aaj tasvir us ki dekhi hai
aaj phir niind kaa ziyaan hogaa

Meem Maroof Ashraf
Meem Maroof Ashraf
Meem Maroof Ashraf
Popular Shayari
39 totalabhi aaghaaz-e-ulfat hai chalo ik kaam karte hain
bichhaD kar dekh lete hain bichhaD kar kaisaa lagtaa hai
bint-e-havvaa ko bhuul jaaein ham
ye nahin aataa ibn-e-aadam ko
kisi ke yaad karne kaa agar hoti sabab hichki
miraa mahbub ho kar ke pareshaan mar gayaa hotaa
sochtaa huun kyaa miraa bantaa khudaa ke saamne
gar na hotaa yaa-rasulullah sahaaraa aap kaa
bahut aasaan lafzon mein ye us ne kah diyaa ham se
nahin tum se mohabbat jaao jo karnaa hai so kar lo
jab bhi chumaa hai tire honTon ko
jism se un ko judaa jaanaa hai
abhi to aur baDhegi ye tishnagi dil ki
abhi to aur bhi zyaada vo yaad aaeinge
avval avval jo dekhti thiin tum
vo hi darkaar hai nazar ham ko
tumhin ko chaaheinge zindagi bhar kisi se ulfat nahin kareinge
jo kah diyaa hai so kah diyaa hai nai mohabbat nahin kareinge
use bhi thaa mujhe barbaad karnaa
mujhe bhi ik fasaana chaahiye thaa
baat aati hai doston ki jab
mujh ko dushman 'aziz lagte hain
Ghazalغزل
جب اس سے ملو یار تو یارا اسے کہنا مشکل ہے بنا اس کے گزارا اسے کہنا کہنا کہ سبھی شرم کے پردے وہ اٹھا دے بانہوں کا ہمیں دے دے سہارا اسے کہنا ہم دوڑے چلے آئیں گے آواز پہ اس کی گر اس نے کبھی ہم کو پکارا اسے کہنا گر واقعی وہ جان کے درپے ہے ہماری کر دے وہ فقط ایک اشارہ اسے کہنا رہ رہ کے سبھی یاد وہ آتے ہیں ہمیں دن کہ جان کبھی جان سے پیارا اسے کہنا ہیں کوششیں بے سود سبھی قتل کی میرے مرتا ہے کبھی کوئی دوبارہ اسے کہنا پھٹ جائے گا ایسے تو ہمارا جگر اشرفؔ یک دم نہ کرے ہم سے کنارا اسے کہنا
jab us se milo yaar to yaaraa use kahnaa
رنج و آزار دیکھنا ہے ہمیں اور لگاتار دیکھنا ہے ہمیں پھر سے آئے گی ایک صبح نئی پھر سے اخبار دیکھنا ہے ہمیں تیرے جیسا ہی کاش تجھ کو ملے تجھ کو بیمار دیکھنا ہے ہمیں حسن کو آزما کے دیکھ لیا اب کے کردار دیکھنا ہے ہمیں ایسے کیسے کسی کو چاہے پھریں اپنا معیار دیکھنا ہے ہمیں یوں ہی بانہوں میں جان سمٹی رہو سارا سنسار دیکھنا ہے ہمیں ہیں کہاں گم شراب آنکھیں تری خود کو سرشار دیکھنا ہے ہمیں ڈھونڈ کر لاؤ میرے پاس اسے یاروں دل دار دیکھنا ہے ہمیں
ranj-o-aazaar dekhnaa hai hamein
خدا جانے وہ کیوں کر اس قدر ہم کو ستاتے ہیں ستم پھر یہ کہ پھر وہ ہی ہمارے من کو بھاتے ہیں یہی دستور ہے شاید زمانے کی محبت کا جسے ہم پیار کرتے ہیں وہی دل کو دکھاتے ہیں سنبھل کر بیٹھنا تم امتحان عشق میں صاحب یہ وہ پرچہ ہے جس میں لوگ اکثر مات کھاتے ہیں ریاضی فلسفہ سائنس یہ بھی ٹھیک ہے لیکن کہاں ہم اپنے بچوں کو مگر اردو سکھاتے ہیں وہ کیسے لوگ ہیں جو چار دن بس عشق کرتے ہیں پھر اس کے بعد سارے رشتے ناطے بھول جاتے ہیں کہاں اب وہ بھی ہم کو وقت دیتے ہیں بہت اشرفؔ سو ہم بھی شام کو گھر جلدی واپس لوٹ آتے ہیں
khudaa jaane vo kyunkar is qadar ham ko sataate hain
اثر باتوں کا تجھ پر اب ستم گر کچھ نہیں ہوتا قسی القلب اس درجہ کہ پتھر کچھ نہیں ہوتا یقیں گرچہ نہ آئے آزما کر دیکھ لیجے گا سوا دکھ کے محبت میں میسر کچھ نہیں ہوتا نظر جو کام کرتی ہے کہاں خنجر وہ کرتے ہیں نظر کے سامنے تلوار و نشتر کچھ نہیں ہوتا غزل اشعار تیرے حسن کے مرہون منت ہیں یہ زن تیری بدولت ہے سخن ور کچھ نہیں ہوتا ضرورت ہے عمر فاروق جیسے پیشواؤں کی نظر میں جن کی کمتر اور برتر کچھ نہیں ہوتا لٹا کر سب حسین ابن علی نے ہم کو بتلایا کہ آگے دین کے عباس و اکبر کچھ نہیں ہوتا
asar baaton kaa tujh par ab sitam-gar kuchh nahin hotaa
چھوڑ کر مجھ کو کہیں اور اگر جانا ہے جا اجازت ہے تجھے تجھ کو جدھر جانا ہے تو تو خوشبو ہے کسی سمت چلا جائے گا میں ہوں اک ریت کا پیکر سو بکھر جانا ہے ایک مدت ہے ہوئی راہ میں چلتے لیکن اس کا جانا ہی نہیں ہے کہ کدھر جانا ہے اب تری یاد بھی کب مجھ پہ اثر کرتی ہے تو بھی اک روز مرے دل سے اتر جانا ہے لاکھ پڑ جائیں ہمیں جان کے لالے لیکن جان تجھ کو ہی مری جان مگر جانا ہے ہم تو عاشق ہیں میاں ہم ہیں شبوں کے عادی آپ جا سکتے ہیں گر آپ کو گھر جانا ہے کیجے فرعون سے شداد سے عبرت حاصل زیر یہ ہو گئے سارے جو زبر جانا ہے بس یہی سوچتے ہم تم تو نہ نفرت کرتے نہ سہی آج مگر کل ہمیں مر جانا ہے اب کے بچھڑے ہیں تو یہ جی میں ہے آیا قیصرؔ اب نہیں جینا یہاں جاں سے گزر جانا ہے
chhoD kar mujh ko kahin aur agar jaanaa hai
نہ پوچھو کیسے گزری شب ہماری ہجر جاناں میں رہی ہے دل کو شب بھر بے قراری ہجر جاناں میں جدا کچھ یوں ہوا تھا وہ کہ خوشیاں لے گیا ساری سو اب کیا ہے فقط ہے آہ و زاری ہجر جاناں میں دوا مرہم تو کیا یہ وقت سے بھی بھر نہیں سکتا ملا ہے ہم کو ایسا زخم کاری ہجر جاناں میں فقط اک بات ہے کن کی مرے مولیٰ اگر کہہ دے ترے در پر کھڑا ہے اک بھکاری ہجر جاناں میں کبھی شدت سے یاد آئی لپٹ کر رو لیے خود سے گزاری ہم نے یوں ہی عمر ساری ہجر جاناں میں
na puchho kaise guzri shab hamaari hijr-e-jaanaan mein





