SHAWORDS
Sarwat Zehra

Sarwat Zehra

Sarwat Zehra

Sarwat Zehra

poet
13Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

13 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ایک چپ کھائے گئی ہے مجھ کو آگہی ڈھائے گئی ہے مجھ کو زندگی میرے سنورنے کے لیے درد پہنائے گئی ہے مجھ کو بے خودی آپ تلک لائی تھی سو وہی لائے گئی ہے مجھ کو آپ نے راکھ کیا اڑنے کو خاک دفنائے گئی ہے مجھ کو میرے ادراک کی مجبوری سے بات بہلائے گئی ہے مجھ کو چاند اس طور سے اترا شب میں رات گہنائے گئی ہے مجھ کو

ek chup khaae gai hai mujh ko

غزل · Ghazal

کھونٹیوں پر خامشی لٹکائی ہے الگنی پر سوکھتی تنہائی ہے چاند کی اجلی ڈلی برگد تلے ہجر کی ست آسماں لے آئی ہے درد کی اک چپچپاتی گوند میں ڈیوڑھیوں تک چپ کی چھٹی آئی ہے اونچے لمبے ان ستونوں کے تلے ڈولتی ٹھنڈی ہوا سودائی ہے نیند کے خوابی پپوٹوں کے تلے پھانس سی چبھتی ہوئی پروائی ہے بستروں کی چادریں ہیں بے شکن ہاں سرہانے پر کھڑی زیبائی ہے

khunTiyon par khaamushi laTkaai hai

غزل · Ghazal

ہزار ٹوٹے ہوئے زاویوں میں بیٹھی ہوں خیال و خواب کی پرچھائیوں میں بیٹھی ہوں تمہاری آس کی چادر سے منہ چھپائے ہوئے پکارتی ہوئی رسوائیوں میں بیٹھی ہوں ہر ایک سمت صدائیں ہیں چپ چٹخنے کی خلا میں چیختی تنہائیوں میں بیٹھی ہوں نگاہ و دل میں اگی دھوپ کو بجھاتی ہوئی تمہارے ہجر کی رعنائیوں میں بیٹھی ہوں جنون وصل تماشے دکھا گیا اتنے میں آپ اپنے تماشائیوں میں بیٹھی ہوں

hazaar TuuTe hue zaaviyon mein baiThi huun

غزل · Ghazal

تمہاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں وہ رستہ بنتے جاتے ہیں کچھ اتنے در بناتی ہوں جو سارا دن مرے خوابوں کو ریزہ ریزہ کرتے ہیں میں ان لمحوں کو سی کر رات کا بستر بناتی ہوں ہمارے دور میں رقاصہ کے پاؤں نہیں ہوتے ادھورے جسم لکھتی ہوں خمیدہ سر بناتی ہوں سمندر اور ساحل پیاس کی زندہ علامت ہیں انہیں میں تشنگی کی حد کو بھی چھو کر بناتی ہوں میں جذبوں سے تخیل کو نرالی وسعتیں دے کر کبھی دھرتی بچھاتی ہوں کبھی امبر بناتی ہوں مرے جذبوں کو یہ لفظوں کی بندش مار دیتی ہے کسی سے کیا کہوں کیا ذات کے اندر بناتی ہوں

tumhaari muntazir yuun to hazaaron ghar banaati huun

غزل · Ghazal

سوال اندر سوال لے کر کہاں چلے ہو یہ آسمان ملال لے کر کہاں چلے ہو جنوں کے رستے میں یہ خودی بھی عذاب ہوگی خرد کا کوہ وبال لے کر کہاں چلے ہو کہاں پہ کھولو گے درد اپنا کسے کہوگے کہیں چھپاؤ، یہ حال لے کر کہاں چلے ہو نہا رہے ہو عذاب ہجراں کی بارشوں میں ذرا سی گرد وصال لے کر کہاں چلے ہو سراب پینے کی آرزو ہے تو جواب دے دو سفر میں خواب و خیال لے کر کہاں چلے ہو چلے ہو جب تو ہمارے موسم بدل چکے ہیں سنو یہ میرے وبال لے کر کہاں چلے ہو

savaal-andar-savaal le kar kahaan chale ho

Similar Poets