"nikal laaya huun ek pinjre se ik parinda ab is parinde ke dil se pinjra nikalna hai"

Umair Najmi
Umair Najmi
Umair Najmi
Sherشعر
See all 7 →nikal laaya huun ek pinjre se ik parinda
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
bichhaD ga.e to ye dil umr bhar lagega nahin
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں لگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں
kisi gali men kira.e pe ghar liya us ne
کسی گلی میں کرائے پہ گھر لیا اس نے پھر اس گلی میں گھروں کے کرائے بڑھنے لگے
kitab-e-ishq men har aah ek aayat hai
کتاب عشق میں ہر آہ ایک آیت ہے پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ
tum pe kya khaak asar hoga mire sheron ka
تم پہ کیا خاک اثر ہوگا مرے شعروں کا تم کو تو میر تقی میرؔ نہیں کھینچ سکا
ye saat uTh paDosi kahan se aa.e mire
یہ سات اٹھ پڑوسی کہاں سے آئے مرے تمھارے دل میں تو کوئی نہ تھا سوائے مرے
Popular Sher & Shayari
14 total"bichhaD ga.e to ye dil umr bhar lagega nahin lagega lagne laga hai magar lagega nahin"
"kisi gali men kira.e pe ghar liya us ne phir us gali men gharon ke kira.e baDhne lage"
"kitab-e-ishq men har aah ek aayat hai par ansuon ko huruf-e-muqatti.at samajh"
"tum pe kya khaak asar hoga mire sheron ka tum ko to mir-taqi-'mir' nahin khinch saka"
"ye saat uTh paDosi kahan se aa.e mire tumhare dil men to koi na tha siva.e mire"
ye saat uTh paDosi kahaan se aae mire
tumhaare dil mein to koi na thaa sivaae mire
nikaal laayaa huun ek pinjre se ik parinda
ab is parinde ke dil se pinjra nikaalnaa hai
kitaab-e-ishq mein har aah ek aayat hai
par aansuon ko huruf-e-muqattiaat samajh
kisi gali mein kiraae pe ghar liyaa us ne
phir us gali mein gharon ke kiraae baDhne lage
us ki tah se kabhi daryaaft kiyaa jaaungaa main
jis samundar mein ye sailaab ikaTThe honge
bichhaD gae to ye dil umr bhar lagegaa nahin
lagegaa lagne lagaa hai magar lagegaa nahin
Ghazalغزل
jhuk ke chaltaa huun ki qad us ke baraabar na lage
جھک کے چلتا ہوں کہ قد اس کے برابر نہ لگے دوسرا یہ کہ اسے راہ میں ٹھوکر نہ لگے یہ ترے ساتھ تعلق کا بڑا فائدہ ہے آدمی ہو بھی تو اوقات سے باہر نہ لگے نیم تاریک سا ماحول ہے درکار مجھے ایسا ماحول جہاں آنکھ لگے ڈر نہ لگے ماؤں نے چومنا ہوتے ہیں بریدہ سر بھی ان سے کہنا کہ کوئی زخم جبیں پر نہ لگے یہ جو آئینہ ہے دیکھوں تو خلا دکھتا ہے اس جگہ کچھ بھی نہ لگواؤں تو بہتر نہ لگے یہ طلب گار نگاہوں کے تقاضے ہر سو کوئی تو ایسی جگہ ہو جو مجھے گھر نہ لگے بانجھ فنکار ہے جس پر کوئی تنقید نہ ہو بے ثمر ہوتا ہے جس پیڑ کو پتھر نہ لگے تم نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا میں کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہیں سر نہ لگے
mujhe pahle to lagtaa thaa ki zaati masala hai
مجھے پہلے تو لگتا تھا کہ ذاتی مسئلہ ہے میں پھر سمجھا محبت کائناتی مسئلہ ہے پرندے قید ہیں تم چہچہاہٹ چاہتے ہو تمہیں تو اچھا خاصا نفسیاتی مسئلہ ہے ہمیں تھوڑا جنوں درکار ہے تھوڑا سکوں بھی ہماری نسل میں اک جینیاتی مسئلہ ہے بڑی مشکل ہے بنتے سلسلوں میں یہ توقف ہمارے رابطوں کی بے ثباتی مسئلہ ہے وہ کہتے ہیں کہ جو ہوگا وہ آگے جا کے ہوگا تو یہ دنیا بھی کوئی تجرباتی مسئلہ ہے ہمارا وصل بھی تھا اتفاقی مسئلہ تھا ہمارا ہجر بھی ہے حادثاتی مسئلہ ہے
main chhupne ke liye har din jagah badalne lagaa
میں چھپنے کے لیے ہر دن جگہ بدلنے لگا مگر وہ تیر چلایا تھا جو اجل نے لگا کوئی اسٹیج پر آیا تو اٹھ کھڑے ہوئے سب میں پستہ قد تھا ذرا دور تھا اچھلنے لگا ٹرین چلنے لگی اور اضطراب میں میں بجائے ہاتھ ہلانے کے ہاتھ ملنے لگا ہوا نے دیپ بجھایا نہ تھا الٹ دیا تھا ذرا سی دیر میں سارا مکان جلنے لگا تو زندگی سے نکل جائے عین ممکن ہے مگر تو میرے اثر سے نہیں نکلنے لگا ذرا نگاہ جمائی اور ایک برف سا جسم پسینہ بن کے جبیں سے ذرا پگھلنے لگا یے گل فروش رفوگر سنار فارغ تھے کسی کے آنے سے ان سب کا کام چلنے لگا
ba-vaqt-e-'asr jab ashyaa ke saae baDhne lage
بوقت عصر جب اشیا کے سایہ بڑھنے لگے ہم اک مکاں کی طرف سر جھکائے بڑھنے لگے کسی گلی میں کرائے پہ گھر لیا اس نے پھر اس گلی میں گھروں کے کرائے بڑھنے لگے میں چاہتا ہوں کہ اب ہم سمندروں کے بیچ زمیں نگلتی کوئی آبنائے بڑھنے لگے پھر آج گھر سے نکل کر نئی تھکن کی طرف پرانے دن کی تھکن کو اٹھائے بڑھنے لگے تھی ترک نسبت و ترکہ میں نسبت معکوس سو جائیداد گھٹی تو پرائے بڑھنے لگے میں چاہتا ہوں تو میرے خلاف بولا کر میں چاہتا ہوں ترے حق میں رائے بڑھنے لگے کسی بھی شے کا جنوں بھوکھ کی طرح ہے عمیرؔ کہ اس کو جتنا بھی کوئی بڑھائے بڑھنے لگے
kahaa jo main ne ghalat kar rahi ho chun ke mujhe
کہا جو میں نے غلط کر رہی ہو چن کے مجھے اچانک اس نے کہا چپ یہ بات سن کے مجھے کوئی جنون ہوا میں اڑا دے میرا وجود کوئی عصا ہو جو روئی کی طرح دھنکے مجھے کسی نے کہہ کے جب اک ہاں بسایا دل کا جہاں قسم خدا کی سمجھ آئے معنی کن کے مجھے ادھیڑ دے گر ارادہ نہیں پہننے کا یہ کیا کہ ایک طرف رکھ دیا ہے بن کے مجھے تمھارے لوٹنے تک کچھ برا نہ ہو گیا ہو نہ پاس چھوڑنا مجھ ایسے بد شگن کے مجھے شجر سے کاٹ لیا ہے تو اپنی میز بنا اگر نہیں تو پھر آنے دے کام گھن کے مجھے کل ایک ریل کی چھک چھک سے رکن یاد آئے مفاعلن فعلاتن مفاعلن کے مجھے فقیر لوگ سمجھ آئیں یا نہ آئیں عمیرؔ کوئی سمجھتا نہیں ہے سوائے ان کے مجھے
musalsal mujassam du'aaein salaamat rahein
مسلسل مجسم دعائیں سلامت رہیں سلامت رہیں سب کی مائیں سلامت رہیں ہمارے بھی ہے آگے پیچھے کوئی کہہ سکیں یہ جو لوگ ہیں دائیں بائیں سلامت رہیں اگر ساتھ چلنا ہے آئیں جی خوش آمدید اگر جا رہے ہیں تو جائیں سلامت رہیں مرے گھر کے دروازے پر بھی ہوئیں دستکیں گلی سے گزرتی ہوائیں سلامت رہیں سلامت ہیں سب محفلیں ان کے ڈر کے طفیل یہ تنہائی جیسی بلائیں سلامت رہیں تجھے خامشی کا پتہ ہی نہیں ورنہ تو مرے ساتھ کہتا صدائیں سلامت رہیں وہ دل جو دھڑکتے ہیں پتھر نہیں ان کی خیر وہ آنکھیں جو آنسو بہائیں سلامت رہیں خود آتا تھا پہلے اور اس بار بس اک پیام جنم دن کی شبھکامنائیں سلامت رہیں مرا کیا ہے پہلے سے ٹوٹا ہوا ہوں عمیرؔ بس ان دوستوں کی انائیں سلامت رہیں





