SHAWORDS
Nivesh Sahu

Nivesh Sahu

Nivesh Sahu

Nivesh Sahu

poet
15Shayari
14Ghazal

Popular Shayari

15 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

زمیں پر معجزہ کرنے کی سازش بتوں کو دیوتا کرنے کی سازش ہمارا چیخنا جسموں کے اندر خموشی کو سدا کرنے کی سازش درختوں پر بنانا نقشہ دل کے انہیں گویا ہرا کرنے کی سازش کشادہ اک قفس ہے آسماں بھی اسے کیجے خلا کرنے کی سازش ہمیں سے منزلوں کا کام لینا ہمیں کو راستہ کرنے کی سازش یہ ہر موسم پرندوں کو اڑانا یہ پنجروں کو خفا کرنے کی سازش تجھے مجھ سے توقع ہی نہیں کچھ مجھے یعنی خدا کرنے کی سازش

zamin par mo'jiza karne ki saazish

غزل · Ghazal

اک رنج دل کے جس سے سوا چاہتا نہیں کچھ بھی ہو پھر میں اس کی جگہ چاہتا نہیں اس کو بھی میں طلب ہوں مگر مجھ سے کچھ جدا کوئی بھی مجھ کو میری طرح چاہتا نہیں اکتا چکا ہوں روح کی لا فانیت سے پر وہ جسم ہوں کے راہ فنا چاہتا نہیں کوئی بھی تیرے زخم سی تاثیر کیسے دے لیکن میں اس کا اور مزہ چاہتا نہیں اس بار تو ملے تو تجھے چومنا بھی ہے میں زندگی میں اور گلہ چاہتا نہیں ہر لا دوا مرض کو دعاؤں سے ہے امید تیرا کوئی مریض دوا چاہتا نہیں مانا کہ عہد وصل کا بھی پاس ہے مگر آخر وہ کیسے ہو جو خدا چاہتا نہیں

ik ranj-e-dil ke jis se sivaa chaahtaa nahin

غزل · Ghazal

رہ یقیں پہ گماں کا غبار آتا ہے جب اس کو پار کرو تب قرار آتا ہے تمام بھیڑ چلاتی ہے اک خدا سے ہی کام کسی کسی کے صحیفے میں یار آتا ہے عجب نہیں ہے جو دونوں ہی ہو گئے پتھر اسے بھی میری طرح انتظار آتا ہے تری پسند ہی میری پسند ہے شاید کبھی کبھی مجھے مجھ پر بھی پیار آتا ہے دیار سینۂ خالی سے خوف مت کھاؤ یہاں پہ دیکھنا پروردگار آتا ہے میں گرم و سرد میں الجھا ہوں موسم دل کے گو بارشوں کا مجھے اشتہار آتا ہے

rah-e-yaqin pe gumaan kaa ghubaar aataa hai

غزل · Ghazal

وہ رنگ و بو وہ خال و خد نہیں رہا کہ اب وہ پھول مستند نہیں رہا سخنوری کا زعم کھا گیا ہمیں کسی کا شعر بھی سند نہیں رہا ہمیشگی نہ تم میں تھی نہ ہم میں تھی ہمارا پیار تا ابد نہیں رہا یہاں ہیں ہم نگاہ تو جھکائیے جو تھا ہمارا اب وہ قد نہیں رہا ہوس کے پنکھ لگ گئے جنون کو ترا خیال تا بحد نہیں رہا یہ دل بھی اب دماغ ہو گیا اثرؔ کمال ہے یہ بے خرد نہیں رہا

vo rang-o-bu vo khaal-o-khad nahin rahaa

غزل · Ghazal

سنسان بستیوں کی طرف دیکھتے رہو شہروں سے جنگلوں کی طرف دیکھتے رہو سوکھی پڑی ندی کو کبھی پار مت کرو ساحل سے ساحلوں کی طرف دیکھتے رہو خواہش براہ راست اسی اک بدن سے ہے خواہش سے خواہشوں کی طرف دیکھتے رہو کچھ خاص اہل فن کو مناظر دکھاؤ اور پھر عام منظروں کی طرف دیکھتے رہو یہ دیکھتے رہو کہ کوئی دیکھتا بھی ہے ان دیکھتے ہوؤں کی طرف دیکھتے رہو وہ چاند ہی بھلے کہ جنہیں چھو سکو اثرؔ تم اس کی بالیوں کی طرف دیکھتے رہو

sunsaan bastiyon ki taraf dekhte raho

غزل · Ghazal

وہ اک جھلک وہ موج مجھ میں آ کے سب بہا گئی درخت جانے کیا ہوئے ندی کہاں سما گئی جہاں میں یہ عجب نہیں دیا جلے ہوا چلے بس اس پے غور کیجئے دیا بجھا ہوا گئی مرے چلائے تیر جانے کیسے مجھ کو آ لگے مری اڑائی خاک مجھ کو خاک میں ملا گئی فریب عشق میں جو تھی بدن کو اک بدن کی بھوک یہ بھوک اتنی بڑھ گئی کہ پھر مجھے ہی کھا گئی ترا خیال پھول ہے کہ تجھ کو سوچتے ہوئے کوئی مہک کہیں سے آ کے چاروں اور چھا گئی مرا سفر قیام مانگتا ہے میرے ہم سفر تو اپنی سوچ آگے بڑھ مری سرائے آ گئی

vo ik jhalak vo mauj mujh mein aa ke sab bahaa gai

Similar Poets