musibat kaa pahaaD aakhir kisi din kaT hi jaaegaa
mujhe sar maar kar teshe se mar jaanaa nahin aataa

Yagana Changezi
Yagana Changezi
Yagana Changezi
Popular Shayari
60 totalsabr karnaa sakht mushkil hai taDapnaa sahl hai
apne bas kaa kaam kar letaa huun aasaan dekh kar
duniyaa ke saath diin ki begaar al-amaan
insaan aadmi na huaa jaanvar huaa
muflisi mein mizaaj shaahaana
kis maraz ki davaa kare koi
gunaah gin ke main kyuun apne dil ko chhoTaa karun
sunaa hai tere karam kaa koi hisaab nahin
'yagaanaa' vahi faateh-e-lakhknau hain
dil-e-sang-o-aahan mein ghar karne vaale
kashish-e-lucknow are tauba
phir vahi ham vahi aminaabaad
pahaaD kaaTne vaale zamin se haar gae
isi zamin mein dariyaa samaae hain kyaa kyaa
ilm kyaa ilm ki haqiqat kyaa
jaisi jis ke gumaan mein aai
sab tire sivaa kaafir aakhir is kaa matlab kyaa
sar phiraa de insaan kaa aisaa khabt-e-mazhab kyaa
kisi ke ho raho achchhi nahin ye aazaadi
kisi ki zulf se laazim hai silsila dil kaa
dard ho to davaa bhi mumkin hai
vahm ki kyaa davaa kare koi
Ghazalغزل
دنیا کا چلن ترک کیا بھی نہیں جاتا اس جادۂ باطل سے پھرا بھی نہیں جاتا زندان مصیبت سے کوئی نکلے تو کیونکر رسوا سر بازار ہوا بھی نہیں جاتا دل بعد فنا بھی ہے گراں بار امانت دنیا سے سبک دوش اٹھا بھی نہیں جاتا کیوں آنے لگے شاہد عصمت سر بازار کیا خاک کے پردے میں چھپا بھی نہیں جاتا اک معنی بے لفظ ہے اندیشۂ فردا جیسے خط قسمت کہ پڑھا بھی نہیں جاتا
duniyaa kaa chalan tark kiyaa bhi nahin jaataa
قصہ کتاب عمر کا کیا مختصر ہوا رخ داستان غم کا ادھر سے ادھر ہوا ماتم سرائے دہر میں کس کس کو روئیے اے وائے درد دل نہ ہوا درد سر ہوا تسکین دل کو راز خودی پوچھتا ہے کیا کہنے کو کہہ دوں اور اگر الٹا اثر ہوا آزاد ہو سکا نہ گرفتار شش جہت دل مفت بندۂ ہوس بال و پر ہوا دنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں انسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا فردا کا دھیان باندھ کے کہتا ہے مجھ سے دل تو میری طرح کیوں نہ وسیع النظر ہوا فردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے دل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا
qissa kitaab-e-umr kaa kyaa mukhtasar huaa
کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے بے دلوں کی ہستی کیا جیتے ہیں نہ مرتے ہیں خواب ہے نہ بیداری ہوش ہے نہ مستی ہے کیا بتاؤں کیا ہوں میں قدرت خدا ہوں میں میری خود پرستی بھی عین حق پرستی ہے کیمیائے دل کیا ہے خاک ہے مگر کیسی لیجئے تو مہنگی ہے بیچئے تو سستی ہے خضر منزل اپنا ہوں اپنی راہ چلتا ہوں میرے حال پر دنیا کیا سمجھ کے ہنستی ہے کیا کہوں سفر اپنا ختم کیوں نہیں ہوتا فکر کی بلندی یا حوصلے کی پستی ہے حسن بے تماشا کی دھوم کیا معما ہے کان بھی ہیں نامحرم آنکھ بھی ترستی ہے چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا چال سے تو کافر پر سادگی برستی ہے ترک لذت دنیا کیجئے تو کس دل سے ذوق پارسائی کیا فیض تنگ دستی ہے دیدنی ہے یاسؔ اپنے رنج و غم کی طغیانی جھوم جھوم کر کیا کیا یہ گھٹا برستی ہے
kaar-gaah-e-duniyaa ki nesti bhi hasti hai
سلسلہ چھڑ گیا جب یاسؔ کے افسانے کا شمع گل ہو گئی دل بجھ گیا پروانے کا عشق سے دل کو ملا آئنہ خانے کا شرف جگمگا اٹھا کنول اپنے سیہ خانے کا خلوت ناز کجا اور کجا اہل ہوس زور کیا چل سکے فانوس سے پروانے کا لاش کم بخت کی کعبے میں کوئی پھکوا دے کوچۂ یار میں کیوں ڈھیر ہو پروانے کا وائے حسرت کہ تعلق نہ ہوا دل کو کہیں نہ تو کعبے کا ہوا میں نہ صنم خانے کا تشنہ لب ساتھ چلے شوق میں سائے کی طرح رخ کیا ابر بہاری نے جو مے خانے کا واہ کس ناز سے آتا ہے ترا دور شباب جس طرح دور چلے بزم میں پیمانے کا اہل دل مست ہوئے پھیل گئی بوئے وفا پیرہن چاک ہوا جب ترے دیوانے کا سر شوریدہ کجا عشق کی بیگار کجا مگر اللہ رے دل آپ کے دیوانے کا دیکھ کر آئنے میں چاک گریباں کی بہار اور بگڑا ہے مزاج آپ کے دیوانے کا کیا عجب ہے جو حسینوں کی نظر لگ جائے خون ہلکا ہے بہت آپ کے دیوانے کا آپ اب شمع سحر بڑھ کے گلے ملتی ہے بخت جاگا ہے بڑی دیر میں پروانے کا دل بے حوصلہ تکتا ہے خریدار کی راہ کوئی گاہک نہیں ٹوٹے ہوئے پیمانے کا بزم میں صبح ہوئی چھا گیا اک سناٹا سلسلہ چھڑ گیا جب آپ کے افسانے کا
silsila chhiD gayaa jab 'yaas' ke afsaane kaa
حسن پر فرعون کی پھبتی کہی ہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہی دامن یوسف ہی بھڑکاتا رہا عشق اور ترک ادب اچھی کہی کون سمجھائے کہ دنیا گول ہے آپ نے جیسی سنی ویسی کہی کوئی ضد تھی یا سمجھ کا پھیر تھا من گئے وہ میں نے جب الٹی کہی درد سے پہلے کروں فکر دوا واہ یہ اچھی الٹوانسی کہی دوست سے پردہ کیا یہ کیا کیا آپ بیتی چھوڑ جگ بیتی کہی شک ہے کافر کو مرے ایمان میں جیسے میں نے کوئی منہ دیکھی کہی کیا خبر تھی یہ جدائی اور ہے ہائے میں نے کیوں خدا لگتی کہی مفت میں سن لی یگانہؔ کی غزل ان سنی کر دی جو مطلب کی کہی
husn par firaun ki phabti kahi
محروم شہادت کی ہے کچھ تجھ کو خبر بھی او دشمن جاں دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھی ہے جان کے ساتھ اور اک ایمان کا ڈر بھی وہ شوخ کہیں دیکھ نہ لے مڑ کے ادھر بھی وہ ہم سے نہیں ملتے ہم ان سے نہیں ملتے اک ناز دل آویز ادھر بھی ہے ادھر بھی ٹھنڈا ہو کلیجا مرا اس آہ سحر سے جب دل کی طرح جلنے لگے غیر کا گھر بھی اللہ ری بے تابئ دل وصل کی شب کو کچھ کشمکش شوق بھی کچھ صبح کا ڈر بھی انگڑائیاں لے لے کے اٹھے صاحب محفل کچھ نیند بھی آنکھوں میں ہے کچھ مے کا اثر بھی ہم مانگتے ہی کیوں جو یہی جانتے ساقی پھر جائے گی قسمت کی طرح تیری نظر بھی ہم ہاتھ سے دل تھامے ہوئے دور کھڑے ہیں دیکھیں تو کوئی لیتا ہے کچھ اس کا اثر بھی اے جذبۂ دل دیکھ بہت تو نے کمی کی ہاں آہوں میں اب چاہیے تھوڑا سا اثر بھی اب چپ رہو جو دل پہ گزرنی تھی وہ گزری ایسا نہ ہو پھٹ جائے کہیں زخم جگر بھی محروم شہادت تجھے کچھ شرم نہ آئی کم بخت گلا کاٹ کے جلدی کہیں مر بھی بھاری ہے مسافر پہ بہت گور کی منزل سنتے ہیں کہ اس راہ میں ہے جان کا ڈر بھی وہ کشمکش غم ہے کہ میں کہہ نہیں سکتا آغاز کا افسوس اور انجام کا ڈر بھی کھول آنکھیں ذرا مست ہے کیا ساغر جم سے ہے گردش ایام کی کچھ تجھ کو خبر بھی لیلیٔ شب ہجر نے بکھرا دیے گیسو ماتم میں مرے چاک گریباں ہے سحر بھی کس شان سے آتی ہے مری شام مصیبت وہ دیکھو جلو میں ہے قیامت کی سحر بھی بجھتی ہوئی اک شمع ہوں کیا دم کا بھروسا دشمن ہے مری جان کی اب آہ سحر بھی دیکھے کوئی جاتی ہوئی دنیا کا تماشا بیمار بھی سر دھنتا ہے اور شمع سحر بھی صحرا کی ہوا کھینچے لیے جاتی ہے مجھ کو کہتا ہے وطن دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھی ہاں کٹ گئی شاید ترے دیوانے کی بیڑی پچھلے پہر آئی تھی کچھ آواز ادھر بھی کیا وعدۂ دیدار کو سچ جانتے ہو یاسؔ لو فرض کرو آئی قیامت کی سحر بھی اللہ مبارک کرے پیری کی سحر یاسؔ مرنے کی تمنا تھی تو لے اب کہیں مر بھی
mahrum-e-shahaadat ki hai kuchh tujh ko khabar bhi





