us vaqt jab tilism-e-falak TuTne ko thaa
aisaa huaa ki mujh ko bulaane lagi zamin

Muzaffar Hanfi
Muzaffar Hanfi
Muzaffar Hanfi
Popular Shayari
46 total'muzaffar' vo mire fan ki bulandi dekhti kaise
udhar to dekh kar tanqid ki dastaar girti hai
mausam ne khet-khet ugaai hai fasl-e-zard
sarson ke khet hain ke jo piile nahin rahe
mere tikhe sher ki qimat dukhti rag par kaari choT
chikni chupDi ghazlein be-shak aap kharidein sone se
main apnaa she'r kaise nazr kar duun ahl-e-daulat ko
ujaale mein to ye raushan sitaara Duub jaaegaa
suntaa huun ki tujh ko bhi zamaane se gila hai
mujh ko bhi ye duniyaa nahin raas aai idhar aa
roti hui ek bhiiD mire gird khaDi thi
shaayad ye tamaasha mire hansne ke liye thaa
shukriya reshmi dilaase kaa
tiir to aap ne bhi maaraa thaa
mujh se mat bolo main aaj bharaa baiThaa huun
cigarette ke donon paikeT bilkul khaali hain
khilte hain dil mein phuul tiri yaad ke tufail
aatish-kada to der hui sard ho gayaa
kaanTe bone vaale sach-much tu bhi kitnaa bholaa hai
jaise raahi ruk jaaeinge tere kaanTe bone se
is khurduri ghazal ko na yuun munh banaa ke dekh
kis haal mein likhi hai mire paas aa ke dekh
Ghazalغزل
کئی سوکھے ہوئے پتے ہرے معلوم ہوتے ہیں ہمیں دیکھو کہیں سے دل جلے معلوم ہوتے ہیں مہینوں سے جو خالی تھا وہ کمرہ اٹھ گیا شاید یہ الہڑ پن یہ معصومی نئے معلوم ہوتے ہیں سمٹ آتی تھی کس اپنائیت کے ساتھ وہ کٹیا عمارت میں تو ہم دبکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں غموں پر مسکرا لیتے ہیں لیکن مسکرا کر ہم خود اپنی ہی نظر میں چور سے معلوم ہوتے ہیں قدم لیتی ہے بڑھ کر اوس میں بھیگی ہوئی دھرتی یہ پس ماندہ مسافر شہر کے معلوم ہوتے ہیں بڑھاوا دے رہے ہیں مضمحل چہرے کی زردی کو ترے جوڑے میں یہ غنچے برے معلوم ہوتے ہیں بتائیں کیا کہ بے چینی بڑھاتے ہیں وہی آ کر بہت بے چین ہم جن کے لیے معلوم ہوتے ہیں پرانا ہو چکا چشمے کا نمبر بڑھ گیا شاید ستارے ہم کو مٹی کے دیے معلوم ہوتے ہیں سنا اے دوستو تم نے کہ شاعر ہیں مظفرؔ بھی بہ ظاہر آدمی کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں
kai sukhe hue patte hare maalum hote hain
پیر مغاں کو قبلۂ حاجات کہہ گیا میں بھی ہنسی ہنسی میں بڑی بات کہہ گیا تاریک راستے کا مسافر نہیں ہے وہ جو تیرے گیسوؤں کو سیہ رات کہہ گیا قاصد نے اس کی بات بنائی نہ ہو کہیں کس بے تکلفی سے جوابات کہہ گیا پھولوں نے ہنس کے ٹال دیا وقت پر ہمیں کانٹا مگر بہار کے حالات کہہ گیا میں، چونکہ مصلحت کے تقاضے عجیب ہیں اس کی جفا کو گردش آفات کہہ گیا یہ لیجئے جناب کی بازی پلٹ گئی جو ہارتا رہا ہے وہی مات کہہ گیا نا گفتنی لکھی ہے مظفرؔ نے عمر بھر جو کچھ زبان کہہ نہ سکی ہات کہہ گیا
pir-e-mughaan ko qibla-e-haajaat kah gayaa
مرے خیال کی ندرت کسی کو کیا معلوم طلسم رنگ تمنا ہے اب ہوا معلوم کہیں پناہ نہیں ہے ہمیں تو چلنا ہے اگرچہ پیروں میں دم ہے نہ راستا معلوم اسے اڑا کے ہوا لے گئی نہ جانے کہاں کدھر لگائے گا دریا ہمیں خدا معلوم ستارہ ٹوٹ رہا تھا تو سب نے دیکھا تھا گیا کہاں یہ کسی کو نہ ہو سکا معلوم اسے کسی کو سنا دیجیے دعا دے گا وہ ایک نغمہ ہے خالق ہے جس کا نا معلوم نہ جانے کس نے مظفرؔ کی مخبری کی ہے ترے سوا تو کسی اور کو نہ تھا معلوم
mire khayaal ki nudrat kisi ko kyaa maa'lum
اب میں اشعار کے پیرائے میں ڈھل جاؤں گا ورنہ اس روشنیٔ طبع سے جل جاؤں گا بخشئے مجھ کو یہ پگڈنڈی غنیمت ہے مجھے شاہراہوں پہ چلوں گا تو کچل جاؤں گا اپنے سائے سے تصادم نہ کہیں ہو جائے سوچ رکھا ہے کہ پٹری ہی بدل جاؤں گا میری خواہش کو تو خورشید بھی پاسنگ نہیں یہ نہ سمجھو کہ ستاروں سے بہل جاؤں گا اے مظفرؔ مرے احباب کو خوش فہمی ہے جیسے میں ان کے سنبھالے سے سنبھل جاؤں گا
ab main ash'aar ke pairaae mein Dhal jaaungaa
مل کر ہر ایک شخص سے دل اتنا بھر گیا اب اپنا ہی وجود نظر سے اتر گیا کیا جانے کیوں یہ ہوتا ہے محسوس ان دنوں میں جی رہا ہوں مجھ میں کوئی تھا جو مر گیا پہلا سا وہ خروش سمندر میں اب کہاں سیلاب ختم ہو گیا طوفاں گزر گیا موسم نے جب بھی چپکے سے کچھ گل کھلائے ہیں الزام شوخ تیز ہواؤں کے سر گیا پانی کی طرح بہہ گئیں صدیاں کبھی کبھی اکثر ہوا ہے یوں بھی کہ لمحہ ٹھہر گیا مدت کے بعد آئینہ کل سامنے پڑا دیکھی جو اپنی شکل تو چہرہ اتر گیا
mil kar har ek shakhs se dil itnaa bhar gayaa
بچے لائے انوکھی تتلی اور نرالے پھول خوشبو دینے والی تتلی اڑنے والے پھول جس دن گلشن میں نفرت کی آندھی چلتی ہے شاخوں پر اگنے لگتے ہیں کالے کالے پھول اس کے پیروں میں کانٹے تھے چھالے ہاتھوں میں اوپر سے پریوں نے اس بچے پر ڈالے پھول ہمرا اور ثمرہ نے سالگرہ پر ایمن کی خوب چھڑائی آتش بازی خوب اچھالے پھول میری گود میں پوتی ہے تو پوتا کندھے پر جیسے جھلمل جھلمل جگنو بھولے بھالے پھول لفظوں کے اس جادوگر کے پیارے پیارے شعر انگارے دامن میں رکھے اور نکالے پھول
bachche laae anokhi titli aur niraale phuul





