baDe azaab mein huun mujh ko jaan bhi hai aziiz
sitam ko dekh ke chup bhi rahaa nahin jaataa

Zeb Ghauri
Zeb Ghauri
Zeb Ghauri
Popular Shayari
64 totalkuchh duur tak to chamki thi mere lahu ki dhaar
phir raat apne saath bahaa le gai mujhe
main laakh ise taaza rakhun dil ke lahu se
lekin tiri tasvir khayaali hi rahegi
be-hisi par miri vo khush thaa ki patthar hi to hai
main bhi chup thaa ki chalo siine mein khanjar hi to hai
dil hai ki tiri yaad se khaali nahin rahtaa
shaayad hi kabhi main ne tujhe yaad kiyaa ho
ajab karishma dikhaayaa ba-yak qalam us ne
havaa chalaai samundar ko naqsh-e-aab diyaa
guhar lage the khunuk ungliyon ke zakhm mujhe
ab is athaah samundar ko phir khangaale kaun
main to chaak pe kuza-gar ke haath ki miTTi huun
ab ye miTTi dekh khilaunaa kaise banti hai
miri jagah koi aaina rakh liyaa hotaa
na jaane tere tamaashe mein meraa kaam hai kyaa
uDaa ke khaak bahut main ne dekh li ai 'zeb'
vahaan talak to koi raasta nahin jaataa
jitnaa dekho use thakti nahin aankhein varna
khatm ho jaataa hai har husn kahaani ki tarah
zakhm lagaa kar us kaa bhi kuchh haath khulaa
main bhi dhokaa khaa kar kuchh chaalaak huaa
Ghazalغزل
مجھ سے کیا پائے گا کئی مرے خوابوں کے سوا اور صحرا میں رکھا کیا ہے سرابوں کے سوا سبز مٹی پہ لہو بھی تو بہا ہے کتنا کچھ مہک اور بھی آتی ہے گلابوں کے سوا اب کہاں تک ترے پردوں کو الٹتا جاؤں ہاتھ آیا نہ مرے کچھ بھی حجابوں کے سوا پارسائی میں بھی ان آنکھوں میں وہ کچھ تھا کہ بس کوئی تشبیہ نہیں سوجھی شرابوں کے سوا زیبؔ سوچا تھا کہ کچھ لطف کی باتیں ہوں گی گفتگو ہی نہ ہوئی ان سے کتابوں کے سوا
mujh se kyaa paaegaa koi mire khvaabon ke sivaa
اب اس کے دل میں کیا جانے آیا کیا مطلب کیا تھا اور مجھے سمجھایا کیا اونچی نیچی دیواریں ہیں چار طرف کوئی پڑوسی کیسا اور ہمسایہ کیا جانی پہچانی سی آہٹ لگتی ہے دل کے ویرانے میں کوئی آیا کیا ایک گھنی نیچی چھت آم کے باغوں کی مست مہکتی بور میں دھوپ اور سایہ کیا کہاں اب اس صحرا میں ہوں معلوم نہیں میں نے سنگ راہ سمجھ کے ہٹایا کیا اتنے گہرے جانا تیرے بس میں نہیں مجھ کو پتہ ہے دریا سے تو لایا کیا دل آئینہ بن جائے تو بہت جانو ورنہ مٹی کیا مٹی کی مایہ کیا اپنے گھر کی دیواریں ہی گرا دیں زیبؔ بیٹھے بیٹھے میرا دل گھبرایا کیا
ab us ke dil mein kyaa jaane aayaa kyaa
عکس فلک پر آئینہ ہے روشن آب ذخیروں کا گرم سفر ہے قاز قافلہ سیل رواں ہے تیروں کا کٹے ہوئے کھیتوں کی منڈیروں پر ابرک کی زنگاری تھکی ہوئی مٹی کے سہارے ڈھیر لگا ہے ہیروں کا تیز قلم کرنوں نے بنائے ہیں کیا کیا حیرت پیکر جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی پر نقش اترا تصویروں کا کیا کچھ دل کی خاکستر پر لکھ کے گئی ہے موج ہوا پڑھنے والا کوئی نہیں ہے ان مٹتی تحریروں کا ریگ نفس کا ذائقہ منہ میں گرد مہ و سال آنکھوں میں میں ہوں زیبؔ اور چار طرف اک صحرا ہے تعبیروں کا
aks-e-falak par aaina hai raushan aab zakhiron kaa
عالم سے فزوں تیرا عالم نظر آتا ہے ہر حسن مقابل میں کچھ کم نظر آتا ہے چمکا ہے مقدر کیا اس تیرہ نصیبی کا سورج بھی شب غم کا پرچم نظر آتا ہے ہے تیری تمنا کا بس ایک بھرم قائم اب ورنہ مرے دل میں کیا دم نظر آتا ہے تنہا نہیں رہ پاتا صحرا میں بھی دیوانہ جب خاک اڑاتا ہے عالم نظر آتا ہے اے زیبؔ مجھے تیری تخئیل کی موجوں میں ہشیاری و مستی کا سنگم نظر آتا ہے
aalam se fuzun teraa aalam nazar aataa hai
نہ ابر سے ترا سایہ نہ تو نکلتا ہے غبار آئینۂ آب جو نکلتا ہے لہو کا رنگ جھلکتا ہے آنسوؤں میں کہیں نہ خاک دل سے شرار نمو نکلتا ہے اس انتشار میں کوئی پتا نہیں چلتا جو گرد بیٹھے تو اک دشت ہو نکلتا ہے چمک اٹھی ہیں کھنڈر کی شکستہ دیواریں کدھر سے قافلۂ رنگ و بو نکلتا ہے نہ جانے کیا ہے کہ جب بھی میں اس کو دیکھتا ہوں تو کوئی اور مرے رو بہ رو نکلتا ہے لیے دیئے ہوئے رکھتا ہے خود کو وہ لیکن جہاں بھی غور سے دیکھو رفو نکلتا ہے جڑا ہے ذات سے اس کی ہر ایک شعر اس کا جو پتا شاخ سے توڑو لہو نکلتا ہے نہ دھند چھٹتی ہے آنکھوں کے سامنے سے کبھی نہ دل سے حوصلۂ جستجو نکلتا ہے نہ چاند ابھرتا ہے دیوار شب سے زیبؔ کہیں نہ سرو غم سے قد آرزو نکلتا ہے
na abr se tiraa saaya na tu nikaltaa hai
تو بے خبر ہو تو کچھ حال دل سناؤں تجھے جو زخم تو نے دئے ہیں میں کیا دکھاؤں تجھے قریب آ کے کبھی بیٹھ بے نیاز مرے کہ میرا تیرا تعلق ہے کیا بتاؤں تجھے میں دھوپ روک کے سورج کے سامنے ہو جاؤں اور اپنی چھاؤں میں گھر آئے تو بٹھاؤں تجھے میں بت پرست نہ پتھر کا کوئی بت ہے تو یہ کیا کہ تو نہ سنے میری جب بلاؤں تجھے کبھی مجھے مرے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کے بلا پلٹ کے دیکھوں تو اپنے قریب پاؤں تجھے تو نور ہے تو اجالوں سے میرا گھر بھر دے کہ شام ہو تو دیے کی طرح جلاؤں تجھے سنا سنا کے مجھے قصے مت ڈرا مجھ کو تو ایک شعلہ سہی آ گلے لگاؤں تجھے لپیٹ رکھا ہے انگلی پہ وقت کو میں نے ازل دکھاؤں کہ روز ابد دکھاؤں تجھے وہ ہنس رہا ہے پس پردہ دیکھ کر مجھ کو اب ایسے اپنا تماشہ بھی کیا دکھاؤں تجھے میں اپنا دل ترے سینے میں اب کے رکھ دوں گا یہ سوچتا ہوں کہ اک بار پھر بناؤں تجھے یہ راستہ کہ جدھر زیبؔ جا رہے ہیں ہم پتہ نہیں مجھے خود بھی تو کیا بتاؤں تجھے
tu be-khabar ho to kuchh haal-e-dil sunaaun tujhe





