SHAWORDS
Aazim Kohli

Aazim Kohli

Aazim Kohli

Aazim Kohli

poet
21Sher
21Shayari
19Ghazal

Sherشعر

See all 21

Popular Sher & Shayari

42 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

jo huaa jaisaa huaa achchhaa huaa

جو ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا جب جہاں جو ہو گیا اچھا ہوا دکھ پہ میرے رو رہا تھا جو بہت جاتے جاتے کہہ گیا اچھا ہوا بات تھی پردے کی پردے میں رہی ٹل گیا اک حادثہ اچھا ہوا میری بگڑی داستاں میں دوستو ذکر ان کا جب ہوا اچھا ہوا اٹھتے اٹھتے ان کی نظریں جھک گئیں تم پہ عازمؔ تبصرہ اچھا ہوا

غزل · Ghazal

jab kabhi tum meri jaanib aaoge

جب کبھی تم میری جانب آؤ گے مجھ کو اپنا منتظر ہی پاؤ گے دیکھنا کیسے پگھلتے جاؤ گے جب مری آغوش میں تم آؤ گے گیسوئے پیچاں میں مجھ کو باندھ کر تم بھی اب بچ کر کہاں تک جاؤ گے حشر کے دن کی تو چھوڑو حشر پر عمر بھر یہ خوف کیوں کر کھاؤ گے وقت عازمؔ جا کے پھر آتا نہیں وقت کو واپس کہاں سے لاؤ گے

غزل · Ghazal

ik ishq hai ki jis ki gali jaa rahaa huun main

اک عشق ہے کہ جس کی گلی جا رہا ہوں میں اور دل کی دھڑکنوں سے بھی گھبرا رہا ہوں میں کر دے گا وہ معاف مرے ہر گناہ کو یہ سوچ کر گناہ کئے جا رہا ہوں میں چھوڑا کہیں کا مجھ کو نہ دنیا کے درد نے پھر بھی ترا کرم کہ جئے جا رہا ہوں میں راہ وفا میں مٹ گئے جب فاصلے سبھی پھر کیوں نگاہ یار سے شرما رہا ہوں میں پھر ہو رہی ہیں پیار کی سب حسرتیں جواں پھر دل اسی کی یاد سے بہلا رہا ہوں میں اک دن چکا ہی دوں گا زمانے کا بھی حساب کچھ بات ہے جو ضبط کئے جا رہا ہوں میں الفت کی راہ پر تجھے مل جائے گا خدا اس بے قرار دل کو یہ سمجھا رہا ہوں میں وہ شوخ اک نگاہ میں سب صاف کہہ گیا مدت سے جس کو کہنے سے کترا رہا ہوں میں عازمؔ یقیں نہیں اسے کیوں میری بات پر کیا کم ہے یہ کہ اس کی قسم کھا رہا ہوں میں

غزل · Ghazal

kidhar kaa thaa kidhar kaa ho gayaa huun

کدھر کا تھا کدھر کا ہو گیا ہوں مسافر کس سفر کا ہو گیا ہوں خدا اس کو سدا پر نور رکھے میں تارا جس نظر کا ہو گیا ہوں دھرے جائیں گے سب الزام مجھ پر میں حصہ ہر خبر کا ہو گیا ہوں مجھے عیاریاں سب آ گئی ہیں میں اب تیرے نگر کا ہو گیا ہوں تری نظروں کے اک فرمان ہی سے میں قیدی عمر بھر کا ہو گیا ہوں مجھے اب عشق مٹی سے نہیں ہے میں عاشق مال و زر کا ہو گیا ہوں روایت چھوڑ بیٹھا ہوں میں اپنی میں دشمن اپنے گھر کا ہو گیا ہوں وہ جس کو شاعری کہتے ہیں عازمؔ میں گھائل اس ہنر کا ہو گیا ہوں

غزل · Ghazal

jo hogaa sab Thiik hi hogaa hone do jo honaa hai

جو ہوگا سب ٹھیک ہی ہوگا ہونے دو جو ہونا ہے منہ دیکھے کی باتیں ہیں سب کس نے کس کو رونا ہے دل کس سے دکھ بانٹے اپنا کس سے اپنی بات کہے دل ہی ہے اک جس نے یارو درد مکمل ڈھونا ہے ہم بھی مٹی تم بھی مٹی پتلے ہیں سب مٹی کے اول مٹی آخر مٹی مٹی ہی میں سونا ہے مل کر بیٹھیں نفرت چھوڑیں پیار وفا کی بات کریں باغ وفا میں ہم نے یارو بیج الفت کا بونا ہے ایسا کام کریں کیوں عازمؔ جس کو کر کے پچھتائیں پہلے داغ لگائیں کیوں ہم جب اشکوں سے دھونا ہے

غزل · Ghazal

khayaal-e-yaar kaa jalva yahaan bhi thaa vahaan bhi thaa

خیال یار کا جلوہ یہاں بھی تھا وہاں بھی تھا زمیں پر پاؤں تھے میرے نظر میں آسماں بھی تھا دیے روشن تھے ہر جانب اندھیرا تھا مگر دل میں بہت تنہا تھا میں لیکن شریک کارواں بھی تھا چنے تنکے بہت میں نے بنایا آشیاں اپنا ازل سے اک مسافر ہوں مجھے اس کا گماں بھی تھا ادھر جانا بھی تھا لازم ادھر مجبور تھی سوہنی گھڑا کچا تھا ہاتھوں میں ادھر دریا جواں بھی تھا سبھی شامل تھے یارو یوں تو گلشن کی تباہی میں اب اتنا صاف کیا کہئے کہ ان میں باغباں بھی تھا مرے ہر زخم پر اک داستاں تھی اس کے ظلموں کی مرے خوں بار دل پر اس کے ہاتھوں کا نشاں بھی تھا مکرتا تھا وہ اپنے تیر سے تو اک طرف عازمؔ ادھر تھامے ہوئے اک ہاتھ میں ظالم کماں بھی تھا

Similar Poets