SHAWORDS
Zia Faooqui

Zia Faooqui

Zia Faooqui

Zia Faooqui

poet
16Shayari
31Ghazal

Popular Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 31
غزل · Ghazal

مت پوچھئے کیا جیتنے نکلا تھا میں گھر سے مت پوچھئے کیا ہار کے لوٹا ہوں سفر سے کچھ میں بھی گراں گوش تھا سن ہی نہیں پایا کچھ وقت بھی گزرا ہے دبے پاؤں ادھر سے کل رات بھی تھا چودھویں کا چاند فلک پر کل رات بھی اک قافلہ نکلا تھا کھنڈر سے اک ابر کا ٹکڑا ہے پرندہ ہے کہ تو ہے یہ کون ہے جو روز گزرتا ہے ادھر سے کیا جانے مجھے تخت سلیماں کہاں لے جائے جھپکی ہی نہیں آنکھ مری خواب کے ڈر سے دیکھا تو کسی آنکھ میں حیرت بھی نہیں تھی خالی تھا مرا کھیل بھی ہر کیف و اثر سے سورج کے تعاقب میں ہوا وہ بھی تہہ آب اک شخص ضیاؔ ساتھ تھا ہنگام سحر سے

mat puchhiye kyaa jitne niklaa thaa main ghar se

1 views

غزل · Ghazal

تماشا گاہ ہے یا عالم بے رنگ و بو کیا ہے میں کس سے پوچھنے جاؤں کہ میرے روبرو کیا ہے بصارت کہہ رہی ہے کچھ نہیں اس دشت وحشت میں سماعت پوچھتی ہے پھر یہ آخر ہاؤ ہو کیا ہے یہ کس کی آمد و شد سے ہوائیں رقص کرتی ہیں یہ کیوں موسم بدلتے ہیں میان رنگ و بو کیا ہے در و دیوار کیا کہتے ہیں گھر کس کو بلاتا ہے گزرتے موسموں سے بام و در کی گفتگو کیا ہے دکھائی کیوں نہیں دیتا مجھے اس پار کا منظر یہ اک دیوار جیسی چشم تر کے روبرو کیا ہے میں اس کے سامنے اک آئینہ لے جا کے رکھ دوں گا ضیاؔ اپنی زباں سے کیوں کہوں اس سے کہ تو کیا ہے

tamaashaa-gaah hai yaa aalam-e-be-rang-o-bu kyaa hai

1 views

غزل · Ghazal

سب آگ ظاہری تھی دلوں میں لگی نہ تھی مجھ کو بھی کب جنوں تھا اگر وہ پری نہ تھی حسرت ملال درد تڑپ خواب آرزو اک کارواں تھا ساتھ مرے بس وہی نہ تھی وہ دشت انتشار میں ایسا غزال تھا نافہ سے جس کے مشک ابھی تک اڑی نہ تھی پھر یہ ہوا کہ دونوں جدا ہو گئے مگر اس کو بھی تھا ملال مجھے بھی خوشی نہ تھی سوچا تو ایک ابر کا ٹکڑا برس گیا دیکھا تو دور دور ہوا میں نمی نہ تھی دنیا تو دوستی پہ رضامند تھی ضیاؔ پر کیا کریں کہ خود سے مری دشمنی نہ تھی

sab aag zaahiri thi dilon mein lagi na thi

1 views

غزل · Ghazal

جانے کیسے میں سدا بے بال و پر اڑتا رہا دوستوں کے شہر میں مثل خبر اڑتا رہا عمر کی یہ تیز گامی اور پھر تیرا خیال ایک سایہ سا پس گرد سفر اڑتا رہا کیسے کیسے امتحاں تو نے لئے اے زندگی پھر بھی میں بازو شکستہ عمر بھر اڑتا رہا جانے کیا سمجھا کے اس کو لے گئی پاگل ہوا دیر تک پتہ شجر سے ٹوٹ کر اڑتا رہا پاؤں وحشت نے پکڑ رکھے تھے صحرا دیکھ کر اور تصور جانب دیوار و در اڑتا رہا اک پرندہ امن کا پالا تھا ہم نے پیار سے لاکھ کاٹے بال و پر تم نے مگر اڑتا رہا منتظر اس بار بھی آنکھیں رہیں اپنی ضیاؔ کوئی چہرہ بادلوں کے دوش پر اڑتا رہا

jaane kaise main sadaa be-baal-o-par uDtaa rahaa

1 views

غزل · Ghazal

جاتا ہے کہیں خون سے نسبت کا اثر بھی تلوار جو بولے گی تو لے جائے گی سر بھی پہلے تھا بہت فاصلہ بازار سے گھر کا اب ایک ہی کمرے میں ہے بازار بھی گھر بھی دیکھیں تو نظر آتی ہے صد رنگ یہ دنیا برتیں تو ہوئی جاتی ہے بے رنگ نظر بھی اس شہر میں اشکوں کا لکھا کون پڑھے گا جب خون اچھلتا ہے تو بنتی ہے خبر بھی یہ سوچ کے ہم نے کبھی جگنو نہیں پکڑے نکلے گا اندھیرے سے ابھی نور سحر بھی کیوں حق کی صدا آتی نہیں بانگ درا سے اے خواہش صد رنگ ذرا دیکھ ادھر بھی ہر شخص لیے گرد سفر گھوم رہا ہے اک کھیل سا لگتا ہے ضیاؔ اب تو سفر بھی

jaataa hai kahin khuun se nisbat kaa asar bhi

غزل · Ghazal

رہے دریائے سخن یوں ہی رواں میرے بعد بانجھ ہو جائے نہ غالب کی زباں میرے بعد کون دے گا انہیں خوشبو کا جہاں میرے بعد کس سے لپٹیں گے یہ نازک بدناں میرے بعد کو بہ کو پھرتی ہے اب چاروں طرف آوارہ بوئے گل کو نہ ملی جائے اماں میرے بعد لاکھ میں ننگ سخن ہوں پہ یقیں ہے مجھ کو لوگ ڈھونڈیں گے مرا طرز بیاں میرے بعد چھوڑ کر جاؤں گا میں گھر میں اجالے کا ثبوت کام آئے گا یہ طاقوں کا دھواں میرے بعد یار سب چل دئے بازار ہوس کی جانب ہو گئی راہ جنوں کم گزراں میرے بعد میں کہ خاتم بھی ہوں خود اپنی طبیعت کا ضیاؔ قط ہوا سلسلۂ آہ و فغاں میرے بعد

rahe dariyaa-e-sukhan yunhi ravaan mere baad

Similar Poets