SHAWORDS
Qaisarul Jafri

Qaisarul Jafri

Qaisarul Jafri

Qaisarul Jafri

poet
28Sher
28Shayari
22Ghazal

Sherشعر

See all 28

Popular Sher & Shayari

56 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

ghar lauT ke roeinge maan baap akele mein

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں کانٹوں پہ چلے لیکن ہونے نہ دیا ظاہر تلووں کا لہو دھویا چھپ چھپ کے اکیلے میں اے داور محشر لے دیکھ آئے تری دنیا ہم خود کو بھی کھو بیٹھے وہ بھیڑ تھی میلے میں خوشبو کی تجارت نے دیوار کھڑی کر دی آنگن کی چنبیلی میں بازار کے بیلے میں

غزل · Ghazal

miri shikast tiraa imtihaan na ban jaae

مری شکست ترا امتحاں نہ بن جائے انا سپرد کرے کاسۂ گدائی بھی دے وہ ٹوٹتی ہوئی دنیا کا شور ہے یا رب کہ معجزہ ہے جو ایسے میں کچھ سنائی بھی دے بعید کیا ہے جسے ہم خزاں سمجھتے ہیں بہار بن کے خرابوں کو دل ربائی بھی دے سر صلیب خموشی مرا طریق نہیں زبان دی ہے تو احساس نے نوائی بھی دے میں ایسی سر پھری دنیا کو کیا کہوں قیصرؔ کہ سنگ راہ بنے طعن نارسائی بھی دے

غزل · Ghazal

mujhe koi kyon sameTe miri raushni mein kyaa hai

مجھے کوئی کیوں سمیٹے مری روشنی میں کیا ہے وہ چراغ رہ گزر ہوں جو پس سحر جلا ہے کوئی ایسا حادثہ ہو کہ مجھی کو دفن کر دے جو ترس ترس کے برسے وہ غبار درد کیا ہے ترے ذہن کا دھواں بھی نہ چھپا سکا وہ منظر جسے کاٹ کر گرایا وہ شجر وہیں کھڑا ہے مجھے کیا دکھا رہے ہو مرا داغ نارسائی مری جستجو سے پوچھو کوئی راستہ بچا ہے مجھے ڈر ہے آسماں بھی کہیں زد میں آ نہ جائے تہ خاک جو لہو ہے وہ زمیں کی بد دعا ہے ترے تیشۂ جنوں سے ہیں لہو لہو چٹانیں ارے کچھ تو سوچنا تھا تہ سنگ آئنہ ہے تجھے بھولنے میں شاید مری عمر بیت جائے تجھے بھولنے سے پہلے مجھے خود کو بھولنا ہے نہ کہیں کتاب میں ہوں نہ کسی کے دل میں قیصرؔ میں خیال رائیگاں ہوں مجھے کون سوچتا ہے

غزل · Ghazal

jahaan dhuaan thaa vahin raushni ke daagh bhi the

جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھے مرے مکان کے ملبے میں کچھ چراغ بھی تھے ذرا سی دیر میں محفل کو کیا ہوا یا رب ابھی تو شام بھی تھی مے بھی تھی ایاغ بھی تھے زمین بیچ کے رہتے تھے آسمانوں پر مرے بزرگوں میں وہ صاحب فراغ بھی تھے خدا بھی دیکھ کے چپ تھا کہ میرے دامن میں جہاں گناہ وہیں آنسوؤں کے داغ بھی تھے جو ہم جلے تو دل و جاں چمک اٹھے قیصرؔ بہت دنوں سے یہ ویرانے بے چراغ بھی تھے

غزل · Ghazal

azaab saa hai dil-e-naa-muraad par kab se

عذاب سا ہے دل نامراد پر کب سے کھڑا ہوں میں روش گرد باد پر کب سے کبھی ملو گے کہیں تو ملو گے جیتے جی میں جی رہا ہوں اسی اعتماد پر کب سے جو باڑھ آئی تو بے چارہ بہہ گیا خود ہی جو بند باندھ رہا تھا فساد پر کب سے وہ زندگی جو کبھی مڑ کے دیکھتی بھی نہیں میں مر رہا ہوں اسی بد نہاد پر کب سے مرے قلم پہ بھی شب خون پڑ گیا آخر محاصرہ تھا مری جائیداد پر کب سے میں روشنی کو بھلا دوں تو کیا تعجب ہے برس رہا ہے دھواں میری یاد پر کب سے مرے وجود میں کیا شاہکار ہے پنہاں چڑھا رہا ہے زمانہ خراد پر کب سے تمام شہر سماعت لرز اٹھا قیصرؔ نکل پڑی ہے خموشی جہاد پر کب سے

غزل · Ghazal

phir mire sar pe kaDi dhuup ki bauchhaar giri

پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گری میں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گری لوگ قسطوں میں مجھے قتل کریں گے شاید سب سے پہلے مری آواز پہ تلوار گری اور کچھ دیر مری آس نہ ٹوٹی ہوتی آخری موج تھی جب ہاتھ سے پتوار گری اگلے وقتوں میں سنیں گے در و دیوار مجھے میری ہر چیخ مرے عہد کے اس پار گری خود کو اب گرد کے طوفاں سے بچاؤ قیصرؔ تم بہت خوش تھے کہ ہم سایے کی دیوار گری

Similar Poets