SHAWORDS
Zia Zameer

Zia Zameer

Zia Zameer

Zia Zameer

poet
42Sher
42Shayari
6Ghazal

Sherشعر

See all 42

Popular Sher & Shayari

84 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ab to aate hain sabhi dil ko dukhaane vaale

اب تو آتے ہیں سبھی دل کو دکھانے والے جانے کس راہ گئے ناز اٹھانے والے عشق میں پہلے تو بیمار بنا دیتے ہیں پھر پلٹتے ہی نہیں روگ لگانے والے کیا گزرتی ہے کسی پر یہ کہاں سوچتے ہیں کتنے بے درد ہیں یہ روٹھ کے جانے والے کرب ان کا کہ جو فٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسر کیا سمجھ پائیں گے یہ راج گھرانے والے لاکھ تعویذ بنے لاکھ دعائیں بھی ہوئیں مگر آئے ہی نہیں جو نہ تھے آنے والے تو بھی ملتا ہے تو مطلب سے ہی اب ملتا ہے لگ گئے تجھ کو بھی سب روگ زمانے والے

غزل · Ghazal

tak rahaa hai tu aasmaan mein kyaa

تک رہا ہے تو آسمان میں کیا ہے ابھی تک کسی اڑان میں کیا وہ جو اک تجھ کو جاں سے پیارا تھا اب بھی آتا ہے تیرے دھیان میں کیا کیا نہیں ہوگی پھر مری تکمیل کوئی تجھ سا نہیں جہان میں کیا ہم تو تیری کہانی لکھ آئے تو نے لکھا ہے امتحان میں کیا ہو ہی جاتے ہیں جب جدا دونوں پھر تعلق ہے جسم و جان میں کیا ہم قفس میں ہیں اڑنے والے بتا ہے وہی لطف آسمان میں کیا پڑھ رہے ہو جو اتنی غور سے تم کچھ نیاپن ہے داستان میں کیا اردو والے کمال دکھتے ہیں کوئی جادو ہے اس زبان میں کیا

غزل · Ghazal

jis tarah pyaasaa koi aab-e-ravaan tak pahunche

جس طرح پیاسا کوئی آب رواں تک پہنچے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم اس کے مکاں تک پہنچے شرط اتنی تھی محبت میں بدن تک پہنچو ہم جنوں پیشہ مگر یار کی جاں تک پہنچے تیری چوکھٹ پہ پلٹ آئے ترے دیوانے بے اماں یعنی اسی جائے اماں تک پہنچے چل پڑے ہیں نئی تہذیب کے رستے ہم لوگ پانی کب دیکھیے خطرے کے نشاں تک پہنچے شب کی جاگی ہوئی آنکھوں کی تپش پوچھتے ہو خاک ہو جائے اگر خواب یہاں تک پہنچے خیر ہم تو وہیں ٹھہرے ہیں کہ بچھڑے تھے جہاں قافلے والو بتاؤ کہ کہاں تک پہنچے کاسۂ جسم اٹھا لائے ترے شہر کے لوگ اور یہ کہنے لگے خیمۂ جاں تک پہنچے عشق میں غیر یقینی نہیں ہوتا کچھ بھی بات کچھ بھی نہیں بس آپ گماں تک پہنچے

غزل · Ghazal

reza reza tire chehre pe bikharti hui shaam

ریزہ ریزہ ترے چہرے پہ بکھرتی ہوئی شام قطرہ قطرہ مری پلکوں پہ اترتی ہوئی شام لمحہ لمحہ مرے ہاتھوں سے سرکتا ہوا دن اور آسیب زدہ دل میں اترتی ہوئی شام صبح کا خواب مگر خواب عجب جاں لیوا میرے پہلو میں سسکتی ہوئی مرتی ہوئی شام ساتھ ساحل پہ گزرتے ہوئے دیکھی تھی کبھی یاد ہے اب بھی سمندر میں اترتی ہوئی شام میں بھی تنہا ہوں تو یہ شام بھی تنہا تنہا یعنی تنہائی میں کچھ اور نکھرتی ہوئی شام

غزل · Ghazal

bahut jumud hai taari koi khayaal zaraa

بہت جمود ہے طاری کوئی خیال ذرا نیا سا لفظ مری خاک پر اچھال ذرا وہ تو ہی ہے کہ میں بکھرا ہوں سامنے جس کے تو کم نصیب نہیں ہے مجھے سنبھال ذرا بچھڑتے وقت یہ خواہش کہاں تھی ناجائز اسے بھی ہوتا ہماری طرح ملال ذرا نہیں جو مانتا خود کو کہ بے مثال ہے تو تو اپنے جیسی دکھا دے کوئی مثال ذرا ہنسی میں ٹال دے پھر سے ہماری ہر خواہش پھر ایک بار تھپک دے ہمارا گال ذرا میں خود کو راکھ نہ کر دوں یہ ڈر ستاتا ہے حصار جسم سے باہر مجھے نکال ذرا

غزل · Ghazal

us ki khvaahish pe nae sher baraabar kahnaa

اس کی خواہش پہ نئے شعر برابر کہنا اور پھر سن کے انہیں اس کا مکرر کہنا خشک آنکھیں لئے ہنستا ہوا دیکھو جس کو اس کو صحرا نہیں کہہ دینا سمندر کہنا کیا عجب ہے کہ ہو بیٹے کی فقط ہار پہ ہار اور ماں کا اسے ہر بار سکندر کہنا یہ تو ہم ہیں بڑے دل والے جو کہہ دیتے ہیں ورنہ آسان نہیں اپنے سے بہتر کہنا پہلے ہم میرؔ کے قدموں کو ذرا چوم آئیں بعد میں یارو ہمیں کھل کے سخنور کہنا عشق کے ماروں کو کہنا نہیں دیکھو کچھ بھی اور اگر کہنا ہی چاہو تو قلندر کہنا

Similar Poets