umr bhar rahnaa hai taabir se gar duur tumhein
phir mire khvaab mein aane ki zarurat kyaa hai

Nadeem Gullani
Nadeem Gullani
Nadeem Gullani
Popular Shayari
7 totaltamaam umr tire intizaar mein hamdam
khizaan-rasida rahaa huun bahaar kar mujh ko
tujh se main jang kaa elaan bhi kar hi dungaa
mere dushman tu mire qad ke baraabar to aa
tumhein hamaari mohabbaton ke hasin jazbe bulaa rahe hain
jo ham ne likkhe the tum pe hamdam vo saare naghme bulaa rahe hain
nahin hai jis kaa hal ab to koi 'nadim' bas ik sivaa tumhaare
main ek aisaa hi masala huun mujhe duaaon mein yaad rakhnaa
duniyaa badal gai thi koi gham na thaa mujhe
tum bhi badal gae the ye hairaani khaa gai
tu samajhtaa hai gar fuzul mujhe
kar ke himmat zaraa saa bhuul mujhe
Ghazalغزل
ساحل پہ تیرے بعد کی ویرانی کھا گئی اترے سمندروں میں تو طغیانی کھا گئی طاقت یہ چار دن کی ہے تاریخ پڑھ ذرا سلطان کتنے تھے جنہیں سلطانی کھا گئی دنیا بدل گئی تھی کوئی غم نہ تھا مجھے تم بھی بدل گئے تھے یہ حیرانی کھا گئی
saahil pe tere baad ki viraani khaa gai
1 views
تری قربتیں ہیں سکوں جان جاناں وگرنہ محبت جنوں جان جاناں جو سوچوں میں حالات اپنے وطن کے رگوں میں سے رستا ہے خوں جان جاناں ابھی تک گھنیری سی چادر میں ہوں میں کسی زلف کا ہے فسوں جان جاناں فسانے محبت کے زندہ رہیں گے میں لکھوں نہ چاہے لکھوں جان جاناں تمہاری محبت کا اب بھی قسم سے مرے چار سو ہے فسوں جان جاناں خریدار تو ہو تو خواہش ہے میری کہ یوسف کے طرح بکوں جان جاناں زمانہ تو کہتا ہے کہتا رہے گا یہ یوں ہے یہ یوں ہے یہ یوں جان جاناں
tiri qurbatein hain sakun jaan-e-jaanaan
1 views
تمہیں ہماری محبتوں کے حسین جذبے بلا رہے ہیں جو ہم نے لکھے تھے تم پہ ہمدم وہ سارے نغمے بلا رہے ہیں جو حق غریبوں کا کھا رہے ہو تو یاد رکھنا اے حکمرانو کہیں پہ تم کو بھی ظلمتوں کے سلگتے رقبے بلا رہے ہیں ہمارے لہجے کی لرزشوں سے سمجھ سکو تو سمجھ بھی جاؤ تمہارے غم سے لگے جو دل پہ وہ سارے تمغے بلا رہے ہیں ندیمؔ دانشوروں کی محفل کبھی نہ کچھ بھی عطا کرے گی چلو کہ ''جانی پورہ'' جہاں پہ وہ یار کملے بلا رہے ہیں
tumhein hamaari mohabbaton ke hasin jazbe bulaa rahe hain
1 views
تو سمجھتا ہے گر فضول مجھے کر کے ہمت ذرا سا بھول مجھے ایک شفاف آئینہ تھا میں راستے نے کیا ہے دھول مجھے چور رستے کے صاحب دیواں انکھڑیاں کھول کر قبول مجھے میں زمانے پہ تیرا قرضہ ہوں کب کرے گا بھلا وصول مجھے
tu samajhtaa hai gar fuzul mujhe
1 views
اپنی الجھن کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہے چھوڑنا ہے تو بہانے کی ضرورت کیا ہے لگ چکی آگ تو لازم ہے دھواں اٹھے گا درد کو دل میں چھپانے کی ضرورت کیا ہے عمر بھر رہنا ہے تعبیر سے گر دور تمہیں پھر مرے خواب میں آنے کی ضرورت کیا ہے اجنبی رنگ چھلکتا ہو اگر آنکھوں سے ان سے پھر ہاتھ ملانے کی ضرورت کیا ہے آج بیٹھے ہیں ترے پاس کئی دوست نئے اب تجھے دوست پرانے کی ضرورت کیا ہے ساتھ رہتے ہو مگر ساتھ نہیں رہتے ہو ایسے رشتے کو نبھانے کی ضرورت کیا ہے
apni uljhan ko baDhaane ki zarurat kyaa hai
1 views
فضول وقت سمجھ کے گزار کر مجھ کو وہ جا رہا ہے کہیں دور مار کر مجھ کو تلاش مجھ کو ہے اس چاہتوں کی دیوی کی جو چھپ گئی ہے ہمیشہ پکار کر مجھ کو تمام عمر ترے انتظار میں ہمدم خزاں رسیدہ رہا ہوں بہار کر مجھ کو ترا خلوص تو چہرے بدلتا رہتا ہے کہ ایک پل کو ہی اپنا شمار کر مجھ کو ندیمؔ اس کا پرانا لباس ہوں شاید وہ لگ رہا ہے بہت خوش اتار کر مجھ کو
fuzul vaqt samajh ke guzaar kar mujh ko
1 views





