chaand mashriq se nikaltaa nahin dekhaa main ne
tujh ko dekhaa hai to tujh saa nahin dekhaa main ne

Saeed Qais
Saeed Qais
Saeed Qais
Popular Shayari
9 totalmain bhi apni zaat mein aabaad huun
mere andar bhi qabile hain bahut
ye vaaqia miri aankhon ke saamne kaa hai
sharaab naach rahi thi gilaas baiThe rahe
tum apne dariyaa kaa ronaa rone aa jaate ho
ham to apne saat samundar pichhe chhoD aae hain
tum se milne kaa bahaana tak nahin
aur bichhaD jaane ke hiile hain bahut
chehra chehra gham hai apne manzar mein
aur aankhon ke pichhe ek numaaish hai
talab ke raaste par aa gayaa huun
bataao ab mujhe jaanaa kahaan hai
apni aavaaz sunaai nahin deti mujh ko
ek sannaaTaa ki galiyon mein bahut boltaa hai
usi ke lutf se basti nihaal hai saari
tamaam peD lagaae hue usi ke hain
Ghazalغزل
چاند مشرق سے نکلتا نہیں دیکھا میں نے تجھ کو دیکھا ہے تو تجھ سا نہیں دیکھا میں نے حادثہ جو بھی ہو چپ چاپ گزر جاتا ہے دل سے اچھا کوئی رستہ نہیں دیکھا میں نے پھر دریچے سے وہ خوشبو نہیں پہنچی مجھ تک پھر وہ موسم کبھی دل کا نہیں دیکھا میں نے موم کا چاند ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہوں شہر میں دھوپ کا میلہ نہیں دیکھا میں نے چڑھتے سورج کی شعاعوں نے مجھے پالا ہے جو اتر جائے وہ دریا نہیں دیکھا میں نے پھر مرے پاؤں کی زنجیر ہلا دے کوئی کب سے اس شہر کا رستہ نہیں دیکھا میں نے مجھ کو پانی میں اترنے کی سزا دیتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ دریا نہیں دیکھا میں نے قیسؔ کہتے ہیں فقیروں پہ بہت بھونکتا ہے اپنے ہم سایے کا کتا نہیں دیکھا میں نے
chaand mashriq se nikaltaa nahin dekhaa main ne
نظر میں رنگ سمائے ہوئے اسی کے ہیں یہ سارے پھول اگائے ہوئے اسی کے ہیں اسی کے لطف سے بستی نہال ہے ساری تمام پیڑ لگائے ہوئے اسی کے ہیں اسی کے حسن کی پرچھائیاں ہیں پتوں پر زمیں نے بوجھ اٹھائے ہوئے اسی کے ہیں وہ جس کے قرب سے حرف وصال ہے روشن مرے چراغ جلائے ہوئے اسی کے ہیں یہ بارشیں بھی اسی کی ہیں میری آنکھوں میں یہ ابر ذہن پہ چھائے ہوئے اسی کے ہیں یہ آگہی جو ہمیں یوں ہمارے حال کی ہے یہ سب کمال سکھائے ہوئے اسی کے ہیں یہ توڑ پھوڑ غزل میں اسی کے نام کی ہے یہ سارے شور مچائے ہوئے اسی کے ہیں ہمارے لہجے میں جو اک مٹھاس ہے باقی ہمیں یہ زہر پلائے ہوئے اسی کے ہیں بجز جمال ہمیں اور کیا دکھائی دے نظر پہ پہرے بٹھائے ہوئے اسی کے ہیں اسی جبیں سے نکلتا ہے قیسؔ چاند مرا یہ آسمان سجائے ہوئے اسی کے ہیں
nazar mein rang samaae hue usi ke hain
دل بہک جاتا ہے برسات کے ساتھ ہم بگڑ جاتے ہیں حالات کے ساتھ وہ مقدس ہے صحیفے کی طرح حفظ ہو جاتا ہے آیات کے ساتھ کتنے روشن ہیں در و بام خیال ہم چمکنے لگے ذرات کے ساتھ دشت جاں اور ترے درد کی لو کون گزرا ہے مری رات کے ساتھ یہ غنیمت ہے کہ ہم زندہ ہیں لوگ مر جاتے ہیں عادات کے ساتھ کوئی تدبیر فلک کی نہ چلی ہم جواں ہو گئے آفات کے ساتھ مصلحت سچ نہیں کہنے دیتی لوگ بکتے ہیں کرامات کے ساتھ ایک رغبت ہے مئے ناب سے قیسؔ اک تعلق ہے خرابات کے ساتھ
dil bahak jaataa hai barsaat ke saath
راہ کے پتھروں سے بھاری ہے ہم نے کیا زندگی گزاری ہے رات الٹی پہن کے سوتا ہوں ہجرتوں کا عذاب جاری ہے ہم تو بازی لگا کے ہار چکے دوستو اب تمہاری باری ہے مجھ پہ پھولوں کا قرض ہے میں نے زندگی شاخ سے اتاری ہے سوچتا ہوں کہ تھک گیا ہوں میں تیری جانب سفر بھی جاری ہے یہ جو ہم تم کو بھول جاتے ہیں اک تعلق کی استواری ہے اب زمانہ بدل گیا ہے قیسؔ اب محبت بھی اختیاری ہے
raah ke pattharon se bhaari hai
خیال و خواب کی دنیا کہاں ہے تری آنکھیں ترا چہرا کہاں ہے ہم اپنے شوق میں ڈوبے ہوئے ہیں ہمارے شہر میں دریا کہاں ہے تو ساری جستجو ہی رائیگاں تھی وہ اک لمحہ رفاقت کا کہاں ہے ہر اک تارے سے جا کر پوچھتا ہوں یہ سورج رات کو جاتا کہاں ہے یہ کیسا شور ہے دیوار و در کا ہمارے گھر میں وہ رہتا کہاں ہے ابھی رسوائیاں تو اور ہوں گی ابھی ہم نے اسے سوچا کہاں ہے اگر ہم ریت کی دیوار تھے تو ہمارے جسم کا ملبہ کہاں ہے طلب کے راستے پر آ گیا ہوں بتاؤ اب مجھے جانا کہاں ہے محلے دار سب آرام سے ہیں مرے ہم سایے کا کتا کہاں ہے یہ ہم جو قیسؔ ہیں بس نام کے ہیں ہمارے سر میں وہ سودا کہاں ہے
khayaal-o-khvaab ki duniyaa kahaan hai
آرزوئے وصال یار کریں کس کے آنے کا انتظار کریں درد کے کس مقام سے گزریں اپنا دریا کہاں سے پار کریں کس سے کس موڑ پر بچھڑ جائیں کون سا ہجر اختیار کریں یہ جو اک زخم جاں پس جاں ہے کس کے سینے کے آر پار کریں فرصت شوق عمر آوارہ آ تجھے آج شرمسار کریں دل کی اونچی مچان پر بیٹھیں اور کوئی آرزو شکار کریں مسئلہ یہ ہے کس حوالے سے کوئی خواہش سپرد یار کریں کاش تم روز ہی مکر جاؤ کاش ہم روز انتظار کریں چاند چھت پر ضرور آئے گا میری آنکھوں کا اعتبار کریں ایک مشکل سی آ پڑی ہے قیسؔ تیری آنکھوں پہ کیا نثار کریں
aarzu-e-visaal-e-yaar karein





