"ghuTan taDpan udasi ashk rusva.i akela-pan baghair in ke adhuri ishq ki har ik kahani hai"

Neeraj Goswami
Neeraj Goswami
Neeraj Goswami
Sherشعر
See all 9 →ghuTan taDpan udasi ashk rusva.i akela-pan
گھٹن تڑپن اداسی اشک رسوائی اکیلا پن بغیر ان کے ادھوری عشق کی ہر اک کہانی ہے
sochta huun ye soch kar main use
سوچتا ہوں یہ سوچ کر میں اسے وہ بھی ایسے ہی سوچتا ہے مجھے
gar na samjha to 'niraj' lagegi kaThin
گر نہ سمجھا تو نیرجؔ لگے گی کٹھن زندگی کو جو سمجھا تو آسان ہے
mushkilon men muskurana sikhiye
مشکلوں میں مسکرانا سیکھئے پھول بنجر میں اگانا سیکھئے
ajab ye daur aaya hai ki jis men
عجب یہ دور آیا ہے کہ جس میں غلط کچھ بھی نہیں سب کچھ سہی ہے
tum se mil kar der talak
تم سے مل کر دیر تلک اچھی لگتی تنہائی
Popular Sher & Shayari
18 total"sochta huun ye soch kar main use vo bhi aise hi sochta hai mujhe"
"gar na samjha to 'niraj' lagegi kaThin zindagi ko jo samjha to asan hai"
"mushkilon men muskurana sikhiye phuul banjar men ugana sikhiye"
"ajab ye daur aaya hai ki jis men ghalat kuchh bhi nahin sab kuchh sahi hai"
"tum se mil kar der talak achchhi lagti tanha.i"
ghuTan taDpan udaasi ashk rusvaai akelaa-pan
baghair in ke adhuri ishq ki har ik kahaani hai
sochtaa huun ye soch kar main use
vo bhi aise hi sochtaa hai mujhe
ajab ye daur aayaa hai ki jis mein
ghalat kuchh bhi nahin sab kuchh sahi hai
Daal diin bhuke ko jis mein roTiyaan
vo samajh puujaa ki thaali ho gai
gar na samjhaa to 'niraj' lagegi kaThin
zindagi ko jo samjhaa to aasaan hai
mushkilon mein muskuraanaa sikhiye
phuul banjar mein ugaanaa sikhiye
Ghazalغزل
yaad har pal tujh ko karne kaa sila paane lagaa
یاد ہر پل تجھ کو کرنے کا صلہ پانے لگا مجھ کو آئینہ تیرا چہرہ ہی دکھلانے لگا دل کی بنجر سی زمیں پر جب تو برسا پیار سے ذرہ ذرہ کھل کے اس کا جھومنے گانے لگا جسم کے ہی راج پتھ پر ڈھونڈتا تھا میں جسے دل کی پگڈنڈی پے اب وہ سکھ نظر آنے لگا حسرتوں کی املیاں گرنے لگیں تب پیڑ سے حوصلہ کا جب تو پتھر اس پے برسانے لگا میرے گھر سے تیرے گھر کا راستہ مشکل تو ہے پر ملن کی چاہ سے آسان ہو جانے لگا سوچنے میں وقت نیرجؔ مت لگانا بھول کر پیار قاتل سے بھی کر گر وہ تجھے بھانے لگا
nahin hai are ye baghaavat nahin hai
نہیں ہے ارے یہ بغاوت نہیں ہے ہمیں سر جھکانے کی عادت نہیں ہے چھپائے ہوئے ہیں وہی لوگ خنجر جو کہتے کسی سے عداوت نہیں ہے کروں کیا پروں کا اگر ان سے مجھ کو فلک ناپنے کی اجازت نہیں ہے اٹھا کر گرانا گرا کر مٹانا ہمارے یہاں کی روایت نہیں ہے ملا کر نگاہیں جھکاتے جو گردن وہی کہہ رہے ہیں محبت نہیں ہے بہت کر لی پہلے زمانے سے ہم نے ہمیں اب کسی سے شکایت نہیں ہے کہو کیا کرو گے گھٹاؤں کا نیرجؔ اگر بھیگ جانے کی چاہت نہیں ہے
mushkilon ki yahi hain baDi mushkilein
مشکلوں کی یہی ہیں بڑی مشکلیں آپ جب چاہیں کم ہوں تبھی یہ بڑھیں اب کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں یاد تجھ کو کریں اور زندہ رہیں بس اسی سوچ ثے جھوٹ قائم رہا بول کر سچ بھلا ہم برے کیوں بنیں ڈالیوں پے پھدکنے سے جو مل گئی اس خوشی کے لیے کیوں فلک پر اڑیں ہم درندے نہیں گر ہیں انسان تو آئنہ دیکھنے ثے بتا کیوں ڈریں زندگی خوبصورت بنے اس طرح ہم کہیں تم سنو تم کہو ہم سنیں آ کے ہولے سے چھو لیں وو ہونٹھوں سے گر تو سریلی مرلیا سے نیرجؔ بجیں
jiye khud ke liye gar ham mazaa tab kyaa hai jiine mein
جئے خود کے لیے گر ہم مزا تب کیا ہے جینے میں بہے اوروں کی خاطر جو ہے خوشبو اس پسینے میں ہے جن کے بازوؤں میں دم وہ دریا پار کر لیں گے بہت ممکن ہے ڈوبیں وہ جو بیٹھے ہیں سفینے میں یہ کیسا دور آیا ہے سروں پر تاج ہے ان کے نہیں معلوم جن کو فرق پتھر اور نگینے میں ہمارے دوستوں کی مسکراہٹ اک چھلاوا ہے ہے پایہ زہر اکثر خوبصورت آبگینے میں گئے تم دور جب سے دل یہ کہتا ہے کرو توبہ مزہ آتا نہیں خود ہی اٹھا کر جام پینے میں ستم سہنے کی عادت اس قدر ہم کو پڑی نیرجؔ کہیں کچھ ہو، نہیں اب کھولتا ہے خون سینے میں
baat sach-much mein niraali ho gai
بات سچ مچ میں نرالی ہو گئی اب نصیحت ایک گالی ہو گئی یہ اثر ہم پر ہوا اس دور کا بھاونا دل کی موالی ہو گئی ڈال دیں بھوکے کو جس میں روٹیاں وہ سمجھ پوجا کی تھالی ہو گئی طے کیا چلنا جدا جب بھیڑ سے ہر نظر دیکھا سوالی ہو گئی قید کا اتنا مزہ مت لیجئے رو پڑیں گے گر بحالی ہو گئی اک اماوس ہی تو تھی اپنی حیات مل گئے تم تو دوالی ہو گئی ہاتھ میں قاتل کے نیرجؔ پھول ہے بات اب گھبرانے والی ہو گئی
baad muddat ke vo milaa hai mujhe
بعد مدت کے وہ ملا ہے مجھے ڈر جدائی کا پھر لگا ہے مجھے آ گیا ہوں میں دسترس میں تری اپنے انجام کا پتہ ہے مجھے کیا کروں یہ کبھی نہیں کہتا جو کروں اس پہ ٹوکتا ہے مجھے تجھ سے مل کے میں جب سے آیا ہوں ہر کوئی مڑ کے دیکھتا ہے مجھے اب تلک کچھ ورق ہی پلٹے ہیں تجھ کو جی بھر کے بانچنا ہے مجھے ٹھوکریں جب کبھی میں کھاتا ہوں کون ہے وہ جو تھامتا ہے مجھے سوچتا ہوں یہ سوچ کر میں اسے وہ بھی ایسے ہی سوچتا ہے مجھے میں تجھے کس طرح بیان کروں یہ کرشمہ تو سیکھنا ہے مجھے نیند میں چل رہا تھا میں نیرجؔ تو نے آ کر جگا دیا ہے مجھے





