SHAWORDS
Shakeel Badayuni

Shakeel Badayuni

Shakeel Badayuni

Shakeel Badayuni

poet
92Sher
92Shayari
103Ghazal

Sherشعر

See all 92

Popular Sher & Shayari

184 total

Ghazalغزل

See all 103
غزل · Ghazal

gham-e-jahaan ke fasaane talaash karte hain

غم جہاں کے فسانے تلاش کرتے ہیں یہ فتنہ گر تو بہانے تلاش کرتے ہیں رباب امن و سکوں کے حسین تاروں میں شکست دل کے ترانے تلاش کرتے ہیں یہ انتہا ہے جنون ہوس پرستی کی پرائے گھر میں خزانے تلاش کرتے ہیں نئے نظام کی بنیاد توڑنے والے وفا شعار پرانے تلاش کرتے ہیں ستم نواز دلوں کو جو سازگار نہ ہو شکیلؔ ہم وہ زمانے تلاش کرتے ہیں

غزل · Ghazal

niyaaz-o-naaz ki ye shaan-e-zebaai nahin jaati

نیاز و ناز کی یہ شان زیبائی نہیں جاتی ہماری خود سری ان کی خود آرائی نہیں جاتی ہزاروں آئنے ہو کر مقابل ٹوٹ جاتے ہیں مگر حسن ازل کی شان یکتائی نہیں جاتی کوئی دل کش نظارہ ہو کوئی دلچسپ منظر ہو طبیعت خود بہل جاتی ہے بہلائی نہیں جاتی محبت کی حقیقت کم نہیں اسرار ہستی سے سمجھ لیتا ہوں لیکن مجھ سے سمجھائی نہیں جاتی بظاہر ضبط پیہم بھی شریک درد الفت ہے شکیلؔ اس پر بھی اپنے دل کی رسوائی نہیں جاتی

غزل · Ghazal

dil lazzat-e-nigaah karam paa ke rah gayaa

دل لذت نگاہ کرم پا کے رہ گیا کتنا حسین خواب نظر آ کے رہ گیا لب تک شکایت غم دل لا کے رہ گیا ان کی ندامتوں پہ میں شرما کے رہ گیا میرے دل تباہ کا عالم نہ پوچھئے اک پھول تھا جو کھلتے ہی مرجھا کے رہ گیا منزل سے دور رہرو منزل تھا مطمئن منزل قریب آئی تو گھبرا کے رہ گیا شوریدگیٔ نالۂ گستاخ کیا کہوں اس قلب نازنیں کو بھی تڑپا کے رہ گیا بے گانہ وار جب وہ گزرتے چلے گئے کچھ بے قرار دل مجھے سمجھا کے رہ گیا ان کے حضور لب تو مکرر نہ کھل سکے روداد غم نگاہ سے دہرا کے رہ گیا یوں ختم داستان محبت ہوئی شکیلؔ جیسے کوئی حسین غزل گا کے رہ گیا

غزل · Ghazal

zamin par fasl-e-gul aai falak par maahtaab aayaa

زمیں پر فصل گل آئی فلک پر ماہتاب آیا سبھی آئے مگر کوئی نہ شایان شباب آیا مرا خط پڑھ کے بولے نامہ بر سے جا خدا حافظ جواب آیا مری قسمت سے لیکن لا جواب آیا اجالے گرمئ رفتار کا ہی ساتھ دیتے ہیں بسیرا تھا جہاں اپنا وہیں تک آفتاب آیا شکیلؔ اپنے مذاق دید کی تکمیل کیا ہوگی ادھر نظروں نے ہمت کی ادھر رخ پر نقاب آیا

غزل · Ghazal

bekaar gai aaD tire parda-e-dar ki

بے کار گئی آڑ ترے پردۂ در کی اللہ رے وسعت مرے آغوش نظر کی پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی دوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کی ایمان کی دولت سے ترے حسن کا سودا ایمان کی دولت ہے تری ایک نظر کی آ جائے تصور میں کوئی حشر بداماں پھر میری شب غم کو ضرورت ہے سحر کی وہ سامنے ہیں پھر بھی انہیں ڈھونڈ رہا ہوں آخر کوئی حد بھی ہے حجابات نظر کی تنہائی فرقت میں جو عالم ہے ادھر کا ہنگامۂ محفل میں وہ حالت ہے ادھر کی کچھ سہل نہ پائے ہیں محبت کے مراتب چھانی ہے بہت خاک تری راہگزر کی

غزل · Ghazal

fareb-e-mohabbat se ghaafil nahin huun

فریب محبت سے غافل نہیں ہوں جو مست جنوں ہو وہ دل نہیں ہوں انہیں عزم ترک تعلق مبارک میں ان کے ارادوں میں حائل نہیں ہوں تری بزم سے ہے بس اتنا تعلق کہ شامل بھی ہوں اور شامل نہیں ہوں قوم اور اغیار کے مشوروں سے میں ایسی عنایت کا قائل نہیں ہوں سنبھل کر ذرا اے محبت کی کشتی میں طوفاں ہی طوفاں ہوں ساحل نہیں ہوں مرا سوز ہستی ہے دور از ندامت میں پروانہ ہوں شمع محفل نہیں ہوں

Similar Poets