
12Ghazal

Sherشعر

See all 11

Popular Sher & Shayari

22 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

tark-e-jaam-o-subu na kar paae

ترک جام و سبو نہ کر پائے اس لیے ہم وضو نہ کر پائے وقت آخر بھی حضرت ناصح اپنا منہ قبلہ رو نہ کر پائے اس کی رحمت کے سائبان میں تھا میرا شک بھی عدو نہ کر پائے مصلحت کی کھڑی تھی جو دیوار دور اس کو کبھو نہ کر پائے عمر بھر دوسروں کی فکر رہی اپنا دامن رفو نہ کر پائے ہائے مجبوریاں کہ اس کے حضور پیش اپنا لہو نہ کر پائے کر لی کمرے میں خودکشی عاجزؔ اس سے جب گفتگو نہ کر پائے

غزل · Ghazal

mujh mein us mein hijaab thaa na rahaa

مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہا پہلے جو اضطراب تھا نہ رہا کفر ہی دین بن گیا میرا کفر میں جو حجاب تھا نہ رہا لذت صبح و شام بھول گئے دل جو بھن کر کباب تھا نہ رہا بے حیائی کی اوڑھ لی چادر پہلے وہ آب آب تھا نہ رہا اس نے اب ساتھ میرا چھوڑ دیا عشق میں کامیاب تھا نہ رہا روز و شب چین سے گزرتے ہیں وقت میں پیچ و تاب تھا نہ رہا ہو گئے اس کے در کے پہرے دار میرا جینا عذاب تھا نہ رہا شام ہوتے ہی بجھ گیا عاجزؔ ایک مفلس کا خواب تھا نہ رہا

غزل · Ghazal

ek duniyaa banaa gai miTTi

ایک دنیا بنا گئی مٹی جس گھڑی روح پا گئی مٹی جس نے سوچا کہ روند دیں اس کو آخر اک دن چبا گئی مٹی میں نے جتنے بھی بیج بوئے تھے بانجھ عورت تھی کھا گئی مٹی تشنگی تھی کنویں کی قیمت میں بدلی چھائی گرا گئی مٹی سرخ رو ہے وہ ساری دنیا میں ساتھ جس کا نبھا گئی مٹی سب قبالے اٹھا کے لے آئی کسی کی ہے یہ بتا گئی مٹی کس نے کب کس کو کیسے قتل کیا شکل سب کی چھپا گئی مٹی

غزل · Ghazal

us husn-e-be-niyaaz ke kuchh martabe the aur

اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اور میری اداس راتوں کے بجھتے دیے تھے اور زخموں کو نوک خار کی لذت پسند تھی ویسے تمہارے گھر کے کئی راستے تھے اور میں ہی نہیں تھا کھوکھلے پیڑوں کے درمیاں مجھ جیسے نا شناس وہاں پر کھڑے تھے اور اس سے بچھڑ کے رونے کی فرصت نہیں ملی قرطاس زندگی پہ کئی غم لکھے تھے اور دامن میں جو گہر ہیں نتیجے ہیں عشق کے پہلے جو میرے پاس تھے وہ آئنے تھے اور ساقی بچا لی آبرو تو نے خود اپنی آج ورنہ مری منظر میں کئی میکدے تھے اور جس کے اک ایک مصرعے میں رہتا تھا اس کا ذکر عاجزؔ وہ شعر اور تھے وہ قافیے تھے اور

غزل · Ghazal

mujhe to jo bhi milaa hai 'azaab ki surat

مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورت مری حیات ہے اک تشنہ خواب کی صورت ہواؤ دل کی طرف احتیاط سے جانا وجود امن ہے قائم حباب کی صورت ملامتیں غم و آلام فکر مایوسی یہ زندگی ہے شکستہ کتاب کی صورت خود اپنی کرگسی فطرت سے ہو گئے رسوا وگرنہ تم بھی اٹھے تھے عقاب کی صورت کبھی فلک تو سمندر کبھی اٹھا لایا پسند دونوں کو ہے آفتاب کی صورت شگفتگی کی جگہ جھریوں نے لے لی ہے ہمارا چہرہ تھا عاجزؔ گلاب کی صورت

غزل · Ghazal

sabaa ye baargah-e-husn mein khabar karnaa

صبا یہ بارگہہ حسن میں خبر کرنا اسے تو چاہئے ذروں کو بھی قمر کرنا میں چاہتا ہوں تعلق کے درمیاں پردہ وہ چاہتا ہے مرے حال پر نظر کرنا مرے خدا مری دنیا ہی ختم کر دینا اگر دعاؤں کو میری تو بے اثر کرنا یہ دیکھ لینا محلے کے لوگ کیسے ہیں پھر اس کے بعد ہی تعمیر اپنا گھر کرنا تمہارا کام ہے کیچڑ اچھالنا لیکن ہمارے ظرف میں شامل ہے درگزر کرنا مری حیات سے ہے پیار اس لیے عاجزؔ وہ چاہتا ہے مری عمر مختصر کرنا

Similar Poets