pahle thaa bahut faasla baazaar se ghar kaa
ab ek hi kamre mein hai baazaar bhi ghar bhi

Zia Faooqui
Zia Faooqui
Zia Faooqui
Popular Shayari
16 totalmat puchhiye kyaa jitne niklaa thaa main ghar se
ye dekhiye kyaa haar ke lauTaa huun safar se
badan ki qaid se chhuTaa to log pahchaane
tamaam 'umr kisi ko miraa pata na milaa
ye safar ye Dubte suraj kaa manzar aur main
jaane kab ho paaeinge baaham miraa ghar aur main
shu’ur-e-tishnagi ik roz mein pukhta nahin hotaa
mire honTon ne sadiyon karbalaa ki khaak chumi hai
aankhein hain ki ab tak usi chaukhaT pe dhari hain
detaa huun zamaane ko magar apnaa pata aur
zindagi ke is safar ne aur kyaa mujh ko diyaa
ek TuuTaa aaina do chaar patthar aur main
kaun jaane aaj bhi karte hain kis kaa intizaar
ye shikasta baam-o-dar rauzan kabutar aur main
gham-e-hayaat ko yuun khush-gavaar kar liyaa hai
ki ham ne haal ko maazi shumaar kar liyaa hai
kal raat bhi thaa chaudhvin kaa chaand falak par
kal raat bhi ik qaafila niklaa thaa khanDar se
kyaa khabar thi ki tamaashe ko hunar karte hue
'umr kaT jaaegi baazaar ko ghar karte hue
kal raat bhi ik chehra hamraah mire jaagaa
kal raat bhi rah-rah kar divaar lagin aankhein
Ghazalغزل
مت پوچھئے کیا جیتنے نکلا تھا میں گھر سے مت پوچھئے کیا ہار کے لوٹا ہوں سفر سے کچھ میں بھی گراں گوش تھا سن ہی نہیں پایا کچھ وقت بھی گزرا ہے دبے پاؤں ادھر سے کل رات بھی تھا چودھویں کا چاند فلک پر کل رات بھی اک قافلہ نکلا تھا کھنڈر سے اک ابر کا ٹکڑا ہے پرندہ ہے کہ تو ہے یہ کون ہے جو روز گزرتا ہے ادھر سے کیا جانے مجھے تخت سلیماں کہاں لے جائے جھپکی ہی نہیں آنکھ مری خواب کے ڈر سے دیکھا تو کسی آنکھ میں حیرت بھی نہیں تھی خالی تھا مرا کھیل بھی ہر کیف و اثر سے سورج کے تعاقب میں ہوا وہ بھی تہہ آب اک شخص ضیاؔ ساتھ تھا ہنگام سحر سے
mat puchhiye kyaa jitne niklaa thaa main ghar se
1 views
تماشا گاہ ہے یا عالم بے رنگ و بو کیا ہے میں کس سے پوچھنے جاؤں کہ میرے روبرو کیا ہے بصارت کہہ رہی ہے کچھ نہیں اس دشت وحشت میں سماعت پوچھتی ہے پھر یہ آخر ہاؤ ہو کیا ہے یہ کس کی آمد و شد سے ہوائیں رقص کرتی ہیں یہ کیوں موسم بدلتے ہیں میان رنگ و بو کیا ہے در و دیوار کیا کہتے ہیں گھر کس کو بلاتا ہے گزرتے موسموں سے بام و در کی گفتگو کیا ہے دکھائی کیوں نہیں دیتا مجھے اس پار کا منظر یہ اک دیوار جیسی چشم تر کے روبرو کیا ہے میں اس کے سامنے اک آئینہ لے جا کے رکھ دوں گا ضیاؔ اپنی زباں سے کیوں کہوں اس سے کہ تو کیا ہے
tamaashaa-gaah hai yaa aalam-e-be-rang-o-bu kyaa hai
1 views
سب آگ ظاہری تھی دلوں میں لگی نہ تھی مجھ کو بھی کب جنوں تھا اگر وہ پری نہ تھی حسرت ملال درد تڑپ خواب آرزو اک کارواں تھا ساتھ مرے بس وہی نہ تھی وہ دشت انتشار میں ایسا غزال تھا نافہ سے جس کے مشک ابھی تک اڑی نہ تھی پھر یہ ہوا کہ دونوں جدا ہو گئے مگر اس کو بھی تھا ملال مجھے بھی خوشی نہ تھی سوچا تو ایک ابر کا ٹکڑا برس گیا دیکھا تو دور دور ہوا میں نمی نہ تھی دنیا تو دوستی پہ رضامند تھی ضیاؔ پر کیا کریں کہ خود سے مری دشمنی نہ تھی
sab aag zaahiri thi dilon mein lagi na thi
1 views
جانے کیسے میں سدا بے بال و پر اڑتا رہا دوستوں کے شہر میں مثل خبر اڑتا رہا عمر کی یہ تیز گامی اور پھر تیرا خیال ایک سایہ سا پس گرد سفر اڑتا رہا کیسے کیسے امتحاں تو نے لئے اے زندگی پھر بھی میں بازو شکستہ عمر بھر اڑتا رہا جانے کیا سمجھا کے اس کو لے گئی پاگل ہوا دیر تک پتہ شجر سے ٹوٹ کر اڑتا رہا پاؤں وحشت نے پکڑ رکھے تھے صحرا دیکھ کر اور تصور جانب دیوار و در اڑتا رہا اک پرندہ امن کا پالا تھا ہم نے پیار سے لاکھ کاٹے بال و پر تم نے مگر اڑتا رہا منتظر اس بار بھی آنکھیں رہیں اپنی ضیاؔ کوئی چہرہ بادلوں کے دوش پر اڑتا رہا
jaane kaise main sadaa be-baal-o-par uDtaa rahaa
1 views
جاتا ہے کہیں خون سے نسبت کا اثر بھی تلوار جو بولے گی تو لے جائے گی سر بھی پہلے تھا بہت فاصلہ بازار سے گھر کا اب ایک ہی کمرے میں ہے بازار بھی گھر بھی دیکھیں تو نظر آتی ہے صد رنگ یہ دنیا برتیں تو ہوئی جاتی ہے بے رنگ نظر بھی اس شہر میں اشکوں کا لکھا کون پڑھے گا جب خون اچھلتا ہے تو بنتی ہے خبر بھی یہ سوچ کے ہم نے کبھی جگنو نہیں پکڑے نکلے گا اندھیرے سے ابھی نور سحر بھی کیوں حق کی صدا آتی نہیں بانگ درا سے اے خواہش صد رنگ ذرا دیکھ ادھر بھی ہر شخص لیے گرد سفر گھوم رہا ہے اک کھیل سا لگتا ہے ضیاؔ اب تو سفر بھی
jaataa hai kahin khuun se nisbat kaa asar bhi
رہے دریائے سخن یوں ہی رواں میرے بعد بانجھ ہو جائے نہ غالب کی زباں میرے بعد کون دے گا انہیں خوشبو کا جہاں میرے بعد کس سے لپٹیں گے یہ نازک بدناں میرے بعد کو بہ کو پھرتی ہے اب چاروں طرف آوارہ بوئے گل کو نہ ملی جائے اماں میرے بعد لاکھ میں ننگ سخن ہوں پہ یقیں ہے مجھ کو لوگ ڈھونڈیں گے مرا طرز بیاں میرے بعد چھوڑ کر جاؤں گا میں گھر میں اجالے کا ثبوت کام آئے گا یہ طاقوں کا دھواں میرے بعد یار سب چل دئے بازار ہوس کی جانب ہو گئی راہ جنوں کم گزراں میرے بعد میں کہ خاتم بھی ہوں خود اپنی طبیعت کا ضیاؔ قط ہوا سلسلۂ آہ و فغاں میرے بعد
rahe dariyaa-e-sukhan yunhi ravaan mere baad





