"hazar chehre hain maujud aadmi gha.eb ye kis kharabe men duniya ne la ke chhoD diya"

Shahzad Ahmad
Shahzad Ahmad
Shahzad Ahmad
Sherشعر
See all 197 →hazar chehre hain maujud aadmi gha.eb
ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا
shab ki tanha.iyon men yaad us ki
شب کی تنہائیوں میں یاد اس کی جھلملاتا ہوا دیا جیسے
shauq-e-safar be-sabab aur safar be-talab
شوق سفر بے سبب اور سفر بے طلب اس کی طرف چل دیے جس نے پکارا نہ تھا
ye samajh ke maana hai sach tumhari baton ko
یہ سمجھ کے مانا ہے سچ تمہاری باتوں کو اتنے خوبصورت لب جھوٹ کیسے بولیں گے
guzarne hi na di vo raat main ne
گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے
chhoDne main nahin jaata use darvaze tak
چھوڑنے میں نہیں جاتا اسے دروازے تک لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے
Popular Sher & Shayari
394 total"shab ki tanha.iyon men yaad us ki jhilmilata hua diya jaise"
"shauq-e-safar be-sabab aur safar be-talab us ki taraf chal diye jis ne pukara na tha"
"ye samajh ke maana hai sach tumhari baton ko itne khub-surat lab jhuuT kaise bolenge"
"guzarne hi na di vo raat main ne ghaDi par rakh diya tha haath main ne"
"chhoDne main nahin jaata use darvaze tak lauT aata huun ki ab kaun use jaata dekhe"
khuli fazaa mein agar laDkhaDaa ke chal na sakein
to zahr piinaa hai behtar sharaab piine se
ab to insaan ki azmat bhi koi chiiz nahin
log patthar ko khudaa maan liyaa karte the
teri qurbat mein guzaare hue kuchh lamhe hain
dil ko tanhaai kaa ehsaas dilaane vaale
ek lamhe mein kaTaa hai muddaton kaa faasla
main abhi aayaa huun tasvirein puraani dekh kar
is aas pe sailaab ke siine pe ravaan huun
shaayad kabhi dariyaa kaa kinaaraa nazar aae
khud hi tasvir banaataa huun miTaa detaa huun
but-gari mere liye but-shikani ho jaise
Ghazalغزل
raat ki nindein to pahle hi uDaa kar le gayaa
رات کی نیندیں تو پہلے ہی اڑا کر لے گیا رہ گئی تھی آرزو سو وہ بھی آ کر لے گیا دن نکلتے ہی وہ خوابوں کے جزیرے کیا ہوئے صبح کا سورج مری آنکھیں چرا کر لے گیا دور سے دیکھو تو یہ دریا ہے پانی کی لکیر موج میں آیا تو جنگل بھی بہا کر لے گیا اس نے تو ان موتیوں پر خاک بھی ڈالی نہیں آنکھ کی تھالی میں دل آنسو سجا کر لے گیا غور سے دیکھا تو دل کی خاک تک باقی نہ تھی مجھ کو دعویٰ تھا کہ میں سب کچھ بچا کر لے گیا
dil bahut masruf thaa kal aaj be-kaaron mein hai
دل بہت مصروف تھا کل آج بے کاروں میں ہے سات پردوں میں جو رہتا تھا وہ بازاروں میں ہے خاک کے پتلے فلک کی سرحدوں کو چھو چکے اور جسے انسان کہتے ہیں ابھی غاروں میں ہے لاج رکھ لیتے ہیں میری منہ پہ کچھ کہتے نہیں دشمنی کا کچھ سلیقہ تو مرے پیاروں میں ہے سب کو دیکھا اور کسی کو دیکھ کر ٹوٹا نہیں آئنہ شاید ابھی اپنے پرستاروں میں ہے دھوپ کیسی تھی کہ میرے ہاتھ کالے کر گئی تیرگی کا رنگ شاید نور کے دھاروں میں ہے سب صدائیں لفظ ہیں لفظوں کے پیچھے کچھ نہیں دیکھنا یہ ہے کہ کوئی سر بھی دستاروں میں ہے بر سر پیکار دونوں ہیں نتیجہ کچھ نہیں جوش ہے دریاؤں میں اور صبر دیواروں میں ہے خیر و شر کی مشعلوں کو تو بجھاتا کیوں نہیں میں تو کیا ہوں اک فرشتہ بھی گنہ گاروں میں ہے دیکھتے کیا ہو کہ خود منظر تمہیں تکنے لگا بیچتے کیا ہو کہ یوسف بھی خریداروں میں ہے کوئی بھی منزل نہیں اپنی کشش دونوں طرف پاؤں مٹی میں گڑے ہیں آنکھ سیاروں میں ہے اب حقیقت جان کر شہزادؔ کیا لینا مجھے وجہ غازہ ہی سہی شعلہ تو رخساروں میں ہے
sukun kuchh to milaa dil kaa maajraa likh kar
سکون کچھ تو ملا دل کا ماجرا لکھ کر لفافہ پھاڑ دیا پھر ترا پتہ لکھ کر سمجھ میں یہ نہیں آتا خطاب کیسے کروں حروف کاٹ دیے میں نے بارہا لکھ کر قلم نے ٹوکا بھی دل کی صدا نے روکا بھی مگر جو اس نے کہا میں نے دے دیا لکھ کر ہجوم غم میں زباں ساتھ جب نہ دے پائی جو حال دل کا تھا میں نے سنا دیا لکھ کر اب اس کی باری ہے اب اختیار اس کا ہے کہیں کا میں نہ رہا اس کو بے وفا لکھ کر بھلا سا کوئی بھی اک نام اس کا رکھ لینا پر اس کے نام کو آنکھوں سے چومنا لکھ کر میں اپنی حسرت دل کا حساب کیسے دوں یہ ڈھیر میں نے لگایا ذرا ذرا لکھ کر مجھے تو اپنے لیے راستہ تراشنا ہے میں کیا کروں گا کسی کا لکھا ہوا لکھ کر ملی ہے اس کے سبب اتنی روشنی شہزادؔ بجھا دیے کئی سورج اسے دیا لکھ کر
khile jo phuul to munh chhup gayaa sitaaron kaa
کھلے جو پھول تو منہ چھپ گیا ستاروں کا مثال ابر چلا کارواں بہاروں کا نہ مجھ سے پوچھ شب ہجر دل پہ کیا گزری یہ دیکھ حال ہے کیا میرے غم گساروں کا نئی بہار ہنسے اک نیا چمن کھل جائے سمجھ سکے کوئی مطلب اگر اشاروں کا شب سیاہ کے لمحے گزار لینے دو گھڑی گھڑی نہ کرو ذکر ماہ پاروں کا دکھائی دیتی ہے اس طرح روپ رنگ کی بات فضا میں رقص ہو جس طرح ابر پاروں کا ہوا نہ راہ میں حائل کوئی شگوفہ بھی رواں دواں ہی رہا قافلہ بہاروں کا مجھے بھی اہل جہاں بھول جائیں گے شہزادؔ کسے خیال ہے ڈوبے ہوئے ستاروں کا
chamak chamak ke sitaaro mujhe fareb na do
چمک چمک کے ستارو مجھے فریب نہ دو تم اپنی رات گزارو مجھے فریب نہ دو طلسم ٹوٹ گیا ہے تمہاری الفت کا مری ہوس کو پکارو مجھے فریب نہ دو میں جانتا ہوں تمہاری حقیقت ہستی خزاں نصیب بہارو مجھے فریب نہ دو لگے ہوئے ہیں یہاں پھول پھول سے کانٹے مرے چمن کے نظارو مجھے فریب نہ دو تڑپ تڑپ نہ اٹھو آج میرے ارمانو بھڑک بھڑک کے شرارو مجھے فریب نہ دو امید وعدۂ فردا نہ مجھ کو دلواؤ میں غم نصیب ہوں یارو مجھے فریب نہ دو
kaise guzar sakeinge zamaane bahaar ke
کیسے گزر سکیں گے زمانے بہار کے چپ ہو گیا ہوں موسم گل کو پکار کے یا میری زندگی میں اجالا کرے کوئی یا پھینک دے کہیں یہ ستارے اتار کے جھولی میں گل تو کیا کوئی کانٹا ہی ڈال دو مایوس تو نہ ہو کوئی دامن پسار کے دل پر بھی آؤ ایک نظر ڈالتے چلیں شاید چھپے ہوئے ہوں یہیں دن بہار کے آنکھوں میں آنسوؤں کی طرح تیرنے لگے بھیگے ہوئے خیال لب جوئے بار کے دہکی ہوئی فضاؤں میں جائیں کہاں طیور سائے بھی جب گھنے نہ رہیں شاخسار کے شہزادؔ کس زمیں کو میں اپنا وطن کہوں آوارگان عشق ہوئے کس دیار کے





