SHAWORDS
Najmus Saqib

Najmus Saqib

Najmus Saqib

Najmus Saqib

poet
13Sher
13Shayari
13Ghazal

Sherشعر

See all 13

Popular Sher & Shayari

26 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

kisi khamoshi kaa zahr jab ik mukaalme ki tarah se chup thaa

کسی خموشی کا زہر جب اک مکالمے کی طرح سے چپ تھا یہ واقعہ ہے کہ شہر قاتل بجھے دیئے کی طرح سے چپ تھا سحر کے آثار جب نمایاں ہوئے تو بینائی چھن چکی تھی قبولیت کا وہ ایک لمحہ مجسمے کی طرح سے چپ تھا کسی تعلق کے ٹوٹنے کا عذاب دونوں کے دل پر اترا میں عکس بن کے ٹھہر گیا تھا وہ آئینے کی طرح سے چپ تھا پڑاؤ ڈالے کسی نے آ کے ہزار کوسوں کی دوریوں میں ہمارا دل کہ کسی پرندہ کے گھونسلے کی طرح سے چپ تھا کہیں سے اس کو بھی میری چاہت کی کچھ دلیلیں ملی تھیں شاید وہ اب کے آیا تو گزری شاموں کے اک سمے کی طرح سے چپ تھا

غزل · Ghazal

sochon se in khvaabon ki zanjirein kab utreingi

سوچوں سے ان خوابوں کی زنجیریں کب اتریں گی رستہ دیکھتی آنکھوں پر تعبیریں کب اتریں گی اپنے پیاروں کے جانے کا ماتم کب تک ہوگا دیواروں سے یہ پچھلی تصویریں کب اتریں گی ٹوٹی کڑیاں جوڑنے والے آخر کب آئیں گے گرہیں کھولنے والی وہ تحریریں کب اتریں گی تجھ بن خالی رہ کر کتنے سال بتانے ہوں گے میرے ہاتھوں میں تیری تقدیریں کب اتریں گی کب بدلیں گی زخم پہ مرہم رکھنے والی رسمیں درد کی گہرائی میں یہ تدبیریں کب اتریں گی

غزل · Ghazal

shab ko aankhon mein Thaharte koi kab tak dekhe

شب کو آنکھوں میں ٹھہرتے کوئی کب تک دیکھے بادباں خواب کا کھلتے کوئی کب تک دیکھے اپنے ہی سائے سے باتیں کرے کب تک کوئی اتنے چپ چاپ دریچے کوئی کب تک دیکھے وہی آواز جو پتھر میں بدل دے مجھ کو مڑ کے اس طرح سے پیچھے کوئی کب تک دیکھے اتنی یادوں میں کوئی یاد سکوں دے نہ سکی اس سمندر میں جزیرے کوئی کب تک دیکھے خیر تم سا تو کہاں مجھ سا نہیں ہے کوئی ہر طرف ایک سے چہرے کوئی کب تک دیکھے دکھ بھرا شہر کا منظر کبھی تبدیل بھی ہو درد کو حد سے گزرتے کوئی کب تک دیکھے منزلیں ہم کو ملیں ہیں نہ ملیں گی لیکن دھول ہوتے ہوئے رستے کوئی کب تک دیکھے

غزل · Ghazal

teri samt jaane ke raaston mein zinda huun

تیری سمت جانے کے راستوں میں زندہ ہوں پھول ہو چکا ہوں اور خوشبوؤں میں زندہ ہوں کون ہے جو ہر لمحہ صورتیں بدلتا ہے میں کسے سمجھنے کے مرحلوں میں زندہ ہوں بند سیپیوں میں ہوں منتظر ہوں بارش کا میں تمہاری آنکھوں کے پانیوں میں زندہ ہوں تو فراق کی ساعت ناتمام قربت میں میں وصال کا لمحہ دوریوں میں زندہ ہوں اب تو یہ دلاسا ہی آخری وسیلہ ہے میں ترے خیالوں کی وادیوں میں زندہ ہوں وقت سوچ تنہائی کرب وحشتیں ادراک میرا حوصلہ ایسے قاتلوں میں زندہ ہوں اپنی منفرد یکتا بے کنار ہستی کا اک حصار ہے جس کی وسعتوں میں زندہ ہوں

غزل · Ghazal

badan ko jaan se judaa ho ke zinda rahnaa hai

بدن کو جاں سے جدا ہو کے زندہ رہنا ہے یہ فیصلہ ہے فنا ہو کے زندہ رہنا ہے یہی نہیں کہ مرے گرد کھینچنی ہیں حدیں مرے خدا نے خدا ہو کے زندہ رہنا ہے ہزاروں لوگ تھے طوق انا سجائے ہوئے فقط مجھے ہی رہا ہو کے زندہ رہنا ہے مجھے تو خیر شب ہجر مار ڈالے گی تمہیں تو مجھ سے جدا ہو کے زندہ رہنا ہے درست ہے کہ جدائی میں موت آ جائے مگر یہ کیا کہ خفا ہو کے زندہ رہنا ہے کسی کو موت نہ آئی کسی کے مرنے پر سبھی نے دکھ سے سوا ہو کے زندہ رہنا ہے

غزل · Ghazal

anaa ki qaid se nikle muqaabla to kare

انا کی قید سے نکلے مقابلہ تو کرے وہ میرا ساتھ نبھانے کا حوصلہ تو کرے کبھی نہ ٹوٹنے والا حصار بن جاؤں وہ میری ذات میں رہنے کا فیصلہ تو کرے اسے میں سونپ دوں اپنی یہ منتظر آنکھیں وہ میری کھوج میں جانے کا تذکرہ تو کرے زمانے بھر کو میں اپنی گرفت میں لے لوں مرا نصیب مجھے تجھ سے ماورا تو کرے میں اس کو کھو کے ادھورا وہ مجھ کو پا کے اداس ہمارے کرب کا کوئی موازنہ تو کرے

Similar Poets