SHAWORDS
Mohammad Aazam

Mohammad Aazam

Mohammad Aazam

Mohammad Aazam

poet
18Shayari
32Ghazal

Popular Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 32
غزل · Ghazal

آنکھوں میں اس کی میں نے آخر ملال دیکھا کن کن بلندیوں پر اپنا زوال دیکھا ساز فلک نے چھیڑا معنی کا راگ جس دم فرش زمیں پہ رقصاں پائے خیال دیکھا وہ کودتے اچھلتے رنگین پیرہن تھے معصوم قہقہوں میں اڑتا گلال دیکھا یہ کون ہے جو مجھ میں مجھ سے الجھ رہا ہے سو بار میں نے خود کو خود سے نکال دیکھا کیا جانے کون ہیں وہ جن کے لئے جدا ہیں میں نے تو ایک صورت ہجر و وصال دیکھا کچھ زخم کاوشوں کے کچھ حسرتوں کے لاشے باہر سے کچھ زیادہ اندر قتال دیکھا ناکام حسرتوں کی روداد مختصر ہے بھائے وہ کام جی کو جن کو محال دیکھ اے دل خبیث اب تو کس کس پہ جان دے گا میں نے تو ہر قدم پر اک بے مثال دیکھا تاریخ ہے کہ خود کو دہرائے جا رہی ہے باسی کڑھی میں ہم نے یوں بھی ابال دیکھا دل سے اتر گئیں اب پاس وفا کی باتیں میں نے بھی ایک مدت تک یہ روگ پال دیکھا بس تھا کہ اس سے پوچھوں یہ خوش گمانیاں کیوں اتنے میں اس کے منہ پر اپنا سوال دیکھا کچھ صاف اس کا چہرہ مطلب نہیں بتاتا یوں تھا کہ جیسے میں نے قرآں میں فال دیکھا مجھ کو غرض نہیں کچھ کیسا ہے اور کیا ہے جو بھی خیال آیا شعروں میں ڈھال دیکھا

aankhon mein us ki main ne aakhir malaal dekhaa

غزل · Ghazal

یہ نشۂ آگاہی خطرناک ہے سر میں ٹوٹے ہیں مرے پاؤں اسی راہ گزر میں رم جھم کے عقب زار میں باراں ہے ابھی آگ اچھا ہے نہ دیکھے وہ مرے دیدۂ تر میں سرمایۂ جاں یوں نہ اٹھا سارے حجابات تو آنکھ کے پردوں کی بدولت ہے نظر میں آنسو تھا وہ نکلا تو گیا توڑ کے ہر بند خوشبو تھا کہ گھر چھوڑ کے بھی رہتا ہے گھر میں اس بارگہہ ناز سے ہم سے فقرا کو خیرات تو ملتی ہے ولے کاسۂ سر میں رہتی ہیں مرے ساتھ وہ آگاہ نگاہیں کچھ فرق نہ تھا ورنہ مرے عیب و ہنر میں

ye nashsha-e-aagaahi khatarnaak hai sar mein

غزل · Ghazal

سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے جو میں ہرگز نہ کرتا وہ مرا ہم زاد کرتا ہے بکھر کر بھی اسی کو ڈھونڈھتی ہیں ہر طرف آنکھیں جو مجھ کو اک نگہ میں اک سے لاتعداد کرتا ہے ہوئی ہیں شور دل میں غرق تعبیریں صداؤں کی مگر اتنی خبر ہے کوئی کچھ ارشاد کرتا ہے قیامت ہے جو اب یہ خفتگان خاک دل جاگیں کوئی اس کہنہ ویرانے کو پھر آباد کرتا ہے کہا ہو کچھ کبھی مجھ سے تو اے چارہ گرو جانوں میں کیا کہہ دوں دل بیمار کس کو یاد کرتا ہے سرآمد عشق ہے پاتا ہے کوئی دل نصیبوں سے پھر اپنے واسطے معشوق خود ایجاد کرتا ہے برا کہنا مجھے اس کا وظیفہ ہے تو ہونے دو وہ خود کو یوں مرے آسیب سے آزاد کرتا ہے

subuk mujh ko mohabbat mein ye kaj-uftaad kartaa hai

غزل · Ghazal

تلف کرے گی کب تک آرزو کی جان آرزو تڑپ رہی ہے ہر طرف لہولہان آرزو پھرا کے دیدۂ تپاں میں موم کے مجسمے کہاں کہاں کرے گی دید کا زیان آرزو ذرا سا ہاتھ کیا لگا حباب سا بکھر گیا جسے سمجھ رہی تھی ایک آسمان آرزو تو چشم ہی میں رہ اگر پسند ہے کشادگی کہ دل ہے تنگ اور اس میں یک جہان آرزو اسی کے ہیں سبب سے سب یہ ہجر کی صعوبتیں کہاں سے آ گئی ہمارے درمیان آرزو تو آفتاب ہے میں گل دعا ترے سکون کی کسی کی شان قہر ہے کسی کی شان آرزو الٰہی خیر اتنے سن پہ آندھیوں کی دوستی ابھی تو سیکھ پائی بھی نہیں اڑان آرزو شجر حجر زمین آسمان سب کو ضعف ہے مگر یہ اک جوان کی رہی جوان آرزو

talaf karegi kab tak aarzu ki jaan aarzu

غزل · Ghazal

محبت چاہتی ہے جس کو افسانہ بنا دینا اسے کافی نہیں ہوتا ہے دیوانہ بنا دینا پر گل سے جدا ہم نے نہ دیکھا برگ بلبل کو نظر میں آ گیا صورت کو بے معنیٰ بنا دینا ہوا تھا دل جو خالی دو گھڑی کو ہم نہ سمجھے تھے کہ ہو جائے گا یہ کعبے کو بت خانہ بنا دینا کسی نے بھی نہ دیکھا اضطراب تشنگی میرا اگر دیکھا تو بس شیشے کو پیمانہ بنا دینا نہیں اب چاہتا یہ وحشیٔ بے خانماں تیرا کہ آنا اور خاک پا سے کاشانہ بنا دینا کسی اک تیغ جوہر دار کو فاضل جلا دے کر اسے آسان ہے بستی کو ویرانہ بنا دینا ہم اپنی جان سے دیتے تمہیں صدقہ محبت کا مگر تم نے تو چاہا اس کو جرمانہ بنا دینا

mohabbat chaahti hai jis ko afsaana banaa denaa

غزل · Ghazal

دیکھا کہ چلے جاتے تھے سب شوق کے مارے معشوق کے پہلو میں شب ہجر گزارے ہم ہیں کہ ہوئے حلقۂ زنجیر محبت باقی تو گئے چھوٹ گرفتار تمہارے ہم چاہنے والوں کا نہیں کوئی ٹھکانا ہیں آج سر نجد تو کل تخت ہزارے آ پہنچے کہاں جستجوئے یار میں اس بار مل جائے تو چل بھی نہ سکے ساتھ ہمارے ساکن ہو یہاں کوئی تو اس سے کوئی پوچھے میں گھوم رہا ہوں کہ ہیں گردش میں ستارے بس دیکھ چکے خوب وہ پستی یہ بلندی اس چرخ سے اب جلد ہمیں کوئی اتارے

dekhaa ki chale jaate the sab shauq ke maare

Similar Poets