main dauD dauD ke khud ko pakaD ke laataa huun
tumhaare ishq ne bachchaa banaa diyaa hai mujhe

Liaqat Jafri
Liaqat Jafri
Liaqat Jafri
Popular Shayari
18 totalmain bahut jald lauT aaungaa
tum miraa intizaar mat karnaa
mire qabile mein taalim kaa rivaaj na thaa
mire buzurg magar takhtiyaan banaate the
jahaan jo thaa vahin rahnaa thaa us ko
magar ye log hijrat kar rahe hain
meri jaanib na baDhnaa ab mohabbat
main ab pahle se mushkil raastaa huun
vajud apnaa hai aur aap tai kareinge ham
kahaan pe honaa hai ham ko kahaan nahin honaa
main kuchh din se achaanak phir akelaa paD gayaa huun
nae mausam mein ik vahshat puraani kaaTti hai
lafz ko ilhaam maani ko sharar samjhaa thaa main
dar-haqiqat aib thaa jis ko hunar samjhaa thaa main
ham bhi ji bhar ke tujhe koste phirte lekin
ham tiraa lahja-e-be-baak kahaan se laaein
phir murattab kiye gae jazbaat
ishq ko ibtidaa mein rakkhaa gayaa
main aakhiri thaa jise sarfaraaz honaa thaa
mire hunar mein bhi kotaahiyaan nikal aaiin
haalaanki pahle saae se rahti thi kashmakash
ab apne bojh se hi dabaa jaa rahaa huun main
Ghazalغزل
اسی کے دم پہ تو یہ دوستی بچی ہوئی تھی ہمارے بیچ میں جو ہم سری بچی ہوئی تھی ہمارے بیچ میں اک پختگی بچی ہوئی تھی بچی ہوئی تھی مگر عارضی بچی ہوئی تھی اسی کے نور سے یہ روشنی بچی ہوئی تھی مرے نصیب میں جو تیرگی بچی ہوئی تھی اسی کے دم پہ منایا تھا اس نے جشن مرا کہ دشمنی میں بھی جو دوستی بچی ہوئی تھی کمال یہ تھا کہ ہم بحث ہار بیٹھے تھے ہمارے لہجے کی شائستگی بچی ہوئی تھی اگرچہ ختم تھے رشتے پڑوسیوں والے ہمارے بیچ میں ہمسائیگی بچی ہی تھی بدل چکا تھا وہ اپنا مزاج میرے لئے مگر دکھاوے کو اک بے رخی بچی ہوئی تھی اسی کے نور سے پر نور تھا یہ سارا جہاں ہماری آنکھ میں جو روشنی بچی ہوئی تھی اب اس مقام پہ پہونچا دیا تھا ہم نے عشق جنون ختم تھا دیوانگی بچی ہوئی تھی اسی نے جوڑ کے رکھا ہوا تھا رشتے کو ہمارے بیچ میں جو برہمی بچی ہوئی تھی اس ایک بات کی شرمندگی نے مار دیا مرے وجود تری تشنگی بچی ہوئی تھی عبور کر لیا صحرا تو پھر سے لوٹ آئے جنون باقی تھا آشفتگی بچی ہوئی تھی میں گاہے گاہے اسے یاد کر ہی لیتا تھا اسی بہانے مری زندگی بچی ہوئی تھی اسی کے دم پہ پڑھے بھی گئے سنے بھی گئے ہمارے لہجے میں جو چاشنی بچی ہوئی تھی زمانے تیری ہنر کوش رزم کے ہاتھوں میں لٹ چکا تھا مگر شاعری بچی ہوئی تھی وہ کون راز تھا جس کو بیان کر نہ سکے وہ کون بات تھی جو جعفریؔ بچی ہوئی تھی
usi ke dam pe to ye dosti bachi hui thi
رونق دامن صد چاک کہاں سے لائیں شہر میں دشت کی پوشاک کہاں سے لائیں حالت جذب میں ادراک کہاں سے لائیں زہر کے واسطے تریاک کہاں سے لائیں گرد ہائے خس و خاشاک کہاں سے لائیں اس قدر گردش افلاک کہاں سے لائیں پانی لے آئے ہیں اب ایک نئی الجھن ہے کوزہ گر تیرے لیے خاک کہاں سے لائیں چہرہ مہرہ تو بہرحال دمک ہی لے گا تابش چشمۂ ناک کہاں سے لائیں تجھ کو بالکل نہیں احساس ہنر اے دریا اب ترے واسطے تیراک کہاں سے لائیں خاک زادے ہیں سو بس ایک ہی رنگت ہے نصیب خود میں صد رنگیٔ افلاک کہاں سے لائیں ہم بھی جی بھر کے تجھے کوستے پھرتے لیکن ہم ترا لہجۂ بے باک کہاں سے لائیں
raunaq-e-daaman-e-sad-chaak kahaan se laaein
کسی گرداب کی پھینکی پڑی ہے لب ساحل جو اک کشتی پڑی ہے حقیقت میں وہی سیدھی پڑی ہے مجھے اک چال جو الٹی پڑی ہے سفر الجھا دئے ہیں اس نے سارے مرے پیروں میں جو تیزی پڑی ہے وہ ہنگامہ گزر جاتا ادھر سے مگر رستے میں خاموشی پڑی ہے مرے کانوں کی زد پر ہیں مناظر مری آنکھوں میں سرگوشی پڑی ہے ہوا ہے قتل بے داری کا جب سے یہ بستی رات دن سوئی پڑی ہے یہ مصرعہ میں ادھورا چھوڑتا ہوں مرے بستے میں اک تختی پڑی ہے پتنگ کٹنے کا باعث اور ہے کچھ اگرچہ ڈور بھی الجھی پڑی ہے ذرا کوئل کا پنجرہ کھل گیا تھا ابھی تک خوف سے سہمی پڑی ہے مکمل ایک دنیا اور بھی ہے جو اک دنیا کی ان دیکھی پڑی ہے بڑی بنجر تھی یہ کھیتی لیاقتؔ مگر کچھ روز سے سینچی پڑی ہے
kisi girdaab ki pheinki paDi hai
خامشی کو صدا میں رکھا گیا ایک جادو ہوا میں رکھا گیا چاک جاں سے اتار کر کوزہ صحن آب و ہوا میں رکھا گیا پھر مرتب کیے گئے جذبات عشق کو ابتدا میں رکھا گیا سنگ بنیاد تھی خلاؤں کی ایک پتھر ہوا میں رکھا گیا ایک کونپل سجائی اچکن پر ایک خنجر قبا میں رکھا گیا ایک دریا اٹھا کے لایا گیا دشت کرب و بلا میں رکھا گیا مشتہر کی گئیں دعائیں بہت اور اثر بد دعا میں رکھا گیا مجھ کو تخلیق سے گزارا گیا اور خدا کی رضا میں رکھا گیا انکشافات ہو چکے سارے معجزے کو انا میں رکھا گیا
khaamushi ko sadaa mein rakkhaa gayaa
پڑے پڑے نئی زر خیزیاں نکل آئیں کٹے درخت میں پھر ٹہنیاں نکل آئیں اس آئنے میں تھا سرسبز باغ کا منظر چھوا جو میں نے تو دو تتلیاں نکل آئیں میں توڑ ڈالا گیا تو عمارت جاں میں کہاں کہاں سے مری چابیاں نکل آئیں میں آسمان پہ پہنچا تو لڑکھڑانے لگا بلندیوں میں عجب پستیاں نکل آئیں ٹھہر گئے تو میسر ہوئی نہ جائے اماں جو چل پڑے تو کئی بستیاں نکل آئیں وہی نصیب کہ میں شہریار جس سے بنا اسی نصیب میں تنگ دستیاں نکل آئیں مرے علاج کو اللہ استقامت دے مرے مریض کی پھر پسلیاں نکل آئیں میں آسمان سے اترا زمین کی جانب زمیں سے میری طرف سیڑھیاں نکل آئیں وہی سوراخ جہاں چھپکلی کا ڈیرا تھا اسی سوراخ سے پھر چیونٹیاں نکل آئیں ابھی ابھی تو سنبھالا گیا تھا گرد و غبار حصار دشت میں پھر آندھیاں نکل آئیں سنبھال رکھا تھا امی نے جس کو موت تلک اسی کباڑ سے کچھ تختیاں نکل آئیں میں آخری تھا جسے سرفراز ہونا تھا مرے ہنر میں بھی کوتاہیاں نکل آئیں
paDe paDe nai zar-kheziyaan nikal aaiin
مسلسل اشک باری کر رہا تھا میں اپنی آبیاری کر رہا تھا مجھے وہ خواب پھر سے دیکھنا تھا میں خود پہ نیند طاری کر رہا تھا کئی دن تک تھا میری دسترس میں میں اب دریا کو جاری کر رہا تھا مجھے رک رک کے پنچھی دیکھتے تھے میں پتھر پر سواری کر رہا تھا گزرنا تھا بہت مشکل ادھر سے دریچہ چاند ماری کر رہا تھا کوئی ایٹم تھا میرے جسم و جاں میں میں جس کی تاب کاری کر رہا تھا سفینے سب کے سب غرقاب کر کے سمندر آہ و زاری کر رہا تھا مجھے فطرت بھی گھستی جا رہی تھی میں خود بھی ریگ ماری کر رہا تھا میری ڈیوٹی تھی خیموں کی حفاظت مگر میں آب داری کر رہا تھا ستارے ٹمٹمانا رک گئے تھے میں پھر اختر شماری کر رہا تھا مجھے بھڑنا تھا کس وحشی سے لیکن میں کس پاگل سے یاری کر رہا تھا بہت سے کام کرنے تھے لیاقتؔ جنہیں میں باری باری کر رہا تھا
musalsal ashk-baari kar rahaa thaa





