SHAWORDS
Mahmood Shaam

Mahmood Shaam

Mahmood Shaam

Mahmood Shaam

poet
7Sher
7Shayari
33Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 33
غزل · Ghazal

dinner pe aaj koi us saa aashnaa bhi na thaa

ڈنر پہ آج کوئی اس سا آشنا بھی نہ تھا وہ اس سے پہلے اگرچہ کہیں ملا بھی نہ تھا اسی نے آج بتایا مجھے کہ کون ہوں میں وہ جس کو آج سے پہلے میں جانتا بھی نہ تھا کہاں ہوں کیوں ہوں ہر اک سانس پوچھتی ہے مجھے کبھی میں اپنے سوالوں میں یوں گھرا بھی نہ تھا کسی کی میز پہ ہی رہ گئی نہ جانے کیوں وہ ڈائری کہ ابھی جس پہ کچھ لکھا بھی نہ تھا تمام شہر صداؤں کے اک بھنور میں ہے مرا مکان کبھی ایسے ڈولتا بھی نہ تھا مجھے نہ جانے وہ سینے سے کیوں لگائے پھرا میں کوئی گل بھی نہ تھا موجۂ ہوا بھی نہ تھا وہ جس کی دھن میں ہم اتوار کو بھی گھر نہ رہے ملا تو اپنی طرف شامؔ دیکھتا بھی نہ تھا

غزل · Ghazal

roz-o-shab ki shaakh se bichhDaa huaa pattaa huun main

روز و شب کی شاخ سے بچھڑا ہوا پتا ہوں میں وقت بھی اب ڈھونڈھتا ہے جس کو وہ لمحہ ہوں میں دل کے شیشے ٹوٹ جاتے ہیں مری آواز سے اک شکستہ ساز سے ابھرا ہوا نغمہ ہوں میں ہم نشینوں کو کبھی آتی نہیں ہے آنچ تک کتنی ٹھنڈی آگ ہے جس میں سدا جلتا ہوں میں زندگی کے شور میں سمٹے رہے ذرے مرے اک ذرا تنہا ہوا تو کس طرح بکھرا ہوں میں رنگتوں کا سیل تھا یا خوشبوؤں کی لہر تھی اب تلک اس حسن میں اس جھیل میں ڈوبا ہوں میں ان چمکتی شاہراہوں پر کسے اپنا کہوں شہر ہیں آباد اپنوں سے مگر تنہا ہوں میں شامؔ یوں تو اب خلاؤں میں ہیں اپنی منزلیں اور دیکھوں تو اسی دھرتی سے بے رشتہ ہوں میں

غزل · Ghazal

umr guzri ki tiri dhun mein chalaa thaa dariyaa

عمر گزری کہ تری دھن میں چلا تھا دریا جا بہ جا گھومتا ہے آج بھی پگلا دریا بنتی جاتی ہیں گہر کتنی ہی بھولی یادیں یہ مرا دل ہے کہ ٹھہرا ہوا گہرا دریا نہ کسی موج کا نغمہ ہے نہ گرداب کا رقص جانے کیا بات ہے خاموش ہے سارا دریا تھل کے سینے پہ پگھل جاتی ہے جب چاند کی برف دور تک ریت پہ بہتا ہے سنہرا دریا ہائے وہ رنگ بھرے پیار کے مسکن پتن ہائے وہ ناؤ سے رہ رہ کے لپٹتا دریا شامؔ آکاش پہ جب پھیلتا ہے دن کا لہو ڈوب جاتا ہے کسی سوچ میں بہتا دریا

غزل · Ghazal

zindagi jis se jaagti hai abhi

زندگی جس سے جاگتی ہے ابھی وہ کہانی تو ان کہی ہے ابھی راہ میں اور بھی میں کوہ گراں ایک دیوار ہی گری ہے ابھی جنبش لب ہی بن گئی طوفاں سینکڑوں حرف گفتنی ہے ابھی

غزل · Ghazal

TuuTe hain kaise khvaahishon ke aainon ko dekh

ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ پلکوں کی تہ میں بکھری ہوئی کرچیوں کو دیکھ میں ہوں ترا ہی عکس مرے رنگ پر نہ جا آنکھوں میں جھانک اپنی ہی تنہائیوں کو دیکھ یہ آسماں کے بدلے ہوئے رنگ غور کر ان موسموں کے بپھرے ہوئے تیوروں کو دیکھ سن تو در خیال پہ فردا کی دستکیں خود کا حصار توڑ کے جاتی رتوں کو دیکھ گلیوں میں گھومتی ہیں ہزاروں کہانیاں چہروں پہ نقش وقت کی پہنائیوں کو دیکھ اک اک پلک پہ چھائی ہے محرومیوں کی شام ضبط سخن کی آگ میں جلتے لبوں کو دیکھ کہتی ہے شامؔ کچھ تو مکانوں کی خامشی بے مدعا نہیں ہیں کھلے روزنوں کو دیکھ

غزل · Ghazal

phir ik saathi mujhe akelaa chhor gayaa

پھر اک ساتھی مجھے اکیلا چھور گیا آپ سدھارا اپنا سایا چھوڑ گیا اس کو کتنے پیڑ صدائیں دیتے تھے وہ تو سب کو یوں ہی بلاتا چھوڑ گیا اب تک میدانوں کے جسم چمکتے ہیں جانے کیسی مٹی دریا چھوڑ گیا لپٹ لپٹ کر اک دوجے سے روتے ہیں جن پتوں کو ہوا کا جھونکا چھوڑ گیا چاندنی شب تو جس کو ڈھونڈنے آئی ہے یہ کمرہ وہ شخص تو کب کا چھوڑ گیا چال تھی کتنی تیز بدلتے موسم کی کتنے ہی لمحوں کو سسکتا چھوڑ گیا ساری منڈیریں ویراں ویراں رہتی ہیں جب سے شامؔ نگر تو اپنا چھوڑ گیا

Similar Poets