SHAWORDS
Mashkoor Husain Yaad

Mashkoor Husain Yaad

Mashkoor Husain Yaad

Mashkoor Husain Yaad

poet
8Sher
8Shayari
5Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

umr guzri safar ke pahlu mein

عمر گزری سفر کے پہلو میں خوب سے خوب تر کے پہلو میں سانس لیتا ہے ذوق لا محدود خواہش بام و در کے پہلو میں شر کو کیا سمجھے یہ غبی مخلوق شر کہاں ہے بشر کے پہلو میں خوش نہ ہو آنسوؤں کی بارش پر برق ہے چشم تر کے پہلو میں اب ہمیں کیا کوئی سنبھالے گا ہم ہیں سیلاب زر کے پہلو میں فرش پر اس نے لی جو انگڑائی عرش آیا اتر کے پہلو میں عافیت سے بھی یادؔ خود کو بچاؤ عافیت ہے خطر کے پہلو میں

غزل · Ghazal

zamaana be-karaan thaa be-karaan ham ne nahin rakkhaa

زمانہ بے کراں تھا بے کراں ہم نے نہیں رکھا ترے غم سے ورا کوئی جہاں ہم نے نہیں رکھا ہمیشہ سامنے آئے مثال صبح رخشندہ کبھی مدھم اجالوں کا سماں ہم نے نہیں رکھا عطا کی اس ضو سے بزم ہر امکاں کو تابانی کبھی دل کو چراغ نیم جاں ہم نے نہیں رکھا رہے نشے میں لیکن انتہائے خاکساری سے کہ سر پر بے خودی کا آسماں ہم نے نہیں رکھا ہمارے آسماں کا ہر ستارہ سب پہ روشن ہے کسی زخم محبت کو نہاں ہم نے نہیں رکھا کیا ہے ضبط بھی تو درد کے طوفاں اٹھائے ہیں خموشی کو سکوت خونچکاں ہم نے نہیں رکھا ہمارا ہر سخن سیدھا اترتا ہے دل و جاں میں کوئی بھی خنجر غم ناتواں ہم نے نہیں رکھا

غزل · Ghazal

jab dida-e-binaa kaa havaala nahin miltaa

جب دیدۂ بینا کا حوالہ نہیں ملتا پھر کوئی بھی دنیا کا حوالہ نہیں ملتا وہ عالم بالا تو ترے دل میں مکیں ہے جس عالم بالا کا حوالہ نہیں ملتا اعلیٰ میں تو ادنیٰ کے حوالے ہی حوالے ادنیٰ ہی میں اعلیٰ کا حوالہ نہیں ملتا جس جان تمنا کے حوالے ہے مری جاں اس جان تمنا کا حوالہ نہیں ملتا یہ روح سوالات ہے یا کوئی مناجات کیا ملتا ہے بس کیا کا حوالہ نہیں ملتا ہم آج ہیں اور آج تو ہے کل سے بھی آگے اچھا ہے جو فردا کا حوالہ نہیں ملتا پیدا ہے تو پنہاں کے حوالوں سے بھرا ہے پنہاں سے تو پیدا کا حوالہ نہیں ملتا تو اپنے حوالے کی ہوا کھا کے ہی خوش رہ ہر آن حوالہ کا حوالہ نہیں ملتا بہتر ہے کہ اب خود سے جدا ہو کے بھی دیکھیں دریا میں تو دریا کا حوالہ نہیں ملتا مشکورؔ مری جان چلے آئے ہو تنہا تنہا کو تو تنہا کا حوالہ نہیں ملتا

غزل · Ghazal

yunhi fareb-e-nazar ki tanaab TuTti hai

یونہی فریب نظر کی طناب ٹوٹتی ہے قدم بڑھائیے موج سراب ٹوٹتی ہے جہاں چٹکتا ہے غنچہ زمین عالم پر وہیں پہ تشنگئ آفتاب ٹوٹتی ہے نقاب اٹھاؤ تو ہر شے کو پاؤ گے سالم یہ کائنات بطور حجاب ٹوٹتی ہے درون آب سنورتے ہیں صد حریم گہر کنار بحر جو محراب آب ٹوٹتی ہے مکاشفات کے ٹکڑے ہیں ذہن کے اوراق کتاب اترتی نہیں ہے کتاب ٹوٹتی ہے بس ایک آن میں کھلتا ہے قفل دریا کا بس ایک آن میں قید حباب ٹوٹتی ہے ہیں اس شکست میں خلق جدید کے اسرار حقیقت آج بھی ہمراہ خواب ٹوٹتی ہے کمال شے ہے کمر بھی حسینۂ غم کی جلو میں لے کے کئی انقلاب ٹوٹتی ہے

غزل · Ghazal

baaton ke nagar se aa rahe hain

باتوں کے نگر سے آ رہے ہیں ہم اپنے ہی گھر سے آ رہے ہیں لفظوں کے طلوع کر کے آفاق معنی کے سفر سے آ رہے ہیں خاموشیاں بھر کے تن بدن میں ہم برق و شرر سے آ رہے ہیں تاروں کے یہ جتنے قافلے ہیں امکان سحر سے آ رہے ہیں ان اشکوں کا دل سے کیا تعلق یہ شعلے جگر سے آ رہے ہیں بھیگے ہوئے غم میں سر سے پا تک دریائے ہنر سے آ رہے ہیں جتنے بھی ہیں لطف جاں کے موسم سب دیدۂ تر سے آ رہے ہیں یہ غم کے طیور بے تحاشا اک دل کے شجر سے آ رہے ہیں مشکورؔ ہیں کس خیال میں مست بے خوف و خطر سے آ رہے ہیں

Similar Poets