SHAWORDS
Mohsin Bhopali

Mohsin Bhopali

Mohsin Bhopali

Mohsin Bhopali

poet
28Sher
28Shayari
36Ghazal

Sherشعر

See all 28

Popular Sher & Shayari

56 total

Ghazalغزل

See all 36
غزل · Ghazal

binaa-e-ishq hai bas ustuvaar karne tak

بنائے عشق ہے بس استوار کرنے تک فلک کو چین کہاں پھر غبار کرنے تک یہ کب کہا کہ بھروسا نہیں ہے وعدے پر میں جی سکوں گا ترا انتظار کرنے تک خبر نہ تھی وہ مجھے قتل کرنے آیا ہے میں اس کو دوست سمجھتا تھا وار کرنے تک پھر اس کے بعد کہاں امتیاز دامن و دل جنوں ہے شوق فقط اختیار کرنے تک وہ خوئے عشق بسی ہے ہماری فطرت میں کہ ساتھ دیتے ہیں ہم جاں نثار کرنے تک کچھ اس سے پہلے ہی آ جائے میری زیست کی شام حیات وقف ہو جب دن شمار کرنے تک مرے قبیلے کا محسنؔ یہ قول فیصل ہے کہ ظلم ظلم ہے صبر اختیار کرنے تک

غزل · Ghazal

ye tai huaa hai ki qaatil ko bhi duaa diije

یہ طے ہوا ہے کہ قاتل کو بھی دعا دیجے خود اپنا خون بہا پھر بھی خوں بہا دیجے نیاز و ناز بجا ہیں مگر یہ شرط وصال ہے سنگ راہ‌ تعلق اسے ہٹا دیجے سنا تھا ہم نے کہ منزل قریب آ پہنچی کہاں ہیں آپ اگر ہو سکے صدا دیجے سحر قریب سہی پھر بھی کچھ بعید نہیں چراغ بجھنے لگے ہیں تو لو بڑھا دیجے مہکتے زخموں کو انعام‌ فصل گل کہیے سلگ اٹھے جو چمن برق کو دعا دیجے کچھ اس طرح ہے کہ گزرے ہیں جس قیامت سے سمجھئے خواب اسے خواب کو بھلا دیجے بدل گئے ہیں تقاضے سخن شناسی کے ادھر عطا ہو ادھر داد برملا دیجے یہ کیا ضرور کہ احساس کو زباں مل جائے ہے حکم نغمہ سرائی تو گنگنا دیجے

غزل · Ghazal

me'yaar-e-jehd jazba-e-isaar bhi nahin

معیار جہد جذبۂ ایثار بھی نہیں یہ آپ کہہ رہے ہیں تو انکار بھی نہیں دیکھیں کہاں سفینۂ اہل ستم رکے اب کے تو خوں بہا کے طلب گار بھی نہیں تشہیر کسمپرسیٔ قاتل ہی کیجیے اب کوئی اور صورت اظہار بھی نہیں شعلہ نوا ہوئے بھی تو کب اے نوا گرو ہنگام رزم و عرصۂ پیکار بھی نہیں اب گا رہے ہو نغمۂ تقدیس زندگی جب زندگی کے جسم پہ اک تار بھی نہیں محسنؔ پہ فرد جرم لگائیں تو کس طرح معصوم گر نہیں ہے گنہ گار بھی نہیں

غزل · Ghazal

lafz to hon lab-e-izhaar na rahne paae

لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے اب سماعت پہ کوئی بار نہ رہنے پائے کس طرح کے ہیں مکیں جن کی تگ و دو ہے یہی در تو باقی رہیں دیوار نہ رہنے پائے اس میں بھی پہلوئے تسکین نکل آتا ہے ایک ہی صورت آزار نہ رہنے پائے ذہن تا ذہن مہکتا ہی رہے زخم ہنر فصل حرف و لب اظہار نہ رہنے پائے اب کے موسم میں یہ معیار جنوں ٹھہرا ہے سر سلامت رہیں دستار نہ رہنے پائے کوئی درماں کہ ہوا چیخ رہی ہے محسنؔ نخل ہستی پہ کوئی بار نہ رہنے پائے

غزل · Ghazal

saron ki fasl kaaTi jaa rahi hai

سروں کی فصل کاٹی جا رہی ہے وہ دیکھو سرخ آندھی آ رہی ہے ہٹا لو صحن سے کچے گھڑوں کو کہیں ملہار سوہنی گا رہی ہے مری دستار کیسے بچ سکے گی قسم وہ میرے سر کی کھا رہی ہے یہ برسے گی کہیں پر اور جا کر گھٹا جو میرے سر پر چھا رہی ہے سمجھ رکھا ہے کیا دیوانگی کو یہ دنیا کیا ہمیں سمجھا رہی ہے تمنا جلد مرنے کی ہے ہم کو حیات اب تک یوں ہی بہلا رہی ہے

غزل · Ghazal

dosto baargah-e-qatl sajaate jaao

دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ قرض ہے رشتۂ جاں قرض چکاتے جاؤ رہے خاموش تو یہ ہونٹ سلگ اٹھیں گے شعلۂ فکر کو آواز بناتے جاؤ اپنی تقدیر میں صحرا ہے تو صحرا ہی سہی آبلہ پاؤ! نئے پھول کھلاتے جاؤ زندگی سایۂ دیوار نہیں دار بھی ہے زیست کو عشق کے آداب سکھاتے جاؤ بے ضمیری ہے سرافراز تو غم کیسا ہے اپنی تذلیل کو معیار بناتے جاؤ اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوار ہو سکے تم سے نیا زخم لگاتے جاؤ کارواں عزم کا روکے سے کہیں رکتا ہے لاکھ تم راہ میں دیوار اٹھاتے جاؤ ایک مدت کی رفاقت کا ہو کچھ تو انعام جاتے جاتے کوئی الزام لگاتے جاؤ جن کو گہنہ دیا افکار کی پرچھائیں نے محسنؔ ان چہروں کو آئینہ دکھاتے جاؤ

Similar Poets