"nairangi-e-siyasat-e-dauran to dekhiye manzil unhen mili jo sharik-e-safar na the"

Mohsin Bhopali
Mohsin Bhopali
Mohsin Bhopali
Sherشعر
See all 28 →nairangi-e-siyasat-e-dauran to dekhiye
نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
ghalat the vaade magar main yaqin rakhta tha
غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا وہ شخص لہجہ بہت دل نشین رکھتا تھا
zindagi gul hai naghma hai mahtab hai
زندگی گل ہے نغمہ ہے مہتاب ہے زندگی کو فقط امتحاں مت سمجھ
jaane vaale sab aa chuke 'mohsin'
جانے والے سب آ چکے محسنؔ آنے والا ابھی نہیں آیا
jo mile the hamen kitabon men
جو ملے تھے ہمیں کتابوں میں جانے وہ کس نگر میں رہتے ہیں
iblagh ke liye na tum akhbar dekhna
ابلاغ کے لئے نہ تم اخبار دیکھنا ہو جستجو تو کوچہ و بازار دیکھنا
Popular Sher & Shayari
56 total"ghalat the vaade magar main yaqin rakhta tha vo shakhs lahja bahut dil-nashin rakhta tha"
"zindagi gul hai naghma hai mahtab hai zindagi ko faqat imtihan mat samajh"
"jaane vaale sab aa chuke 'mohsin' aane vaala abhi nahin aaya"
"jo mile the hamen kitabon men jaane vo kis nagar men rahte hain"
"iblagh ke liye na tum akhbar dekhna ho justuju to kucha-o-bazar dekhna"
ai mashihaao agar chaaragari hai dushvaar
ho sake tum se nayaa zakhm lagaate jaao
koi surat nahin kharaabi ki
kis kharaabe mein bas rahaa hai jism
ab ke mausam mein ye meyaar-e-junun Thahraa hai
sar salaamat rahein dastaar na rahne paae
nairangi-e-siyaasat-e-dauraan to dekhiye
manzil unhein mili jo sharik-e-safar na the
ghalat the vaade magar main yaqin rakhtaa thaa
vo shakhs lahja bahut dil-nashin rakhtaa thaa
'mohsin' apnaaiyat ki fazaa bhi to ho
sirf divaar-o-dar ko makaan mat samajh
Ghazalغزل
binaa-e-ishq hai bas ustuvaar karne tak
بنائے عشق ہے بس استوار کرنے تک فلک کو چین کہاں پھر غبار کرنے تک یہ کب کہا کہ بھروسا نہیں ہے وعدے پر میں جی سکوں گا ترا انتظار کرنے تک خبر نہ تھی وہ مجھے قتل کرنے آیا ہے میں اس کو دوست سمجھتا تھا وار کرنے تک پھر اس کے بعد کہاں امتیاز دامن و دل جنوں ہے شوق فقط اختیار کرنے تک وہ خوئے عشق بسی ہے ہماری فطرت میں کہ ساتھ دیتے ہیں ہم جاں نثار کرنے تک کچھ اس سے پہلے ہی آ جائے میری زیست کی شام حیات وقف ہو جب دن شمار کرنے تک مرے قبیلے کا محسنؔ یہ قول فیصل ہے کہ ظلم ظلم ہے صبر اختیار کرنے تک
ye tai huaa hai ki qaatil ko bhi duaa diije
یہ طے ہوا ہے کہ قاتل کو بھی دعا دیجے خود اپنا خون بہا پھر بھی خوں بہا دیجے نیاز و ناز بجا ہیں مگر یہ شرط وصال ہے سنگ راہ تعلق اسے ہٹا دیجے سنا تھا ہم نے کہ منزل قریب آ پہنچی کہاں ہیں آپ اگر ہو سکے صدا دیجے سحر قریب سہی پھر بھی کچھ بعید نہیں چراغ بجھنے لگے ہیں تو لو بڑھا دیجے مہکتے زخموں کو انعام فصل گل کہیے سلگ اٹھے جو چمن برق کو دعا دیجے کچھ اس طرح ہے کہ گزرے ہیں جس قیامت سے سمجھئے خواب اسے خواب کو بھلا دیجے بدل گئے ہیں تقاضے سخن شناسی کے ادھر عطا ہو ادھر داد برملا دیجے یہ کیا ضرور کہ احساس کو زباں مل جائے ہے حکم نغمہ سرائی تو گنگنا دیجے
me'yaar-e-jehd jazba-e-isaar bhi nahin
معیار جہد جذبۂ ایثار بھی نہیں یہ آپ کہہ رہے ہیں تو انکار بھی نہیں دیکھیں کہاں سفینۂ اہل ستم رکے اب کے تو خوں بہا کے طلب گار بھی نہیں تشہیر کسمپرسیٔ قاتل ہی کیجیے اب کوئی اور صورت اظہار بھی نہیں شعلہ نوا ہوئے بھی تو کب اے نوا گرو ہنگام رزم و عرصۂ پیکار بھی نہیں اب گا رہے ہو نغمۂ تقدیس زندگی جب زندگی کے جسم پہ اک تار بھی نہیں محسنؔ پہ فرد جرم لگائیں تو کس طرح معصوم گر نہیں ہے گنہ گار بھی نہیں
lafz to hon lab-e-izhaar na rahne paae
لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے اب سماعت پہ کوئی بار نہ رہنے پائے کس طرح کے ہیں مکیں جن کی تگ و دو ہے یہی در تو باقی رہیں دیوار نہ رہنے پائے اس میں بھی پہلوئے تسکین نکل آتا ہے ایک ہی صورت آزار نہ رہنے پائے ذہن تا ذہن مہکتا ہی رہے زخم ہنر فصل حرف و لب اظہار نہ رہنے پائے اب کے موسم میں یہ معیار جنوں ٹھہرا ہے سر سلامت رہیں دستار نہ رہنے پائے کوئی درماں کہ ہوا چیخ رہی ہے محسنؔ نخل ہستی پہ کوئی بار نہ رہنے پائے
saron ki fasl kaaTi jaa rahi hai
سروں کی فصل کاٹی جا رہی ہے وہ دیکھو سرخ آندھی آ رہی ہے ہٹا لو صحن سے کچے گھڑوں کو کہیں ملہار سوہنی گا رہی ہے مری دستار کیسے بچ سکے گی قسم وہ میرے سر کی کھا رہی ہے یہ برسے گی کہیں پر اور جا کر گھٹا جو میرے سر پر چھا رہی ہے سمجھ رکھا ہے کیا دیوانگی کو یہ دنیا کیا ہمیں سمجھا رہی ہے تمنا جلد مرنے کی ہے ہم کو حیات اب تک یوں ہی بہلا رہی ہے
dosto baargah-e-qatl sajaate jaao
دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ قرض ہے رشتۂ جاں قرض چکاتے جاؤ رہے خاموش تو یہ ہونٹ سلگ اٹھیں گے شعلۂ فکر کو آواز بناتے جاؤ اپنی تقدیر میں صحرا ہے تو صحرا ہی سہی آبلہ پاؤ! نئے پھول کھلاتے جاؤ زندگی سایۂ دیوار نہیں دار بھی ہے زیست کو عشق کے آداب سکھاتے جاؤ بے ضمیری ہے سرافراز تو غم کیسا ہے اپنی تذلیل کو معیار بناتے جاؤ اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوار ہو سکے تم سے نیا زخم لگاتے جاؤ کارواں عزم کا روکے سے کہیں رکتا ہے لاکھ تم راہ میں دیوار اٹھاتے جاؤ ایک مدت کی رفاقت کا ہو کچھ تو انعام جاتے جاتے کوئی الزام لگاتے جاؤ جن کو گہنہ دیا افکار کی پرچھائیں نے محسنؔ ان چہروں کو آئینہ دکھاتے جاؤ





