"ra.egan ho rahi thi tanha.i teri yadon ka karobar kiya"

Sajid Hameed
Sajid Hameed
Sajid Hameed
Sherشعر
ra.egan ho rahi thi tanha.i
رائیگاں ہو رہی تھی تنہائی تیری یادوں کا کاروبار کیا
dard itna bhi nahin hai ki chhupa bhi na sakun
درد اتنا بھی نہیں ہے کہ چھپا بھی نہ سکوں بوجھ ایسا بھی نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
munjamid tha lahu rag-o-pai men
منجمد تھا لہو رگ و پے میں تیری آمد حیات لے آئی
aisi aag falak se barsegi ik din
ایسی آگ فلک سے برسے گی اک دن خاک ہوا پانی پتھر جل جائیں گے
samajh men vaqt ka aaya karishma
سمجھ میں وقت کا آیا کرشمہ نظر خود پر جو ڈالی ہے دنوں بعد
Popular Sher & Shayari
10 total"dard itna bhi nahin hai ki chhupa bhi na sakun bojh aisa bhi nahin hai ki uTha bhi na sakun"
"munjamid tha lahu rag-o-pai men teri aamad hayat le aa.i"
"aisi aag falak se barsegi ik din khaak hava paani patthar jal ja.enge"
"samajh men vaqt ka aaya karishma nazar khud par jo Daali hai dinon ba.ad"
dard itnaa bhi nahin hai ki chhupaa bhi na sakun
bojh aisaa bhi nahin hai ki uThaa bhi na sakun
raaegaan ho rahi thi tanhaai
teri yaadon kaa kaarobaar kiyaa
munjamid thaa lahu rag-o-pai mein
teri aamad hayaat le aai
aisi aag falak se barsegi ik din
khaak havaa paani patthar jal jaaeinge
samajh mein vaqt kaa aayaa karishma
nazar khud par jo Daali hai dinon baad
Ghazalغزل
apnaa apnaa hausla thaa faasle tai kar gayaa
اپنا اپنا حوصلہ تھا فاصلے طے کر گیا وہ جو کل تک جی رہا تھا ہنستے ہنستے مر گیا رو رہا تھا آئنہ بے چہرگی کو دیکھ کر میں بھی اپنے آپ سے کل شب یقیناً ڈر گیا رات بھر کرتا رہا سیوا کنوارے جسم کی صبح کی پہلی کرن کے ساتھ وہ مندر گیا میری سانسوں میں رہا سجدہ نما روشن کوئی میں جب اپنے آپ کو لے کر مکمل گھر گیا ہر طرف پھیلی ہوئی تھی تیرگی ساجد حمیدؔ کون چہرا تھا جو آنکھوں میں ستارے بھر گیا
zahr mein Duubi hui surkh hikaayaat mein gum
زہر میں ڈوبی ہوئی سرخ حکایات میں گم دل گرفتہ ہے ہوا موجۂ اصوات میں گم منکشف ہوتا ہوا لمحۂ ماضی کا نشاں آنکھ جھپکی تھی ہوا دود خرابات میں گم شام کی ساعت اول میں فلک پر جا کر ہم نے دیکھا ہے سمندر کو خیالات میں گم اونگھتی رات کے ماتھے پہ چمکتی بندیا دیکھ کر ہو گئی ندیا بھی سوالات میں گم وہ جو اک لمحۂ حیراں تھا سبک رو تنہا ہو گیا ہے تری آنکھوں کے طلسمات میں گم مسکراتا پس تصویر تھا شائستہ سماں جانے کیوں ہو گیا نادیدہ محاکات میں گم وہ قرینہ جسے صدیوں نے کیا ہے پیدا پھر نہ ہو جائے کہیں شورش جذبات میں گم ڈھل گیا کیسے لرزتے ہوئے تاروں میں حمیدؔ جو تھا آنسو مری پلکوں پہ مدارات میں گم
qarib-e-vasl koi haadsa na ho jaae
قریب وصل کوئی حادثہ نہ ہو جائے کہیں بدن کی تمازت فنا نہ ہو جائے یہی ہے خوف کہ تجھ پاس ہو کے بھی میری رگوں کا سرخ لہو مشتبہ نہ ہو جائے جبلتوں کا تقاضا کہ تجھ کو پہنیں ہم مگر وہ زخم تمنا ہرا نہ ہو جائے کھلے ہیں پھول ستاروں کے خوش گوار ہے رت قریب آؤ کہ موسم خفا نہ ہو جائے لہو میں تیرتی انگڑائیوں سے بیر نہ کر شب وصال جنوں سانحہ نہ ہو جائے تراشنے میں سکوں تھا مگر میں ڈرتا ہوں کہیں یہ عکس شگفتہ خدا نہ ہو جائے
meri aankhon mein nuur bhar denaa
میری آنکھوں میں نور بھر دینا چاہے پھر چور چور کر دینا آشیانہ بنا رہا ہوں میں رزق دینا تو شاخ پر دینا فطرت دہر کا بھرم رہ جائے دل کی ندیا کو اک بھنور دینا تنہا تنہا بتا کٹے کیوں کر گر سفر دے تو ہم سفر دینا کتنی مایوسیاں ہیں لہرائی زندگی کو نئی سحر دینا آگ بھڑکے گی زہر اترے گا حسن کو عشق کی نظر دینا
nazar ko tiir kar ke raushni ko dekhne kaa
نظر کو تیر کر کے روشنی کو دیکھنے کا سلیقہ ہے ہمیں بھی زندگی کو دیکھنے کا کسی جلتے ہوئے لمحے پہ اپنے ہونٹ رکھ دو اگر ہے شوق جامد خامشی کو دیکھنے کا سماعت میں کھنکتی روشنی سے ہو گیا ہے دوبالا لطف مٹی کی نمی کو دیکھنے کا نہ جانے لوٹ کر کب آئے گا موسم خجستہ تری آنکھوں کی شائستہ ہنسی کو دیکھنے کا سنا ہے شوق تھا ان کو ہنر آتا نہیں تھا سنہرے ذہن کی وارفتگی کو دیکھنے کا یقیں آتا نہیں لیکن ملا تھا ایک موقع شگفتہ شہر کی بے منظری کو دیکھنے کا بڑا ارمان تھا ساجدؔ تمہیں کیا ڈر گئے کیا شب تاباں ہوا کی خودکشی کو دیکھنے کا
main chaahtaa huun ki har shai yahaan sanvar jaae
میں چاہتا ہوں کہ ہر شے یہاں سنور جائے تمہاری روح مری روح میں اتر جائے وہ اک خیال جو تھوڑا ملال جیسا ہے ترے قریب سے گزرے اگر نکھر جائے دہک رہا ہے جو مجھ میں الاؤ برسوں سے ذرا سا آنکھ میں بھر لے کوئی تو مر جائے زمانے بھر سے وہ بیگانہ ہو ہی جائے گا کوئی حیات کی مانند جب مکر جائے وہ ایک خواب جسے گنگناتا رہتا ہوں کبھی تو آ کے مری آنکھ میں ٹھہر جائے پھر اس کے بعد میں سوچوں گا اپنے ہونے کا جو درمیان ہے لمحہ ذرا نتھر جائے کبھی حمیدؔ بلائے کبھی اسے ساجدؔ اکیلا چاند بتاؤ کدھر کدھر جائے





