SHAWORDS
Nazeer Siddiqui

Nazeer Siddiqui

Nazeer Siddiqui

Nazeer Siddiqui

poet
12Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

12 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

چشم نم کچھ بھی نہیں اور شعر تر کچھ بھی نہیں اب یہاں خون جگر نقش ہنر کچھ بھی نہیں ہے سبھی کچھ مہرباں نا مہرباں لفظوں کا پھیر زندگی میں معتبر نا معتبر کچھ بھی نہیں دل سے دل کو راہ کیسی ہے یہ حسن اتفاق ورنہ دنیا میں محبت کا اثر کچھ بھی نہیں جس ہنر کو لوگ سمجھیں گے کبھی لعل و گہر آج کے بازار میں ایسا ہنر کچھ بھی نہیں اہل ایماں کا عقیدہ ہے خدا کے باب میں ہے وہی سب کچھ جو تا حد نظر کچھ بھی نہیں اپنے اپنے فائدے کی جنگ جاری ہے یہاں چشم بینا میں نظام خیر و شر کچھ بھی نہیں اے سکوت لا مکاں میں بیٹھنے والے بتا کیا جہان چار سو کا شور و شر کچھ بھی نہیں ہر طرف سے ظلمتوں کا ایک سیل بے ایماں اس جہاں میں حاصل فکر و نظر کچھ بھی نہیں

chashm-e-nam kuchh bhi nahin aur sher-e-tar kuchh bhi nahin

غزل · Ghazal

ہوس کی آگ بجھی دل کی تشنگی ہے وہی سکون جاں سے تہی میری زندگی ہے وہی دل فسردہ میں احساس ہی نہیں باقی جہان کہنہ میں ورنہ شگفتگی ہے وہی جمال اور جنوں ہو چکے زمانہ شناس نیاز و ناز میں کہنے کو سادگی ہے وہی کوئی قصور تو ثابت نہ ہو سکا لیکن جو بد گماں تھے انہیں مجھ سے برہمی ہے وہی وہ ہر قدم کے اثر سے ہے با خبر پھر بھی رہ حیات میں انساں کی کج روی ہے وہی

havas ki aag bujhi dil ki tishnagi hai vahi

غزل · Ghazal

لذت خواب دے گئے حسن خیال دے گئے ایک جھلک میں اتنا کچھ اہل جمال دے گئے آئے تو دل تھا باغ باغ اور گئے تو داغ داغ کتنی خوشی وہ لائے تھے کتنا ملال دے گئے دیدہ وروں کی راہ پر کون ہوا ہے گامزن وہ مگر اپنی ذات سے ایک مثال دے گئے اس سے زیادہ راہزن کرتے بھی مجھ پہ کیا ستم مال و منال لے گئے فکر مآل دے گئے اہل کمال کو نظیرؔ اہل جہاں نے کیا دیا اہل جہاں کو کیا نہیں اہل کمال دے گئے

lazzat-e-khvaab de gae husn-e-khayaal de gae

غزل · Ghazal

کس قوت‌ بے درد کا اظہار ہے دنیا ہر دل کو گلا ہے کہ دل آزار ہے دنیا لوگ اس کو کہا کرتے ہیں اچھا بھی برا بھی کیا خوب کہ دونوں کی سزاوار ہے دنیا ملتا ہی نہیں کوئی دل زار کا پرساں میرے لیے اک محفل اغیار ہے دنیا ہر سنگ میں دنیا کو نظر آتا ہے اک بت اور ایسے ہر اک بت کی پرستار ہے دنیا یہ حشر یہ ہنگامہ نہیں آج پہ موقوف سچ یہ ہے کہ صدیوں ہی سے بیمار ہے دنیا نیکی کوئی کرتا ہو تو کروٹ نہیں لیتی نیت ہو گناہوں کی تو بیدار ہے دنیا کس طرح کریں اس کی محبت پہ بھروسا اے دوست قیامت کی اداکار ہے دنیا اس طرح بھی دنیا کا گلا کرتے ہیں گویا معصوم ہے انسان گنہ گار ہے دنیا دنیا میں برا وقت تو آتا ہے سبھی پر اب خود ہی برے وقت سے دو چار ہے دنیا رہ رہ کے برستی ہیں عداوت کی گھٹائیں لگتا ہے کہ گرتی ہوئی دیوار ہے دنیا کیا کہئے اسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا اک وادیٔ پر خار کہ گلزار ہے دنیا جنت بھی اسی میں ہے جہنم بھی اسی میں گہوارۂ‌ ہر عشرت و آزار ہے دنیا ڈوبے ہوئے تاروں کا یہ ماتم نہیں کرتی چڑھتے ہوئے سورج کی پرستار ہے دنیا

kis quvvat-e-be-dard kaa izhaar hai duniyaa

غزل · Ghazal

یہ جو انساں خدا کا ہے شہکار اس کی قسمت پہ ہے خدا کی مار مرگ دشمن کی آرزو ہی سہی دل سے نکلے کسی طرح تو غبار نام بدنام ہو چکا حضرت کیجیے اب تو جرم کا اقرار اتفاقی ہے دو دلوں کا ملاپ کون سنتا ہے ورنہ کس کی پکار جینا مرنا ہے بن پڑے کی بات نہ یہ آسان اور نہ وہ دشوار کس کو پروا کہ ان پہ کیا گزری زندگی سے جو ہو گئے بیزار ملتفت خود نہ ہو اگر کوئی آہ بے سود اور فغاں بے کار پر سکوں نیند چاہتے ہو نظیرؔ ساتھ لانا تھا قسمت‌ بیدار

ye jo insaan khudaa kaa hai shahkaar

Similar Poets