SHAWORDS
Zehra Nigaah

Zehra Nigaah

Zehra Nigaah

Zehra Nigaah

poet
49Shayari
31Ghazal

Popular Shayari

49 total

Ghazalغزل

See all 31
غزل · Ghazal

رک جا ہجوم گل کہ ابھی حوصلہ نہیں دل سے خیال تنگی داماں گیا نہیں جو کچھ ہیں سنگ و خشت ہیں یا گرد رہگزر تم تک جو آئے ان کا کوئی نقش پا نہیں ہر آستاں پہ لکھا ہے اب نام شہر یار وابستگان دل کے لئے کوئی جا نہیں صد حیف اس کے ہاتھ ہے ہر زخم کا رفو دامن میں جس کے ایک بھی تار وفا نہیں

ruk jaa hujum-e-gul ki abhi hausla nahin

غزل · Ghazal

ہر آن ستم ڈھائے ہے کیا جانیے کیا ہو دل غم سے بھی گھبرائے ہے کیا جانیے کیا ہو کیا غیر کو ڈھونڈیں کہ ترے کوچے میں ہر ایک اپنا سا نظر آئے ہے کیا جانیے کیا ہو آنکھوں کو نہیں راس کسی یاد کا آنسو تھم تھم کے ڈھلک جائے ہے کیا جانیے کیا ہو اس بحر میں ہم جیسوں پہ ہر موجۂ‌ پر خوں آ آ کے گزر جائے ہے کیا جانیے کیا ہو دنیا سے نرالے ہیں تری بزم کے دستور جو آئے سو پچھتائے ہے کیا جانیے کیا ہو

har aan sitam Dhaae hai kyaa jaaniye kyaa ho

غزل · Ghazal

سر جھکائے ہوئے اک راہ پہ چلتے رہیے اک صدا کان میں آئے گی وہ سنتے رہیے مڑ کے دیکھیں گے تو پتھر نہیں ہو جائیں گے آپ مڑ کے بھی دیکھیے اور آگے بھی چلتے رہیے ایسے سناٹے میں جب بار ہو آواز نفس صورت دل ہی کسی دل میں دھڑکتے رہیے

sar jhukaae hue ik raah pe chalte rahiye

غزل · Ghazal

ہمیں تو عادت زخم سفر ہے کیا کہئے یہاں پہ راہ وفا مختصر ہے کیا کہیے جدائیاں تو یہ مانا بڑی قیادت ہیں رفاقتوں میں بھی دکھ کس قدر ہے کیا کہیے حکایت غم دنیا طویل تھی کہہ دی حکایت غم دل مختصر ہے کیا کہیے مجال دید نہیں حسرت نظارہ سہی یہ سلسلہ ہی بہت معتبر ہے کیا کہیے

hamein to aadat-e-zakhm-e-safar hai kyaa kahiye

غزل · Ghazal

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو اب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو پھولوں سے ہوا بھی کبھی گھبرائی ہے دیکھو غنچوں سے بھی شبنم کبھی کترائی ہے دیکھو اب ذوق طلب وجہ جنوں ٹھیر گیا ہے اور عرض وفا باعث رسوائی ہے دیکھو غم اپنے ہی اشکوں کا خریدار ہوا ہے دل اپنی ہی حالت کا تماشائی ہے دیکھو

jo dil ne kahi lab pe kahaan aai hai dekho

غزل · Ghazal

صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی داغ دل خراب سے رات میں روشنی رہی تیرے سبھی کلاہ پوش کوہ غرور سے گرے اپنی تو ترک سر کے بعد عشق میں برتری رہی ساتویں آسمان تک شعلۂ علم و عقل تھا پھر بھی زمین اہل دل کیسی ہری بھری رہی آپ ہوا ہے مندمل گل نے بہار کی نہیں شہرت دست چارہ گر زخم ہی ڈھونڈھتی رہی کہتے ہیں ہر ادب میں ہے ایک صدائے بازگشت میرؔ کے حسن شعر سے میری غزل سجی رہی

surat-e-dilkashi rahi khvaahish-e-zindagi rahi

Similar Poets