"vo jaate jaate mujhe apne gham bhi saunp gaya ajiib Dhang nikala hai gham-gusari ka"

Aazim Kohli
Aazim Kohli
Aazim Kohli
Sherشعر
See all 21 →vo jaate jaate mujhe apne gham bhi saunp gaya
وہ جاتے جاتے مجھے اپنے غم بھی سونپ گیا عجیب ڈھنگ نکالا ہے غم گساری کا
mujhe ayyariyan sab aa ga.i hain
مجھے عیاریاں سب آ گئی ہیں میں اب تیرے نگر کا ہو گیا ہوں
main ji bhar ke roya to aram aaya
میں جی بھر کے رویا تو آرام آیا مرا غم ہی آخر مرے کام آیا
mohabbat karne vaale dard men tanha nahin hote
محبت کرنے والے درد میں تنہا نہیں ہوتے جو روٹھو گے کبھی مجھ سے تو اپنا دل دکھاؤ گے
ham lakiren kured kar dekhen
ہم لکیریں کرید کر دیکھیں رنگ لائے گا کیا یہ سال نیا
zindagi sundar ghazal hai dosto
زندگی سندر غزل ہے دوستو زندگی کو گنگنانا چاہئے
Popular Sher & Shayari
42 total"mujhe ayyariyan sab aa ga.i hain main ab tere nagar ka ho gaya huun"
"main ji bhar ke roya to aram aaya mira gham hi akhir mire kaam aaya"
"mohabbat karne vaale dard men tanha nahin hote jo ruThoge kabhi mujh se to apna dil dukhaoge"
"ham lakiren kured kar dekhen rang la.ega kya ye saal naya"
"zindagi sundar ghazal hai dosto zindagi ko gungunana chahiye"
zindagi sundar ghazal hai dosto
zindagi ko gungunaanaa chaahiye
dekhnaa kaise pighalte jaaoge
jab miri aaghosh mein tum aaoge
jo huaa jaisaa huaa achchhaa huaa
jab jahaan jo ho gayaa achchhaa huaa
aadmi ko chaahiye taufiq chalne ki faqat
kuchh nahin to guzre vaqton kaa dhuaan le kar chale
kaun baandhegaa miri bikhri hui ummid ko
khul rahaa hai ab to har halqa miri zanjir kaa
mohabbat karne vaale dard mein tanhaa nahin hote
jo ruThoge kabhi mujh se to apnaa dil dukhaaoge
Ghazalغزل
jo huaa jaisaa huaa achchhaa huaa
جو ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا جب جہاں جو ہو گیا اچھا ہوا دکھ پہ میرے رو رہا تھا جو بہت جاتے جاتے کہہ گیا اچھا ہوا بات تھی پردے کی پردے میں رہی ٹل گیا اک حادثہ اچھا ہوا میری بگڑی داستاں میں دوستو ذکر ان کا جب ہوا اچھا ہوا اٹھتے اٹھتے ان کی نظریں جھک گئیں تم پہ عازمؔ تبصرہ اچھا ہوا
jab kabhi tum meri jaanib aaoge
جب کبھی تم میری جانب آؤ گے مجھ کو اپنا منتظر ہی پاؤ گے دیکھنا کیسے پگھلتے جاؤ گے جب مری آغوش میں تم آؤ گے گیسوئے پیچاں میں مجھ کو باندھ کر تم بھی اب بچ کر کہاں تک جاؤ گے حشر کے دن کی تو چھوڑو حشر پر عمر بھر یہ خوف کیوں کر کھاؤ گے وقت عازمؔ جا کے پھر آتا نہیں وقت کو واپس کہاں سے لاؤ گے
ik ishq hai ki jis ki gali jaa rahaa huun main
اک عشق ہے کہ جس کی گلی جا رہا ہوں میں اور دل کی دھڑکنوں سے بھی گھبرا رہا ہوں میں کر دے گا وہ معاف مرے ہر گناہ کو یہ سوچ کر گناہ کئے جا رہا ہوں میں چھوڑا کہیں کا مجھ کو نہ دنیا کے درد نے پھر بھی ترا کرم کہ جئے جا رہا ہوں میں راہ وفا میں مٹ گئے جب فاصلے سبھی پھر کیوں نگاہ یار سے شرما رہا ہوں میں پھر ہو رہی ہیں پیار کی سب حسرتیں جواں پھر دل اسی کی یاد سے بہلا رہا ہوں میں اک دن چکا ہی دوں گا زمانے کا بھی حساب کچھ بات ہے جو ضبط کئے جا رہا ہوں میں الفت کی راہ پر تجھے مل جائے گا خدا اس بے قرار دل کو یہ سمجھا رہا ہوں میں وہ شوخ اک نگاہ میں سب صاف کہہ گیا مدت سے جس کو کہنے سے کترا رہا ہوں میں عازمؔ یقیں نہیں اسے کیوں میری بات پر کیا کم ہے یہ کہ اس کی قسم کھا رہا ہوں میں
kidhar kaa thaa kidhar kaa ho gayaa huun
کدھر کا تھا کدھر کا ہو گیا ہوں مسافر کس سفر کا ہو گیا ہوں خدا اس کو سدا پر نور رکھے میں تارا جس نظر کا ہو گیا ہوں دھرے جائیں گے سب الزام مجھ پر میں حصہ ہر خبر کا ہو گیا ہوں مجھے عیاریاں سب آ گئی ہیں میں اب تیرے نگر کا ہو گیا ہوں تری نظروں کے اک فرمان ہی سے میں قیدی عمر بھر کا ہو گیا ہوں مجھے اب عشق مٹی سے نہیں ہے میں عاشق مال و زر کا ہو گیا ہوں روایت چھوڑ بیٹھا ہوں میں اپنی میں دشمن اپنے گھر کا ہو گیا ہوں وہ جس کو شاعری کہتے ہیں عازمؔ میں گھائل اس ہنر کا ہو گیا ہوں
jo hogaa sab Thiik hi hogaa hone do jo honaa hai
جو ہوگا سب ٹھیک ہی ہوگا ہونے دو جو ہونا ہے منہ دیکھے کی باتیں ہیں سب کس نے کس کو رونا ہے دل کس سے دکھ بانٹے اپنا کس سے اپنی بات کہے دل ہی ہے اک جس نے یارو درد مکمل ڈھونا ہے ہم بھی مٹی تم بھی مٹی پتلے ہیں سب مٹی کے اول مٹی آخر مٹی مٹی ہی میں سونا ہے مل کر بیٹھیں نفرت چھوڑیں پیار وفا کی بات کریں باغ وفا میں ہم نے یارو بیج الفت کا بونا ہے ایسا کام کریں کیوں عازمؔ جس کو کر کے پچھتائیں پہلے داغ لگائیں کیوں ہم جب اشکوں سے دھونا ہے
khayaal-e-yaar kaa jalva yahaan bhi thaa vahaan bhi thaa
خیال یار کا جلوہ یہاں بھی تھا وہاں بھی تھا زمیں پر پاؤں تھے میرے نظر میں آسماں بھی تھا دیے روشن تھے ہر جانب اندھیرا تھا مگر دل میں بہت تنہا تھا میں لیکن شریک کارواں بھی تھا چنے تنکے بہت میں نے بنایا آشیاں اپنا ازل سے اک مسافر ہوں مجھے اس کا گماں بھی تھا ادھر جانا بھی تھا لازم ادھر مجبور تھی سوہنی گھڑا کچا تھا ہاتھوں میں ادھر دریا جواں بھی تھا سبھی شامل تھے یارو یوں تو گلشن کی تباہی میں اب اتنا صاف کیا کہئے کہ ان میں باغباں بھی تھا مرے ہر زخم پر اک داستاں تھی اس کے ظلموں کی مرے خوں بار دل پر اس کے ہاتھوں کا نشاں بھی تھا مکرتا تھا وہ اپنے تیر سے تو اک طرف عازمؔ ادھر تھامے ہوئے اک ہاتھ میں ظالم کماں بھی تھا





