SHAWORDS
Payam Fatehpuri

Payam Fatehpuri

Payam Fatehpuri

Payam Fatehpuri

poet
7Shayari
19Ghazal

Popular Shayari

7 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

مرے لہو سے ہے اک رنگ نو بہار غزل غریب شہر ہوں لیکن ہوں شہر یار غزل جو چھو کے نکلی ہے موج نسیم عشق کبھی مہک مہک اٹھے گیسوئے تابدار غزل خلوص عشق و خلوص حیات کی تصویر ہر ایک شعر غزل ہے کہ شاہکار غزل ہمارے غم میں غم عشق کائنات بھی ہے ہمارے اشکوں سے شاداب ہے بہار غزل ہمارے ذوق جنوں سے ہے کائنات حسین ہم اہل عشق سے ہے رونق دیار غزل وہ کائنات کا دکھ سکھ غزل کے پردے میں ہوا نہ میرؔ سا پھر کوئی شہر یار غزل

mire lahu se hai ik rang-e-nau-bahaar-e-ghazal

غزل · Ghazal

بغیر تیرے ہوں ماہ و انجم کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں جلے تھے کتنے چراغ لیکن سبھی سر شام بجھ گئے ہیں وہی ہے قانون جرم الفت دلوں پہ قیدیں لبوں پہ پہرے دلوں کے نغمات رک گئے ہیں لبوں کے پیغام بجھ گئے ہیں نہ اس کے رخسار کی شفق ہے نہ آرزو کی کوئی کرن ہے سحر یہ کیسی سحر ہے یارو کہ سب در و بام بجھ گئے ہیں ہوا ہے ویران شہر دل یوں کہ جیسے ویراں ہوا ہو مندر کوئی صنم خانہ لٹ گیا ہے کہ روئے اصنام بجھ گئے ہیں ہیں دشت غربت میں پا برہنہ نہ جانے کتنے ہی میرؔ و غالبؔ اداس مے خانوں کی فضاؤں میں کتنے خیام بجھ گئے ہیں پیامؔ مقتول آرزوؤں کا اک جنازہ ہے زندگی بھی تھی جس سے ہر انجمن چراغاں وہ دل تہ دام بجھ گئے ہیں

baghair tere hon maah-o-anjum ki shisha-o-jaam bujh gae hain

غزل · Ghazal

تیشۂ عشق نے توڑا ہے ہر اک سنگ گراں عشق کے زیر قدم جوئے بقا جوئے رواں جب ابھرتے ہیں کہیں دل کی بہاروں کے نشاں اور بڑھ جاتی ہے رنگینیٔ تاریخ جہاں ہے نگاہوں میں مری بزم محبت کا سماں کاش کچھ دیر ٹھہر جائے جہان گزراں پھر تری یاد کی مرجھانے لگی ہیں کلیاں زندگی ہے کہ کوئی رہ گزر باد خزاں تم چلے ساتھ تو جل اٹھے ہیں راہوں میں چراغ ساتھ چھوٹا ہے تو دھندلا گئے منزل کے نشاں قصر رنگیں کے مکینوں کو خبر ہے کہ نہیں پس دیوار ہے اک قافلۂ نوحہ گراں زندگی سے ہیں عبارت ترے اشعار پیامؔ تیرے نغموں میں دھڑکتا ہے دل کون و مکاں

tesha-e-ishq ne toDaa hai har ik sang-e-giraan

غزل · Ghazal

ہر اک نقش قدم شمع فروزاں ہوتا جاتا ہے جہاں سے وہ گزرتے ہیں چراغاں ہوتا جاتا ہے ہیں صدہا چاک ایسی زندگی بھی زندگی کیا ہے لباس زیست عاشق کا گریباں ہوتا جاتا ہے نہ پوچھو جاں فزا ہے کتنا حسن یار کا موسم کہ جو منظر بھی ہے صبح بہاراں ہوتا جاتا ہے صنم کو بھول کر دل کیوں خدا کی سمت مائل ہے خدا جانے یہ کافر کیوں مسلماں ہوتا جاتا ہے مبارک ہیں قدم اہل وفا کے راہ الفت میں کہ ان قدموں سے راہوں میں چراغاں ہوتا جاتا ہے ستم کے بعد اظہار ندامت بھی ہے کیا کہئے ستم بھی کرتا جاتا ہے پشیماں ہوتا جاتا ہے پیامؔ اس کو میں اپنانے کو جتنا بڑھتا جاتا ہوں خدا جانے وہ کیوں مجھ سے گریزاں ہوتا جاتا ہے

har ik naqsh-e-qadam sham-e-farozaan hotaa jaataa hai

غزل · Ghazal

اگر ترک تعلق کر بھی لیتے ہم تو کیا ہوتا کہاں ممکن کہ دل قید محبت سے رہا ہوتا چلو اچھا ہوا تم نے بھی آخر دشمنی کر لی کہاں تک تم سے آخر دوستی کا حق ادا ہوتا غنیمت ہے یہ دل جیسا بھی ہے رونق ہے ہستی کی اندھیرا چھا گیا ہوتا اگر دل بجھ گیا ہوتا مجھے ساحل پہ پہنچایا مری خود اعتمادی نے یہ کشتی ڈوب جاتی ساتھ میں گر ناخدا ہوتا مبارک ہو تمہیں جشن چراغاں دوستو لیکن کسی مفلس کے گھر کو بھی کوئی ٹوٹا دیا ہوتا غریبی بھوک ظلم و جور کیسے دیکھ سکتا میں خدائی بھی نہ مجھ کو راس آتی گر خدا ہوتا

agar tark-e-taalluq kar bhi lete ham to kyaa hotaa

غزل · Ghazal

پھر گداز عشق سے جلنے لگے داغ نہاں آج پھر جشن چراغاں ہے بیاد دلبراں رات یوں رہ رہ کے دل میں تیری یاد آتی رہی دیر تک اٹھتا رہا جیسے چراغوں سے دھواں دور سنگ و خشت میں ہے زندگی کی آرزو پتھروں کے شہر میں ہو جیسے شیشے کا مکاں محو حیرت ہوں یہ میخانے میں کیسا دور ہے جام مے بھی خونچکاں اور زندگی بھی خوں چکاں بندشیں قانون ظلم و جور مذہب سیم و زر کتنی دیواریں ہیں حائل دو دلوں کے درمیاں زندگی کی سختیوں سے ہم نہ آزردہ ہوئے دل کو گھائل کر گئیں لیکن نگہ کی نرمیاں

phir gudaaz-e-ishq se jalne lage daagh-e-nihaan

Similar Poets