SHAWORDS
Sada Ambalvi

Sada Ambalvi

Sada Ambalvi

Sada Ambalvi

poet
37Sher
37Shayari
89Ghazal

Sherشعر

See all 37

Popular Sher & Shayari

74 total

Ghazalغزل

See all 89
غزل · Ghazal

jis ko dekhe binaa qaraar nahin

جس کو دیکھے بنا قرار نہیں کیسے کہہ دیں کہ اس سے پیار نہیں رخ پہ تیرے اگر نکھار نہیں تو بہار اے صنم بہار نہیں اس میں سود و زیاں کا کر نہ حساب عشق عبادت ہے کاروبار نہیں روک لو تم سے گر یہ رکتا ہے دل پہ میرا تو اختیار نہیں گو مصیبت میں سب ندارد تھے ورنہ عشرت میں کون یار نہیں کیوں نہ جی بھر کے رو لیا جائے پاس جب کوئی غم گسار نہیں چپ رہوں کیسے تک کے ظلم و ستم آدمی ہوں کوئی مزار نہیں حاجتیں ہیں گنی چنی سب کی حسرتوں کا کوئی شمار نہیں کیا یقیں عہد وصل کا اے صداؔ زیست کا ہی جب اعتبار نہیں

غزل · Ghazal

be-qaraari jo idhar hai vo udhar hai ki nahin

بے قراری جو ادھر ہے وہ ادھر ہے کہ نہیں یہ نظر جیسے ہے بے کل وہ نظر ہے کہ نہیں دل کی حالت کا بگڑنا تو ہے معمول مگر وہ جو ہیں اس کا سبب ان کو خبر ہے کہ نہیں گو نگاہوں سے نگاہیں تو ملی ہیں اکثر ربط اس دل کو کچھ اس دل سے مگر ہے کہ نہیں یہ شب ہجر مری جاں ہی نہ لے جائے کہیں نہ سہی وصل مقدر میں سحر ہے کہ نہیں کیوں مری روح کو ہر پل یہ گماں رہتا ہے جس مکاں میں ہے مکیں اس کا ہی گھر ہے کہ نہیں دوست چھوڑ آئیں گے بے شک مجھے شمشان تلک اس کے آگے نہیں معلوم سفر ہے کہ نہیں عارفو کیا ہے مجاز اور حقیقت کیا ہے وہ جو آتا ہے نگاہوں کو نظر ہے کہ نہیں پڑھ کے دیوان صداؔ بولو ذرا نقادو شعر کہنے کا کچھ اس میں بھی ہنر ہے کہ نہیں

غزل · Ghazal

tiri mahfil mein kyaa kyaa ai gul-e-gulfaam miltaa hai

تری محفل میں کیا کیا اے گل گلفام ملتا ہے کسی کو اشک ملتے ہیں کسی کو جام ملتا ہے نہ پوچھ اے ساقیا ہم کو تجھے مل کر ہے کیا ملتا نظر کو روشنی دل کو بڑا آرام ملتا ہے جسے ہے مدتوں ڈھونڈا حرم میں زاہدو تم نے ہمیں تو میکدے میں وہ خدا ہر شام ملتا ہے ملے مومن کو مسجد میں نہ بھکتوں کو شوالے میں تری محفل میں مے خاروں کو جو اکرام ملتا ہے شکستہ ہی سہی یہ دل کھرے سونے کا ہے ساقی برا کیا ہے ذرا سوچو اگر بے دام ملتا ہے یہ بازی ہے محبت کی اصول اس کے نرالے ہیں یہاں جو ہار جاتا ہے اسے انعام ملتا ہے

غزل · Ghazal

shahr mein milte hain mushkil se kahin chaar kaandhe bhi uThaane ke liye

شہر میں ملتے ہیں مشکل سے کہیں چار کاندھے بھی اٹھانے کے لیے گاؤں میں گاؤں کا گاؤں آتا ہے ساتھ شمشان کو جانے کے لیے گاؤں لوٹا نہ دلارا ماں کا کر کے تعلیم مکمل اپنی کھیت سب رکھ دئے گروی اپنے باپ نے جس کو پڑھانے کے لیے اینٹ پتھر کی عمارت کا کیا کچھ ہی دن میں ہے کھڑی ہو جاتی عمر لگ جاتی ہے لیکن یارو گھر کو گھر جیسا بنانے کے لیے شہر میں امن بحالی کے لیے آج ٹی وی پہ ہے کی جس نے اپیل کل اسی نے تو اشارہ تھا کیا آگ بستی میں لگانے کے لیے دوستی گر نہیں ممکن نہ سہی دشمنی کس لیے پالی جائے دل سے دل ملنا ضروری تو نہیں ہاتھ سے ہاتھ ملانے کے لیے دیکھنا وہ بھی نہ لٹ جائے کہیں چور جو چھوڑ گئے ہیں باقی اے صداؔ سوچ کے جانا تو ذرا رپٹ تھانے میں لکھانے کے لیے

غزل · Ghazal

gulshan-gulshan zikr hai un kaa

گلشن گلشن ذکر ہے ان کا محفل محفل چرچا ہے جب سے شہر میں آئے ہیں وہ ہنگامہ سا برپا ہے آنکھیں جیسے گل نرگس کے چال غزالوں جیسی ہے چہرہ دیکھ کے سوچا سب نے چاند زمیں پر اترا ہے پھیکی ہے مسکان کلی کی ان کے تبسم کے آگے کومل کومل سے گالوں کا رنگ شفق سے گہرا ہے سب سے سندر لگتی ہے وہ جو نادیدہ صورت ہے ہر اک آنکھ ٹکی ہے اس پر جس چہرے پر پردا ہے بھولی بھالی سب سے نیاری صورتیا وہ پیاری پیاری آنکھیں تک تک تھک جاتی ہیں لیکن دل کب بھرتا ہے اس نے ہی سب درد دئے جو ڈھل ڈھل کر ہیں گیت بنے اک اک شعر صداؔ ہے اس کا اک اک نغمہ اس کا ہے

غزل · Ghazal

patta patta kyon hai dil afgaar is gulzaar kaa

پتہ پتہ کیوں ہے دل افگار اس گلزار کا گل سے گل برہم ہے کیوں کیا ہے سبب تکرار کا سہمے سہمے سے ہیں کیوں سب غنچہ و گل برگ آج کس نے چھینا ہے گلوں کے لب سے حق اظہار کا زہر کو دی چھوٹ کس نے پھیلنے کی ہر طرف خوشبوؤں پر کیوں کڑا پہرا ہے پہرے دار کا بلبلیں ہے بے سری خبریں یہ کس نے ہیں گڑھی کس نے کوے کو دیا ہے مرتبہ فنکار کا کون ہے جس نے اندھیروں کو دیا ہے اختیار روک لو پوری طرح سے راستہ انوار کا گل کھلانے کا سلیقہ تو اسے آیا نہیں نام گل ہے رکھ دیا بس باغباں نے خار کا بج رہا ہر بزم میں اب راگ درباری فقط کس کی جرأت ہے کہ گائے راگ اب ملہار کا کیوں ہمیں ان سے توقع تھی چمن بندی کی اف وہ جنہیں بس تجربہ تھا غارت گلزار کا ہو رہی ہے بارش اکرام باطل پر مدام اور عطا حق کو ہوا ہے اب لقب غدار کا دھنس رہا ہے اور بھی غربت میں ہر غربت زدہ اور مسلسل بڑھ رہا ہے مال و زر زردار کا کھیل چلتا ہے سیاست کا اسی کے زر سے جب کیوں نہ ہو سرکار میں پھر دخل ساہوکار کا کام دھندے تو پڑے ہیں سب کے سب ٹھپ آج کل گرم ہے بازار بس نفرت کے کاروبار کا سر جھکانا مت کبھی ظلم و ستم کے سامنے ہے صداؔ کاندھے پہ تیرے سر اگر سردار کا

Similar Poets