"ai dil tamam naf.a hai sauda-e-ishq men ik jaan ka ziyan hai so aisa ziyan nahin"
Mufti Sadruddin Aazurda
Mufti Sadruddin Aazurda
Mufti Sadruddin Aazurda
Sherشعر
See all 8 →ai dil tamam naf.a hai sauda-e-ishq men
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں
vo aur va.ada vasl ka qasid nahin nahin
وہ اور وعدہ وصل کا قاصد نہیں نہیں سچ سچ بتا یہ لفظ انہی کی زباں کے ہیں
'azurda' mar ke kucha-e-janan men rah gaya
آزردہؔ مر کے کوچۂ جاناں میں رہ گیا دی تھی دعا کسی نے کہ جنت میں گھر ملے
is dard-e-juda.i se kahin jaan nikal jaa.e
اس درد جدائی سے کہیں جان نکل جائے آزردہؔ مرے حق میں ذرا یوں بھی دعا کر
naseh yahan ye fikr hai siina bhi chaak ho
ناصح یہاں یہ فکر ہے سینہ بھی چاک ہو ہے فکر بخیہ تجھ کو گریباں کے چاک میں
kaTti kisi tarah se nahin ye shab-e-firaq
کٹتی کسی طرح سے نہیں یہ شب فراق شاید کہ گردش آج تجھے آسماں نہیں
Popular Sher & Shayari
16 total"vo aur va.ada vasl ka qasid nahin nahin sach sach bata ye lafz unhi ki zaban ke hain"
"'azurda' mar ke kucha-e-janan men rah gaya di thi dua kisi ne ki jannat men ghar mile"
"is dard-e-juda.i se kahin jaan nikal jaa.e 'azurda' mire haq men zara yuun bhi dua kar"
"naseh yahan ye fikr hai siina bhi chaak ho hai fikr-e-bakhiya tujh ko gareban ke chaak men"
"kaTti kisi tarah se nahin ye shab-e-firaq shayad ki gardish aaj tujhe asman nahin"
'aazurdaa' mar ke kucha-e-jaanaan mein rah gayaa
di thi duaa kisi ne ki jannat mein ghar mile
is dard-e-judaai se kahin jaan nikal jaae
'aazurdaa' mire haq mein zaraa yuun bhi duaa kar
naaseh yahaan ye fikr hai siina bhi chaak ho
hai fikr-e-bakhiya tujh ko garebaan ke chaak mein
ai dil tamaam nafa hai saudaa-e-ishq mein
ik jaan kaa ziyaan hai so aisaa ziyaan nahin
vo aur vaada vasl kaa qaasid nahin nahin
sach sach bataa ye lafz unhi ki zabaan ke hain
kaTti kisi tarah se nahin ye shab-e-firaaq
shaayad ki gardish aaj tujhe aasmaan nahin
Ghazalغزل
mujh saa bhi koi ishq mein hai bad-gumaan nahin
مجھ سا بھی کوئی عشق میں ہے بد گماں نہیں کیا رشک دیکھ کر مجھے رنگ خزاں نہیں آنکھوں سے دیکھ کر تجھے سب ماننا پڑا کہتے تھے جو ہمیشہ چنیں ہے چناں نہیں اٹھ کر سحر کو سجدۂ مستانہ کے سوا طاعت قبول خاطر پیر مغاں نہیں افسردہ دل ہو در در رحمت نہیں ہے بند کس دن کھلا ہوا در پیر مغاں نہیں اے جذب شوق رحم کہ مد نظر ہے یار جا سکتی واں تلک نگہ ناتواں نہیں شب اس کو حال دل نے جتایا کچھ اس طرح ہیں لب تو کیا نگہ بھی ہوئی ترجماں نہیں کٹتی کسی طرح سے نہیں یہ شب فراق شاید کہ گردش آج تجھے آسماں نہیں اچھا ہوئی نکل گئی آہ حزیں کے ساتھ اک قہر تھی بلا تھی قیامت تھی جاں نہیں جانے ہے دل فلک کا مری سخت جانیاں ان ناتوانیوں کو پہنچتی تواں نہیں کہتا ہوں اس سے کچھ میں نکلتا ہے منہ سے کچھ کہنے کو یوں تو ہے گی زباں اور زباں نہیں مہکا ہوا ہے بیت حزن دیکھنا کوئی آیا نسیم مصر کا ہو کارواں نہیں لب بند ہوں تو روزن سینہ کو کیا کروں تھمتا تو مجھ سے نالۂ آتش عناں نہیں کیا کچھ نہ کر دکھاؤں پر اک دن کے واسطے ملتا بھی ہم کو منصب ہفت آسماں نہیں وہ شاخ نخل خشک ہوں میں کنج باغ میں دیکھے ہے بھول کر بھی جسے باغباں نہیں بے وقت آئے دیر میں کیا شورشیں کریں ہم پیرو پیر میکدہ بھی نوجواں نہیں آزردہؔ نے پڑھی غزل اک مے کدہ میں کل وہ صاف تر کہ سینہ پیر مغاں نہیں
agar ham na the gham uThaane ke qaabil
اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابل تو کیوں ہوتے دنیا میں آنے کے قابل کروں چاک سینہ تو سو بار لیکن نہیں داغ دل یہ دکھانے کے قابل ملیں تم سے کیونکر رہے ہی نہیں ہم بلانے کے قابل نہ آنے کے قابل چھٹے بھی قفس سے تو کس کام کے ہیں نہیں جب چمن تک بھی جانے کے قابل بجز اس کے تھے خاک پہلے بھی اے چرخ نہ تھے خاک میں پھر ملانے کے قابل کیا ترک دنیا میں جب تو یہ سمجھے کہ دنیا نہیں دل لگانے کے قابل وہ آئے دم نزع کیا کہہ سکیں نہیں ہونٹ تک بھی ہلانے کے قابل خدایا یہ رنج اور یہ ناصبوری نہ تھے ہم تو اس آزمانے کے قابل رہے ہم نہ کچھ مصطفیٰ خاں کے غم میں نہ فکر سخن نے پڑھانے کے قابل نہ چھوڑیں گے محبوب الٰہی کے در کو نہیں گو ہم اس آستانے کے قابل ہمیں قید کرنے سے کیا نفع صیاد نہ تھے دام میں ہم تو لانے کے قابل نہ بال منقش نہ پرہائے رنگیں نہ آواز خوش کے سنانے کے قابل ہوئے ہیں وہ ناقابلوں میں شمار اب جنہیں مانتے تھے زمانے کے قابل وہ آزردہؔ جو خوش بیاں تھے نہیں اب اشارے سے بھی کچھ بتانے کے قابل
ye kah ke rakhna Daaliye un ke hijaab mein
یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میں اچھے برے کا حال کھلے گا نقاب میں یا رب وہ خواب حق میں مرے خواب مرگ ہو آئے وہ مست خواب اگر میرے خواب میں تحقیق ہو تو جانوں کہ میں کیا ہوں قیس کیا لکھا ہوا ہے یوں تو سبھی کچھ کتاب میں میں اور ذوق بادہ کشی لے گئیں مجھے یہ کم نگاہیاں تری بزم شراب میں ہیں دونوں مثل شیشہ پہ سامان صد شکست جیسا ہے میرے دل میں نہیں ہے حباب میں یہ عمر اور عشق ہے آزردہؔ جائے شرم حضرت یہ باتیں پھبتی تھیں عہد شباب میں
naalon se mere kab tah-o-baalaa jahaan nahin
نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیں کب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیں قاتل کی چشم تر نہ ہو یہ ضبط آہ دیکھ جوں شمع سر کٹے پہ اٹھا یاں دھواں نہیں اے بلبلان شعلہ دم اک نالہ اور بھی گم کردہ راہ باغ ہوں یاد آشیاں نہیں اس بزم میں نہیں کوئی آگاہ ورنہ کب واں خندہ زیر لب ادھر اشک نہاں نہیں اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں ناز و نگہ روش سبھی لاگو ہیں جان کے ہے کون ادا وہ تیری کہ جو جاں ستاں نہیں ملنا ترا یہ غیر سے ہو بہر مصلحت ہم کو تو سادگی سے تری یہ گماں نہیں آزردہ تک بھی کچھ نہ ہے اس کے روبرو مانا کہ آپ سا کوئی جادو بیاں نہیں
hai muft dil ki qimat agar ik nazar mile
ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملے یہ وہ متاع ہے کہ نہ لیں مفت اگر ملے انصاف کر کہ لاؤں میں پھر کون سا وہ دن محشر کے روز بھی نہ جو داد جگر ملے پروانہ وار ہے حد پرواز شعلہ تک جلنے ہی کے لیے مجھے یہ بال و پر ملے آنے سے خط کے جاتے رہے وہ بگاڑ سب بن آئی اب تو حضرت دل لو خضر ملے کیا شکر کا مقام ہے مرنے کی جاہے دل کچھ مضطرب سے آج وہ بیرون در ملے عالم خراب ہے نہ نکلنے سے آپ کے نکلو تو دیکھو خاک میں کیا گھر کے گھر ملے ہے شام ہجر آج او ظالم او فلک گردش وہ کر کہ شام سے آ کر سحر ملے گو پاس ہو پہ چین تو ہے اس بگاڑ میں کیا لطف تھا لڑے وہ ادھر اور ادھر ملے دل نے ملا دیں خاک میں سب وضع داریاں جوں جوں رکے وہ ملنے سے ہم بیشتر ملے ٹوٹے یہ بخیہ زخم کا ہمدم کہیں سے لا خنجر ملے کٹار ملے نیشتر ملے تھا اصل میں مراد ڈبونا جہان کا قابل سمجھ کے گویا ہمیں چشم تر ملے اس کی گلی میں لے گئے آزردہؔ کو اسے دی تھی دعا یہ کس نے کہ جنت میں گھر ملے
kaash maqbul ho duaa-e-adu
کاش مقبول ہو دعائے عدو کیا کروں وہ بھی مستجاب نہیں اب تو اس چشم تر کا چرچا ہے ذکر دریا نہیں سحاب نہیں جمع طوفان و چشم تر مصرف اب مصارف کا کچھ حساب نہیں دھو دیا سب کو دیدۂ تر نے وہ نہیں درس وہ کتاب نہیں عشق بازی کا منہ چڑانا ہے اور وہ موسم نہیں شباب نہیں تیری آنکھوں کے دور میں کیا کیا سحر رسوا نہیں خراب نہیں مختصر حال چشم و دل یہ ہے اس کو آرام اس کو خواب نہیں جو سراپائے یار آزردہؔ تیرے دیواں کا انتخاب نہیں





