SHAWORDS
Nafas Ambalvi

Nafas Ambalvi

Nafas Ambalvi

Nafas Ambalvi

poet
24Shayari
39Ghazal

Popular Shayari

24 total

Ghazalغزل

See all 39
غزل · Ghazal

بازی اگرچہ زیست کی ہم ہار تو گئے لیکن جو دل پہ نقش تھے آزار تو گئے کتنے شناوروں کو یہ دریا نگل گیا طغیانیوں میں ڈوب کے ہم پار تو گئے بارش کا زور ہے مرے خستہ مکان پر لگتا ہے اب کے یہ در و دیوار تو گئے ہم لوگ اب قدیم نمائش کی چیز ہیں بازار سے اب اپنے خریدار تو گئے وہ درمیاں غزل کے جو اٹھ کر چلا گیا اے بزم شاعری ترے معیار تو گئے لگتا ہے اب کے جان ہی جائے گی ایک دن اس شاعری کے شوق میں گھر بار تو گئے چل اے نفسؔ کہ ہم بھی کہیں اور جا بسیں دو چار تھے جو شہر میں غم خوار تو گئے

baazi agarche ziist ki ham haar to gae

غزل · Ghazal

پہلے سمندروں میں اتارا گیا مجھے پھر پیاس کی حدوں سے گزارا گیا مجھے دیکھا تو کچھ نہیں تھا وہاں دشت کے سوا پھر بھی لگا کہ جیسے پکارا گیا مجھے عمر رواں نے پوچھ لیا مجھ سے ایک دن کیوں بے دلی کے ساتھ گزارا گیا مجھے پہلے وہ میری موت پہ خود مطمئن ہوا پھر دار سے زمیں پہ اتارا گیا مجھے بازی کو جیتنے کی ہوس میں بساط پر افسوس جان بوجھ کے ہارا گیا مجھے یوں ہی میں اس کی بزم سے اٹھ کر نہیں گیا دراصل پہلے اس کا اشارہ گیا مجھے کچھ میں بھی تیز گام نہیں تھا کچھ اے نفسؔ پر خار راستوں سے گزارا گیا مجھے

pahle samundaron mein utaaraa gayaa mujhe

غزل · Ghazal

کون سی شاخ کا پتا تھا ہرا بھول گیا پیڑ سے ٹوٹ کے میں اپنا پتہ بھول گیا میں کوئی وعدہ فراموش نہیں ہوں پھر بھی مجھ پہ الزام ہے میں اپنا کہا بھول گیا اپنے بچوں کے کھلونے تو اسے یاد رہے گھر میں بیمار پڑی ماں کی دوا بھول گیا کر تو دیں میں نے چراغوں کی قطاریں روشن ہے زمانے کی مگر تیز ہوا بھول گیا خوف دوزخ سے ڈراتا رہا واعظ مجھ کو اور خود اپنے گناہوں کی سزا بھول گیا تجھ سے کچھ کام تھا لیکن ترے گھر کے آگے اب کھڑا سوچ رہا ہوں کہ میں کیا بھول گیا بے خودی حد سے جو گزری تو میں اک روز نفسؔ گھر سے کیا نکلا کہ پھر گھر کا پتہ بھول گیا

kaun si shaakh kaa pattaa thaa haraa bhuul gayaa

غزل · Ghazal

دربدر ہو کے در سے ٹوٹ گیا میں تو جیسے سفر سے ٹوٹ گیا ڈھل گئی شام اب کہاں جاؤں جو تعلق تھا گھر سے ٹوٹ گیا کچھ خبر بھی ہے ان ہواؤں کو زرد پٹا شجر سے ٹوٹ گیا کوئی حد بھی تو ہو بکھرنے کی خواب دیکھا تو ڈر سے ٹوٹ گیا تم نے ناحق اٹھا لئے پتھر آئنہ تو نظر سے ٹوٹ گیا عہد یہ تھا کہ ساتھ چلنا ہے پھر بشر ہی بشر سے ٹوٹ گیا

dar-ba-dar ho ke dar se TuuT gayaa

غزل · Ghazal

جتنے بھی آئے زینت بازار ہو گئے اک ہم ہی تھے جو صاحب کردار ہو گئے جھوٹوں پہ تیرے شہر میں الزام تک نہیں اور ہم نے سچ کہا تو گنہ گار ہو گئے جب بھی کہیں چراغ جلا ہے سکوت شب سب لوگ آندھیوں کے طرفدار ہو گئے وہ ظالموں کے ساتھ ہیں مظلوم بے اماں کیسے ہمارے عہد کے اخبار ہو گئے خطرے میں ہے اب اپنے قبیلے کی آبرو جو مخبروں میں تھے وہی سردار ہو گئے ٹپکا لہو نفسؔ کے بدن سے تو یوں ہوا قطرے جہاں جہاں گرے اشعار ہو گئے

jitne bhi aae zinat-e-baazaar ho gae

غزل · Ghazal

جو گامزن ہیں انہیں قافلوں کے ساتھ چلو یہ مشورہ ہے مرا تجربوں کے ساتھ چلو گزشتہ دور کے ماضی سے کچھ سبق لے کر نئے سفر پہ نئے حوصلوں کے ساتھ چلو تمہارے زخم نہیں یہ سفر کی عظمت ہیں جو چل سکو تو انہیں آبلوں کے ساتھ چلو کہیں تمہارا تکبر نہ تم کو لے ڈوبے تو خود شناس رہو آئنوں کے ساتھ چلو تمہارے ہاتھ کے پتھر کہاں کہاں برسے یہ دیکھنا ہو تو شیشہ گروں کے ساتھ چلو مجھے یقین ہے اب بھی پرانے لوگوں پر ابھی بھی وقت ہے ان فلسفوں کے ساتھ چلو سفر کی ساری کتابیں پلٹ کے دیکھی ہیں کہاں لکھا ہے نفسؔ جاہلوں کے ساتھ چلو

jo gaamzan hain unhin qaafilon ke saath chalo

Similar Poets