SHAWORDS
Muzaffar Hanfi

Muzaffar Hanfi

Muzaffar Hanfi

Muzaffar Hanfi

poet
46Shayari
47Ghazal

Popular Shayari

46 total

Ghazalغزل

See all 47
غزل · Ghazal

کئی سوکھے ہوئے پتے ہرے معلوم ہوتے ہیں ہمیں دیکھو کہیں سے دل جلے معلوم ہوتے ہیں مہینوں سے جو خالی تھا وہ کمرہ اٹھ گیا شاید یہ الہڑ پن یہ معصومی نئے معلوم ہوتے ہیں سمٹ آتی تھی کس اپنائیت کے ساتھ وہ کٹیا عمارت میں تو ہم دبکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں غموں پر مسکرا لیتے ہیں لیکن مسکرا کر ہم خود اپنی ہی نظر میں چور سے معلوم ہوتے ہیں قدم لیتی ہے بڑھ کر اوس میں بھیگی ہوئی دھرتی یہ پس ماندہ مسافر شہر کے معلوم ہوتے ہیں بڑھاوا دے رہے ہیں مضمحل چہرے کی زردی کو ترے جوڑے میں یہ غنچے برے معلوم ہوتے ہیں بتائیں کیا کہ بے چینی بڑھاتے ہیں وہی آ کر بہت بے چین ہم جن کے لیے معلوم ہوتے ہیں پرانا ہو چکا چشمے کا نمبر بڑھ گیا شاید ستارے ہم کو مٹی کے دیے معلوم ہوتے ہیں سنا اے دوستو تم نے کہ شاعر ہیں مظفرؔ بھی بہ ظاہر آدمی کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں

kai sukhe hue patte hare maalum hote hain

غزل · Ghazal

پیر مغاں کو قبلۂ حاجات کہہ گیا میں بھی ہنسی ہنسی میں بڑی بات کہہ گیا تاریک راستے کا مسافر نہیں ہے وہ جو تیرے گیسوؤں کو سیہ رات کہہ گیا قاصد نے اس کی بات بنائی نہ ہو کہیں کس بے تکلفی سے جوابات کہہ گیا پھولوں نے ہنس کے ٹال دیا وقت پر ہمیں کانٹا مگر بہار کے حالات کہہ گیا میں، چونکہ مصلحت کے تقاضے عجیب ہیں اس کی جفا کو گردش آفات کہہ گیا یہ لیجئے جناب کی بازی پلٹ گئی جو ہارتا رہا ہے وہی مات کہہ گیا نا گفتنی لکھی ہے مظفرؔ نے عمر بھر جو کچھ زبان کہہ نہ سکی ہات کہہ گیا

pir-e-mughaan ko qibla-e-haajaat kah gayaa

غزل · Ghazal

مرے خیال کی ندرت کسی کو کیا معلوم طلسم رنگ تمنا ہے اب ہوا معلوم کہیں پناہ نہیں ہے ہمیں تو چلنا ہے اگرچہ پیروں میں دم ہے نہ راستا معلوم اسے اڑا کے ہوا لے گئی نہ جانے کہاں کدھر لگائے گا دریا ہمیں خدا معلوم ستارہ ٹوٹ رہا تھا تو سب نے دیکھا تھا گیا کہاں یہ کسی کو نہ ہو سکا معلوم اسے کسی کو سنا دیجیے دعا دے گا وہ ایک نغمہ ہے خالق ہے جس کا نا معلوم نہ جانے کس نے مظفرؔ کی مخبری کی ہے ترے سوا تو کسی اور کو نہ تھا معلوم

mire khayaal ki nudrat kisi ko kyaa maa'lum

غزل · Ghazal

اب میں اشعار کے پیرائے میں ڈھل جاؤں گا ورنہ اس روشنیٔ طبع سے جل جاؤں گا بخشئے مجھ کو یہ پگڈنڈی غنیمت ہے مجھے شاہراہوں پہ چلوں گا تو کچل جاؤں گا اپنے سائے سے تصادم نہ کہیں ہو جائے سوچ رکھا ہے کہ پٹری ہی بدل جاؤں گا میری خواہش کو تو خورشید بھی پاسنگ نہیں یہ نہ سمجھو کہ ستاروں سے بہل جاؤں گا اے مظفرؔ مرے احباب کو خوش فہمی ہے جیسے میں ان کے سنبھالے سے سنبھل جاؤں گا

ab main ash'aar ke pairaae mein Dhal jaaungaa

غزل · Ghazal

مل کر ہر ایک شخص سے دل اتنا بھر گیا اب اپنا ہی وجود نظر سے اتر گیا کیا جانے کیوں یہ ہوتا ہے محسوس ان دنوں میں جی رہا ہوں مجھ میں کوئی تھا جو مر گیا پہلا سا وہ خروش سمندر میں اب کہاں سیلاب ختم ہو گیا طوفاں گزر گیا موسم نے جب بھی چپکے سے کچھ گل کھلائے ہیں الزام شوخ تیز ہواؤں کے سر گیا پانی کی طرح بہہ گئیں صدیاں کبھی کبھی اکثر ہوا ہے یوں بھی کہ لمحہ ٹھہر گیا مدت کے بعد آئینہ کل سامنے پڑا دیکھی جو اپنی شکل تو چہرہ اتر گیا

mil kar har ek shakhs se dil itnaa bhar gayaa

غزل · Ghazal

بچے لائے انوکھی تتلی اور نرالے پھول خوشبو دینے والی تتلی اڑنے والے پھول جس دن گلشن میں نفرت کی آندھی چلتی ہے شاخوں پر اگنے لگتے ہیں کالے کالے پھول اس کے پیروں میں کانٹے تھے چھالے ہاتھوں میں اوپر سے پریوں نے اس بچے پر ڈالے پھول ہمرا اور ثمرہ نے سالگرہ پر ایمن کی خوب چھڑائی آتش بازی خوب اچھالے پھول میری گود میں پوتی ہے تو پوتا کندھے پر جیسے جھلمل جھلمل جگنو بھولے بھالے پھول لفظوں کے اس جادوگر کے پیارے پیارے شعر انگارے دامن میں رکھے اور نکالے پھول

bachche laae anokhi titli aur niraale phuul

Similar Poets