"aap se yaad aap ki achchhi aap to ham ko bhuul jaate hain"

Matin Niazi
Matin Niazi
Matin Niazi
Sherشعر
See all 27 →aap se yaad aap ki achchhi
آپ سے یاد آپ کی اچھی آپ تو ہم کو بھول جاتے ہیں
zindagi ki bhi yaqinan koi manzil hogi
زندگی کی بھی یقیناً کوئی منزل ہوگی یہ سفر ہی کی طرح ایک سفر ہے کہ نہیں
atish-e-gul koi chingari nahin sho.ala nahin
آتش گل کوئی چنگاری نہیں شعلہ نہیں پھول کھلتے ہیں تو گلشن مرا جلتا کیوں ہے
tufan se bach ke Duubi hai kashti kahan na puchh
طوفاں سے بچ کے ڈوبی ہے کشتی کہاں نہ پوچھ ساحل بھی اعتبار کے قابل نہیں رہا
ho na jab tak 'matin' kaif-e-gham
ہو نہ جب تک متینؔ کیف غم آدمی کو خدا نہیں ملتا
aise kho.e sahar ke divane
ایسے کھوئے سحر کے دیوانے لوٹ کر شام تک نہ گھر آئے
Popular Sher & Shayari
54 total"zindagi ki bhi yaqinan koi manzil hogi ye safar hi ki tarah ek safar hai ki nahin"
"atish-e-gul koi chingari nahin sho.ala nahin phuul khilte hain to gulshan mira jalta kyuun hai"
"tufan se bach ke Duubi hai kashti kahan na puchh sahil bhi e'tibar ke qabil nahin raha"
"ho na jab tak 'matin' kaif-e-gham aadmi ko khuda nahin milta"
"aise kho.e sahar ke divane lauT kar shaam tak na ghar aa.e"
aise khoe sahar ke divaane
lauT kar shaam tak na ghar aae
tufaan se bach ke Duubi hai kashti kahaan na puchh
saahil bhi e'tibaar ke qaabil nahin rahaa
ho na jab tak 'matin' kaif-e-gham
aadmi ko khudaa nahin miltaa
gham-e-insaan ko siine se lagaa lo
ye khidmat bandagi se kam nahin hai
yahi aaina hai vo aaina jo liye hai jalva-e-aagahi
ye jo shaaeri kaa shuur hai ye payambari ki talaash hai
agar duniyaa tujhe divaana kahti hai to kahne de
vafaadaaraan-e-ulfat par yahi ilzaam aataa hai
Ghazalغزل
khulus-e-taamir ho jo shaamil sitam kaa jazba buraa nahin hai
خلوص تعمیر ہو جو شامل ستم کا جذبہ برا نہیں ہے وفا کریں گے وہ کیا کسی سے جنہیں شعور جفا نہیں ہے تری سمجھ میں نہ آ سکے گی کسی کے اشکوں کی قدر و قیمت ابھی ہے ناآشنائے غم تو ابھی ترا دل دکھا نہیں ہے وفا کی عظمت سے آشنا ہیں کہیں تو روداد غم کہیں کیا تجھے ندامت ہو جس کو سن کر وہ داستان وفا نہیں ہے خدا نہ کردہ تمہارے دل کو کوئی دکھائے تو کیا کرو گے نگاہیں تم نے تو ایسی پھیریں کہ جیسے میرا خدا نہیں ہے وہ کھویا کھویا سا ان کا عالم لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ ادا یہ ان کی متینؔ جیسے سنا بھی ہے اور سنا نہیں ہے
kabhi kabhi to mohabbat ki zindagi ke liye
کبھی کبھی تو محبت کی زندگی کے لئے خود ان کو ہم نے ابھارا ہے برہمی کے لئے کیا ہے کام بڑا زندگی میں اشکوں نے دیے جلائے شب غم میں روشنی کے لئے وہ آج بھی ہیں اسی تیرگی کی منزل میں اجالا مانگ کے لائے جو روشنی کے لئے ادائے جور محبت میں ناگوار نہیں خلوص چاہئے اے دوست برہمی کے لئے یہ دور وہ ہے کہ اپنے ہیں غیر سے بد تر کلیجہ چاہئے اپنوں سے دوستی کے لئے دلیل عظمت انساں ہے یہ نظام جہاں زمیں ہے گردش پیہم میں آدمی کے لئے ہمارے حال پریشاں پہ کاش ایک نظر بھرے ہیں روپ یہ ہم نے تری خوشی کے لئے یہ زندگی بھی عجب زندگی ہے کیا کہیے متینؔ ٹھوکریں کھاتے ہیں ہم خوشی کے لئے
haae urdu ye siyaasat tiri jaagir ke saath
ہائے اردو یہ سیاست تری جاگیر کے ساتھ کوئی غالبؔ کا طرفدار کوئی میرؔ کے ساتھ زندگی ایک سفر خوف کی زنجیر کے ساتھ موت اک خواب گراں حشر کی تعبیر کے ساتھ ہر ادا حسن کی محفوظ ہے تاثیر کے ساتھ بولتی چلتی تھرکتی ہوئی تصویر کے ساتھ ضبط کی حد سے گزر کر بھی دعا کرتا ہوں شکوہ بر لب ہوں مگر جذبۂ تعمیر کے ساتھ جانی پہچانی ہوئی شکل بھی مبہم سی لگے زندگی کا یہ فسوں اپنی ہی تصویر کے ساتھ اب تو ٹھوکر بھی لگے تو نہیں اٹھتی جھنکار پہلے آواز تھی ہر جنبش زنجیر کے ساتھ دیدۂ صید سے آگاہ نہ دل سے واقف اجنبی کون ہے ترکش میں ترے تیر کے ساتھ اپنی قسمت کے جو مالک ہیں یہ ان سے پوچھو ربط تدبیر کو ہوتا ہے جو تقدیر کے ساتھ فیض موسم ہی سہی سحر تغیر ہی سہی برق گرتی ہے مگر آہ کی تاثیر کے ساتھ اپنی تصویر سے اک عشق سا ہوتا ہے متینؔ یہ جنوں اور فزوں ہوتا تشہیر کے ساتھ
gham-e-insaan ki sajaai hui duniyaa huun main
غم انساں کی سجائی ہوئی دنیا ہوں میں انجمن میرے تصور میں ہے تنہا ہوں میں تپش و درد کے اسرار سے واقف ہوں مگر مجھ کو یہ زعم نہیں ہے کہ مسیحا ہوں میں جانے کیا شے مرے سینے میں بھری ہے ایسی شمع سوزاں کی طرح جلتا پگھلتا ہوں میں نہ کشش ہوں میں زمیں کی نہ ہوں پانی کا اچھال ذرہ اڑتا ہوا بہتا ہوا دریا ہوں میں روز پیغام محبت مجھے دیتی ہے حیات راہ دشوار سے آسودہ گزرتا ہوں میں چارہ سازی غم انساں کی ہے بنیاد عمل زندگی ہے یہی جس کے لیے جیتا ہوں میں پیرویٔ ہوس خام نہ ہوگی مجھ سے مقصد ضابطۂ عشق سمجھتا ہوں میں عصر حاضر کے نمائندہ ہیں میرے اشعار غم انساں کو تغزل میں سموتا ہوں میں جذبۂ خدمت انساں ہے متینؔ آب حیات شکر صد شکر اے احساس کہ اچھا ہوں میں
aadmi aur dard se naa-aashnaa mumkin nahin
آدمی اور درد سے نا آشنا ممکن نہیں عکس سے خالی ہو کوئی آئینہ ممکن نہیں آدمی انسان کامل بن تو سکتا ہے مگر زندگی بھر رہ سکے وہ پارسا ممکن نہیں دو کنارے جیسے دریا کے نہیں ملتے کبھی ہم سے اقدام جفا ان سے وفا! ممکن نہیں کار فرما جب رہے برق نظر آٹھوں پہر شہر بھر میں ہو نہ کوئی حادثہ! ممکن نہیں کس قدر ہمت شکن ہے گمرہی کا یہ جواز رہبری از ابتدا تا انتہا ممکن نہیں شیشہ کوئی چور ہو جائے تو پھر کس کام کا مٹ کے ہو آباد ایوان وفا ممکن نہیں آپ پتھر کو نچوڑیں اس سے کیا حاصل متینؔ تنگ دل انسان ہو حق آشنا ممکن نہیں
ham jo insaan ke gham uThaate hain
ہم جو انساں کے غم اٹھاتے ہیں خوب کو خوب تر بناتے ہیں زندگی خواب ہی سہی لیکن خواب تعبیر چھوڑ جاتے ہیں بے حقیقت مسرتوں کے لئے زندگی بھر فریب کھاتے ہیں مانگتے ہیں دعائیں جینے کی اور جینا ہی بھول جاتے ہیں سوچی سمجھی وہی تمنائیں روز خاکے نئے بناتے ہیں آپ سے یاد آپ کی اچھی آپ تو ہم کو بھول جاتے ہیں کاروان حیات میں خود کو ہر قدم اجنبی سا پاتے ہیں جب بھی بنتا ہے کوئی شیش محل کتنے آئینے ٹوٹ جاتے ہیں ذہن و دل کی رقابتیں توبہ کیسے کیسے خیال آتے ہیں دوستی کیا ہے خود ستائی ہے سب متینؔ اپنے کام آتے ہیں





