SHAWORDS
Abdul Majeed Salik

Abdul Majeed Salik

Abdul Majeed Salik

Abdul Majeed Salik

poet
9Sher
9Shayari
8Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

na mohtasib ki na hur-o-jinaan ki baat karo

نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرو مئے کہن کی نگار جواں کی بات کرو کسی کی تابش‌ رخسار کا کہو قصہ کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو ضیا ہے شاہد و شمع و شراب سے اس کی فروغ محفل روحانیاں کی بات کرو جو مدعا ہو کسی قبلۂ مراد کا ذکر تو آستانۂ پیر مغاں کی بات کرو نہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال قمر کی بات کرو کہکشاں کی بات کرو رہے گا مشغلۂ یاد رفتگاں کب تک گزر رہا ہے جو اس کارواں کی بات کرو یہ قید و صید کے اندیشہ ہائے بے جا کیا چمن کی فکر کرو آشیاں کی بات کرو یہی جہان ہے ہنگامہ زار سود و زیاں اسی کے سود اسی کے زیاں کی بات کرو اب اس چمن میں نہ صیاد ہے نہ گلچیں ہے کرو تو اب ستم باغباں کی بات کرو خدا کے ذکر کا موقعہ نہیں یہاں سالکؔ دیار ہند میں حسن بتاں کی بات کرو

غزل · Ghazal

ham-nafaso ujaD gaiin mehr-o-vafaa ki bastiyaan

ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاں پوچھ رہے ہیں اہل مہر و وفا کو کیا ہوا عشق ہے بے گذار کیوں حسن ہے بے نیاز کیوں میری وفا کہاں گئی ان کی جفا کو کیا ہوا یہ تو بجا کہ اب وہ کیف جام شراب میں نہیں ساقی مے کے غمزۂ ہوش ربا کو کیا ہوا اب نہیں جنت مشام کوچہ یار کی شمیم نکہت زلف کیا ہوئی باد صبا کو کیا ہوا تھم گیا دورۂ حیات رک گئی نبض کائنات عشق و جنوں کی گرمئ ہمہمہ زا کو کیا ہوا دشت جنوں میں ہو گئی منزل یار بے سراغ قافلہ کس طرف گیا بانگ درا کو کیا ہوا نالۂ شب ہے نارسا آہ سحر ہے بے اثر میرا خدا کہاں گیا میرے خدا کو کیا ہوا

غزل · Ghazal

khirad mein mubtalaa hai 'saalik' divaana barson se

خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سے نہیں آیا وہ مے خانے میں بیباکانہ برسوں سے میسر جس سے آ جاتی تھی ساقی کی قدم بوسی مقدر میں نہیں وہ لغزش مستانہ برسوں سے بیاد چشم یار اک نعرۂ مستانہ اے ساقی کہ ہاؤ ہو سے خالی ہے ترا مے خانہ برسوں سے تجھے کچھ عشق و الفت کے سوا بھی یاد ہے اے دل سنائے جا رہا ہے ایک ہی افسانہ برسوں سے کسی کو تو مشرف کر دے اے ذوق جبیں سائی تقاضا کر رہے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے نئی شمعیں جلاؤ عاشقی کی انجمن والو کہ سونا ہے شبستان دل پروانہ برسوں سے کوئی جوہر شناس آئے تو جانے قدر سالکؔ کی پڑا ہے خاک پر یہ گوہر یک دانہ برسوں سے

غزل · Ghazal

charaagh-e-zindagi hogaa farozaan ham nahin honge

چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے چمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے جوانو اب تمہارے ہاتھ میں تقدیر عالم ہے تمہیں ہوگے فروغ بزم امکاں ہم نہیں ہوں گے جئیں گے جو وہ دیکھیں گے بہاریں زلف جاناں کی سنوارے جائیں گے گیسوئے دوراں ہم نہیں ہوں گے ہمارے ڈوبنے کے بعد ابھریں گے نئے تارے جبین دہر پر چھٹکے گی افشاں ہم نہیں ہوں گے نہ تھا اپنی ہی قسمت میں طلوع مہر کا جلوہ سحر ہو جائے گی شام غریباں ہم نہیں ہوں گے اگر ماضی منور تھا کبھی تو ہم نہ تھے حاضر جو مستقبل کبھی ہوگا درخشاں ہم نہیں ہوں گے ہمارے دور میں ڈالیں خرد نے الجھنیں لاکھوں جنوں کی مشکلیں جب ہوں گی آساں ہم نہیں ہوں گے کہیں ہم کو دکھا دو اک کرن ہی ٹمٹماتی سی کہ جس دن جگمگائے گا شبستاں ہم نہیں ہوں گے ہمارے بعد ہی خون شہیداں رنگ لائے گا یہی سرخی بنے گی زیب عنواں ہم نہیں ہوں گے

غزل · Ghazal

mire dil mein hai ki puchhun kabhi murshid-e-mughaan se

مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سے کہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سے وہ یہ کہہ رہے ہیں ہم کو ترے حال کی خبر کیا تو اٹھا سکا نگاہیں نہ بتا سکا زباں سے جو انہیں وفا کی سوجھی تو نہ زیست نے وفا کی ابھی آ کے وہ نہ بیٹھے کہ ہم اٹھ گئے جہاں سے میں عدم کے لالہ زاروں میں نواگر ازل تھا مجھے کھینچ لائی ظالم تری آرزو کہاں سے مری سر نوشت میں تھا وہی داغ نامرادی جو ملا مری جبیں کو ترے سنگ آستاں سے بچے بجلیوں کی زد سے وہی طائران دانا جو کڑک چمک سے پہلے نکل آئے آشیاں سے یہ ہے ماجرائے وحشت کہ ملا سراغ محمل نہ غبار کارواں سے نہ درائے کارواں سے نہیں کچھ سمجھ میں آتا یہ عجیب ماجرا ہے کہ زمیں کے رہنے والوں کو ہدایت آسماں سے شب غم جو آئی سالکؔ مٹے باطنی اندھیرے مرا دل ہوا منور تب و تاب جاوداں سے

غزل · Ghazal

jo musht-e-khaak ho us khaak-daan ki baat karo

جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو زمیں پہ رہ کے نہ تم آسماں کی بات کرو کسی کی تابش‌ رخسار کا کہو قصہ کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو نہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال قمر کا ذکر کرو کہکشاں کی بات کرو رہے گا مشغلۂ یاد رفتگاں کب تک گزر رہا ہے جو اس کارواں کی بات کرو یہی جہان ہے ہنگامہ زار سود و زیاں یہیں کے سود یہیں کے زیاں کی بات کرو اب اس چمن میں نہ صیاد ہے نہ ہے گلچیں کرو تو اب ستم باغباں کی بات کرو

Similar Poets