SHAWORDS
Mohammad Mazhar Niyazi

Mohammad Mazhar Niyazi

Mohammad Mazhar Niyazi

Mohammad Mazhar Niyazi

poet
12Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

ذکر تلوار ہونے لگتا ہے دل عزادار ہونے لگتا ہے آنکھ جب دائرہ بناتی ہے اشک پرکار ہونے لگتا ہے تو اگر پاس سے گزر جائے زخم بیدار ہونے لگتا ہے جب بھی رکھتا ہوں ہاتھ پھولوں پر جسم دیوار ہونے لگتا ہے میرا اپنا مزاج بھی مظہرؔ مجھ سے بیزار ہونے لگتا ہے

zikr-e-talvaar hone lagtaa hai

غزل · Ghazal

دوستی دیپ سے بڑھا لی ہے اپنے پیچھے ہوا لگا لی ہے نام کاغذ پہ میرا چمکا رہا اس نے انگلی مگر اٹھا لی ہے میں سمجھتا تھا جسم پتھر ہے تیر نے تو جگہ بنا لی ہے کل اتارا تھا عکس کاغذ پر آج آواز بھی بنا لی ہے سامنے سچ بھی بولنا ہے مجھے اس نے تلوار بھی اٹھا لی ہے بھیک کس کس کو دیں یہاں مظہرؔ جس کو دیکھو وہی سوالی ہے

dosti diip se baDhaa li hai

غزل · Ghazal

بچ نکلنے کی راہ ڈھونڈتے ہیں لوگ گھر میں پناہ ڈھونڈتے ہیں چھوڑ دے جب ہمیں جہاں سارا ہم تری بارگاہ ڈھونڈتے ہیں جس کے بارے میں باز پرس نہ ہو کوئی ایسا گناہ ڈھونڈتے ہیں جن کو منزل عزیز ہے ڈھونڈیں ہم تو بس گرد راہ ڈھونڈتے ہیں گمشدہ چیز کی طرح مظہرؔ خود کو ہم بے پناہ ڈھونڈتے ہیں

bach nikalne ki raah DhunDte hain

غزل · Ghazal

جواب سارے سوالیہ کر کے آ رہا ہوں میں زندگی سے مکالمہ کر کے آ رہا ہوں پرند مجھ پر اترنے والے ہیں دھیرے دھیرے میں سبز پیڑوں سے رابطہ کر کے آ رہا ہوں تری حویلی میں آنا آسان تو نہیں تھا چٹان حائل تھی راستہ کر کے آ رہا ہوں تمام دشمن تو مجھ کو تسلیم کر چکے ہیں میں دوستوں سے مقابلہ کر کے آ رہا ہوں میں ایسے پہنچا نہیں ہوں مظہرؔ ابد سے آگے میں لامکاں سے مصافحہ کر کے آ رہا ہوں

javaab saare savaaliya kar ke aa rahaa huun

غزل · Ghazal

دشت بے کار سے نکل آیا آدمی غار سے نکل آیا میرے اندر سے چیخ کیا نکلی زخم تلوار سے نکل آیا دشمنوں کی کمی سے لگتا ہے حلقۂ یار سے نکل آیا خامشی کا جواز بھی اک دن در و دیوار سے نکل آیا لاش جوں ہی مری اٹھائی گئی خوف بازار سے نکل آیا اینٹ گرنے کی دیر تھی مظہرؔ عشق دیوار سے نکل آیا

dasht-e-be-kaar se nikal aayaa

غزل · Ghazal

مٹی کے انسان بنایا کرتا تھا میں اپنی پہچان بنایا کرتا تھا پھول کہاں ہوتے تھے میری بستی میں کاغذ کے گلدان بنایا کرتا تھا اپنے آپ کو باندھ لیا کرتا تھا میں دھاگوں سے زندان بنایا کرتا تھا لوگ مری آواز کہاں سن سکتے تھے دیواروں کے کان بنایا کرتا تھا سوکھے پھولوں پر بارش کی بوندوں سے خوشبو کے امکان بنایا کرتا تھا ماں کو دیکھا کرتا تھا اور پنسل سے تصویر یزدان بنایا کرتا تھا

miTTi ke insaan banaayaa kartaa thaa

Similar Poets