SHAWORDS
Sahir Siyalkoti

Sahir Siyalkoti

Sahir Siyalkoti

Sahir Siyalkoti

poet
6Sher
6Shayari
10Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

miraa shikva har ik sohbat mein subh-o-shaam karte hain

مرا شکوہ ہر اک صحبت میں صبح و شام کرتے ہیں خدا جانے مجھے اتنا وہ کیوں بدنام کرتے ہیں گلہ ان کی جفاؤں کا جو صبح و شام کرتے ہیں ترا شکوہ بھی وہ اے گردش ایام کرتے ہیں سحر ہوتے ہی ہم یکجا سبو و جام کرتے ہیں سویرے ہی سے دور اندیش فکر شام کرتے ہیں محبت محض رسوائی ہے اے دل سوچ لے اس کو بڑی مشکل سے پیدا لوگ اپنا نام کرتے ہیں کسی سے ہم سخن ہوتا نہیں محفل میں پروانہ انہیں باتیں نہیں آتیں جو اپنا کام کرتے ہیں ہمیں کو کیوں بنایا تختۂ مشق ستم تم نے تمہارے عشق کا دعویٰ تو خاص و عام کرتے ہیں بڑے نادان ہیں جن کو ہے امید کرم تجھ سے جو عاقل ہیں وہ کب ایسا خیال خام کرتے ہیں رہی عمر رواں گرم سفر شب کو بھی اے ساحرؔ جنہیں ہے فکر منزل کی وہ کب آرام کرتے ہیں

غزل · Ghazal

khaami-e-ishq hai izhaar-e-tamannaa karnaa

خامیٔ عشق ہے اظہار تمنا کرنا اے دل زار نہ بھولے سے بھی ایسا کرنا بن پڑے کچھ نہ محبت میں اگر اے دل زار تجھ کو لازم ہے اثر آہ میں پیدا کرنا اب بجز اس کے نہیں اور کوئی شغل پسند آ گیا جب سے انہیں خون تمنا کرنا تم جو چاہو تو کرم آج بھی ہو سکتا ہے کچھ ضروری تو نہیں وعدۂ فردا کرنا ہم نے گھر جلتے ہوئے دیکھے ہیں اس کی لو سے عشق کی شمع سے دل میں نہ اجالا کرنا ایک دو سجدے میں کچھ مانگ خدا سے زاہد زیب دیتا نہیں ہر روز تقاضا کرنا اک طرف عشق پہ الزام زمانے بھر کے اک طرف شرط یہ رکھ دی کہ نہ لب وا کرنا دیکھ اے حسن بھرم اس کا ہے قائم ہم سے ہر کسی سے نہ کہیں وعدۂ فردا کرنا یہ بھی کم مائیگیٔ ظرف ہے آخر ساحرؔ راز میخانے کا ہر بزم میں رسوا کرنا

غزل · Ghazal

nahin ye muzhda-e-raahat kisi javaan ke liye

نہیں یہ مژدۂ راحت کسی جواں کے لئے شباب کا تو زمانہ ہے امتحاں کے لئے بتا نہ راز محبت کسی کو اے ناداں بہت سے اور بھی ہیں راز رازداں کے لئے جناب شیخ نے مانگی شراب یہ کہہ کر ذرا سی چاہئے اک خاص مہرباں کے لئے خیال برق سے ہم نے جلا دئے خود ہی وہ چار تنکے جو رکھے تھے آشیاں کے لئے ہماری وجہ سے وہ بھی ہے ان کے زیر عتاب یہ ایک طرفہ مصیبت ہے راز داں کے لئے خدا کی شان وہ فتنے اٹھا رہی ہے زمیں بنے ہیں باعث حیرت جو آسماں کے لئے قفس بھی راس ہے مجھ کو یہ بات تو ہے غلط درست یہ ہے کہ جیتا ہوں آشیاں کے لئے کسی کو دیر کسی کو حرم نہیں ملتا بھٹک رہے ہیں مسافر کہاں کہاں کے لئے ترے خرام نے محشر کا راز کھول دیا بنا ہوا تھا معما یہ اک جہاں کے لئے زمین فیض اٹھاتی ہے خاکساری کا بنے تھے ورنہ مہ و مہر آسماں کے لئے زباں پہ ذکر محبت کا آئے کیوں ساحرؔ یہ چیز دل کے لئے ہے نہیں زباں کے لئے

غزل · Ghazal

chhoD de ai dil mohabbat kaa khayaal achchhaa nahin

چھوڑ دے اے دل محبت کا خیال اچھا نہیں کام اچھا ہے مگر اس کا مآل اچھا نہیں ان سے جو کہنا ہے اے دل کہہ سمجھ کر سوچ کر یہ بھی کچھ کہنے میں کہنا ہے کہ حال اچھا نہیں اے دل برباد اب ہم سے گلہ بے سود ہے ہم تو کہتے تھے محبت کا مآل اچھا نہیں ہنس رہا ہوں اس لئے اپنے دل برباد پر ایک محسن کی عنایت پر ملال اچھا نہیں دور دور ان سے رہے ہم خود غرور عشق میں کون اب ان سے کہے جا کر کہ حال اچھا نہیں دل کی خاطر ہی کیا تھا ترک الفت کا خیال دل ہی اب کہتا ہے مجھ سے یہ خیال اچھا نہیں ابر بھی میری طرح روتا ہی رہتا ہے مدام اس کے بھی طالع میں شاید کوئی سال اچھا نہیں ہے طلب تجھ کو تو پھر حسن طلب سے کام لے لب پہ آ جائے اگر حرف سوال اچھا نہیں کیا کہوں ساحرؔ کہ اب کیسا زمانہ آ گیا دشمنی کیا دوستی کا بھی مآل اچھا نہیں

غزل · Ghazal

na pinhaan raaz-e-gham ab hai na thaa ai mehrbaan pahle

نہ پنہاں راز غم اب ہے نہ تھا اے مہرباں پہلے کسی پر اب عیاں ہوگا کسی پر تھا عیاں پہلے اثر ہونے کو تو ان پر بھی ہوگا جوش وحشت کا اڑیں گی میرے ہی دامن کی لیکن دھجیاں پہلے کشش دیر و حرم کی تو اثر انداز ہے یکساں مگر یہ کہہ نہیں سکتا کہ جاؤں گا کہاں پہلے چلا ہے دور تو باری پہ ساغر مل ہی جائے گا بہت بے جا ہے یہ کہنا یہاں پہلے وہاں پہلے مجھے جب بھی کوئی ٹھوکر لگی ہے راہ الفت میں ہمیشہ یاد آیا ہے زمیں سے آسماں پہلے مری خاموشیٔ پیہم فسانہ بن گئی ورنہ سمجھتا ہی نہ تھا کوئی محبت کی زباں پہلے تمہارے نام سے تاثیر اس میں ہو گئی پیدا کبھی سنتا نہ تھا کوئی ہماری داستاں پہلے چمن کو چھوڑ کر جانا ذرا آسان ہو جاتا جلا دیتا اگر صیاد میرا آشیاں پہلے کرم اس کو سمجھتا ہوں جناب جوش کا ساحرؔ غزل میں ورنہ کب ہوتا تھا یہ حسن بیاں پہلے

غزل · Ghazal

zindagaani kaa ye pahlu kuchh zarifaana bhi hai

زندگانی کا یہ پہلو کچھ ظریفانہ بھی ہے یعنی اس کی ہر حقیقت ایک افسانہ بھی ہے تم جسے جیسا بنا دیتے ہو بن جاتا ہے وہ فطرتاً ہر آدمی عاقل بھی دیوانہ بھی ہے رنج ہی اکثر ہوا کرتا ہے راحت کا نشاں جس جگہ تم دام دیکھو گے وہاں دانہ بھی ہے وائے قسمت اک ہمیں محروم اس فن سے رہے اپنے مطلب کے لیے ہشیار دیوانہ بھی ہے وقعت میخانہ بھی اپنی جگہ کچھ کم نہیں قابل تعظیم گو کعبہ بھی بت خانہ بھی ہے دل کی فطرت عشق و الفت ہی میں اے ساحرؔ کھلی یہ وہ کافر ہے کہ اپنا ہو کے بیگانہ بھی ہے

Similar Poets