SHAWORDS
Rafique Khayal

Rafique Khayal

Rafique Khayal

Rafique Khayal

poet
3Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

دسترس میں نہیں حالات تجھے کیا معلوم اب ضروری ہے ملاقات تجھے کیا معلوم رات کے پچھلے پہر نیند شکن تنہائی کیسے کرتی ہے سوالات تجھے کیا معلوم تو بضد ہے کہ سر عام پرستش ہو تری میں ہوں پابند روایات تجھے کیا معلوم جشن ساون کا یوں بڑھ چڑھ کے منانے والے ظلم کیا ڈھاتی ہے برسات تجھے کیا معلوم شانۂ وقت پہ اب زلف پریشاں کی طرح بکھری رہتی ہے مری ذات تجھے کیا معلوم سلسلہ وار دہکتے ہیں سحر ہونے تک سر مژگاں مرے جذبات تجھے کیا معلوم سادہ باتیں تھیں خیالؔ اس کی مگر ان میں کئی چپ تھے رنگین خیالات تجھے کیا معلوم

dastaras mein nahin haalaat tujhe kyaa maalum

غزل · Ghazal

زندہ ہیں مرے خواب یہ کب یاد ہے مجھ کو ہاں ترک محبت کا سبب یاد ہے مجھ کو تفصیل عنایات تو اب یاد نہیں ہے پر پہلی ملاقات کی شب یاد ہے مجھ کو خوشبو کی رفاقت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے لیکن وہ سفر داد طلب یاد ہے مجھ کو اب شام کے ہاتھوں جو گرفتار ہے سورج دوپہر میں تھا قہر و غضب یاد ہے مجھ کو ایوان مری روح کے روشن کیے جس نے وہ شوخیٔ یک جنبش لب یاد ہے مجھ کو کچھ دن سے مقید ہوں میں ویرانۂ جاں میں حالانکہ کوئی شہر طرب یاد ہے مجھ کو کیوں یاد دلاتے ہو مجھے چاندنی راتیں پیمان وفا تم سے ہے سب یاد ہے مجھ کو وہ شخص خیالؔ آج جو روپوش ہے مجھ میں تھے اس میں کمالات عجب یاد ہے مجھ کو

zinda hain mire khvaab ye kab yaad hai mujh ko

غزل · Ghazal

سناٹا چھا گیا ہے شب غم کی چاپ پر سورج کو تھا یقین بہت اپنے آپ پر وہ صاعقہ مزاج ہے میں سرد برف سا حیرت زدہ ہیں لوگ تمام اس ملاپ پر میں ہوں فسردہ شام کی افسردگی ہے اور دھندلا سا عکس یار ہے یادوں کی بھاپ پر میں منزلوں کی جستجو میں تھا برنگ موج اب رقص کر رہا ہوں محبت کی تھاپ پر لازم یہ پیش خیمۂ آفات ہے خیالؔ بے جا جمع نہیں ہیں پرندے الاپ پر

sannaaTaa chhaa gayaa hai shab-e-gham ki chaap par

غزل · Ghazal

نرم لہجے میں تحمل سے ذرا بات کرو پھر بصد شوق سر عام مجھے مات کرو یا نثار آج کرو مجھ پہ تمام اپنے ہنر یا نظر بند مرے سارے کمالات کرو میں روایات سے باغی تو نہیں ہوں لیکن تم سے ممکن ہو تو تبدیل خیالات کرو ایک مدت سے مرے دل کا نگر ہے ویراں آؤ اس دشت پہ تم پھولوں کی برسات کرو فصل اجالوں کی سیہ بخت زمیں اگلے گی زر نگار اپنے ذرا کشف و کرامات کرو اس طرح مل کے بچھڑنا تو قیامت ہوگا مشتعل تم نہ مری جاں مرے جذبات کرو بے نیازی تو ملا کرتی ہے دنیا سے خیالؔ تم کسی طور نہ تجدید غم ذات کرو

narm lahje mein tahammul se zaraa baat karo

غزل · Ghazal

اداس شام کی تنہائیوں میں جلتا ہوا وہ کاش آئے کبھی میرے پاس چلتا ہوا شب فراق نے مسمار سارے خواب کیے کوئی تو مژدہ سنائے یہ دن نکلتا ہوا ہے کیا عجب کہ کبھی چاند بھی اندھیروں میں سکوں تلاش کرے زاویے بدلتا ہوا مرے مسیحا خدا آج تیرا رکھے بھرم نظر مجھے نہیں آتا یہ جی بہلتا ہوا میں روشنی کے نگر میں پڑاؤ خاک کروں ڈرا رہا ہے مجھے اپنا سایہ ڈھلتا ہوا

udaas shaam ki tanhaaiyon mein jaltaa huaa

غزل · Ghazal

ہجر زدہ آنکھوں سے جب آنسو نکلے خاموشی سے کسی نے سمجھا رات سمے دو دیپ جلے خاموشی سے میں بھی آگ لگا سکتا ہوں اس برسات کے موسم میں تھوڑی دور تلک وہ میرے ساتھ چلے خاموشی سے شام کی دھیمی آنچ میں جب خورشید نہا کر سو جائے منظر آپس میں ملتے ہیں خوب گلے خاموشی سے برف کی پرتیں جب بھی دیکھوں میں اونچی دیواروں پر جسم سلگنے لگتا ہے اور دل پگھلے خاموشی سے چاہت کے پھر پھول کھلیں گے آپ کی یہ خوش فہمی ہے کپڑے میرے سامنے موسم نے بدلے خاموشی سے دن کے اجالوں میں شاید میں خود سے بچھڑا رہتا ہوں رات کی تاریکی میں اک خواہش مچلے خاموشی سے جب بھی نادیدہ سپنوں نے من آنگن میں رقص کیا تیری یاد کے جگنو چمکے رات ڈھلے خاموشی سے ملک سخن کے شہزادوں کی صف میں کھڑا ہو جائے گا گر ترے لہجے کی دھڑکن خوشبو اگلے خاموشی سے

hijr-zada aaankhon se jab aansu nikle khaamoshi se

Similar Poets