SHAWORDS
Abdullah Kamal

Abdullah Kamal

Abdullah Kamal

Abdullah Kamal

poet
9Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

9 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

اپنے ہونے کا اک اک پل تجربہ کرتے رہے نوک نیزہ پر بھی ہم رقص انا کرتے رہے اک مسلسل جنگ تھی خود سے کہ ہم زندہ ہیں آج زندگی ہم تیرا حق یوں بھی ادا کرتے رہے ہاتھ میں پتھر نہ تھا چہرے پہ وحشت بھی نہ تھی پھر وہ کیا تھا جس پہ ہم یوں قہقہہ کرتے رہے کچھ نہ کچھ تو پیش منظر میں بھی شاید تھا کہیں کچھ پس منظر بھی ہم آب و ہوا کرتے رہے بے طلب بڑھتا رہا ہر لمحہ قرض جاں کا بوجھ بے سبب ہی ہر نفس خود کو ادا کرتے رہے دور تک پھیلا دیے کہسار جنگل وادیاں رزق آنکھوں کو دیا ہر پل نیا کرتے رہے تم تو اے خوشبو ہواؤ اس سے مل کر آ گئیں ایک ہم تھے زخم تنہائی ہرا کرتے رہے زہر خود بوتے رہے اجلی ہواؤں میں کمالؔ چند سانسوں کو بھی ہم بے ذائقہ کرتے رہے

apne hone kaa ik ik pal tajraba karte rahe

41 views

غزل · Ghazal

اتنا یقین رکھ کہ گماں باقی رہے ایک ذرا کار جہاں باقی رہے باقی رہے یادوں کی اک قوس قزح یعنی مری جائے اماں باقی رہے شورش خوں رقص جنوں ختم نہ ہو قہقہہ ہم نفساں باقی رہے آتا رہے یوں ہی سدا موسم گل سلسلۂ دل زدگاں باقی رہے قافلۂ غم گزراں کی بھی سنا حوصلۂ ہم سفراں باقی رہے قید قفس شور نفس کس کے لیے کس کے لیے رشتۂ جاں باقی رہے آنکھوں سے چھن جائیں اک اک خواب مگر اس کی طلب دل کا دھواں باقی رہے

itnaa yaqin rakh ki gumaan baaqi rahe

41 views

غزل · Ghazal

لفظوں میں اک نئے سفر کا کرتا ہے آغاز بدن نقطہ نقطہ پھیل کے مجھ کو دیتا ہے آواز بدن ہر پل ٹوٹ بکھرنا خدشہ ٹھیس لگے تو کانپ اٹھتا ہے شیشہ شیشہ روپ لیے ہے پتھر کا دم ساز بدن اڑتا بادل ڈھلتی چھایا اک اک پل میں سو سو کایا اڑتے روز و شب سے آگے کرتا ہے پرواز بدن انجانی ان دیکھی صدائیں اکثر دستک دے جاتی ہیں مجھ کو برہنہ کر دیتا ہے اکثر یہ غماز بدن کتنے حاتم بھٹکے برسوں لوح طلسم راز لیے پھر بھی اک اسرار کا صحرا پھر بھی ہے اک راز بدن اک اک تار نفس سے اب تک لپٹی ہے اس لمس کی خوشبو اک دن شاید ٹکرایا تھا مجھ سے کوئی شہناز بدن

lafzon mein ik nae safar kaa kartaa hai aaghaaz badan

41 views

غزل · Ghazal

اس کی جام جم آنکھیں شیشۂ بدن میرا اس کی بند مٹھی میں سارا بانکپن میرا میں نے اپنے چہرے پر سب ہنر سجائے تھے فاش کر گیا مجھ کو سادہ پیرہن میرا دل بھی کھو گیا شاید شہر کے سرابوں میں اب مری طرح سے ہے درد بے وطن میرا ایک دشت خاموشی اب مرا مقدر ہے یاد بے صدا تیری زخم بے چمن میرا آؤ آج ہم دونوں اپنا اپنا گھر چن لیں تم نواح دل لے لو خطۂ بدن میرا روز اپنے خوابوں کا خون کرتا رہتا ہوں ہائے کن غنیموں سے آ پڑا ہے رن میرا گاؤں کی ہواؤں نے پھر سندیسہ بھیجا ہے منتظر تمہارا ہے خوشبوؤں کا بن میرا

us ki jaam-e-jam aankhein shisha-e-badan meraa

41 views

غزل · Ghazal

خوش شناسی کا صلہ کرب کا صحرا ہوں میں کون پہچانے کہ اک دشت تمنا ہوں میں سرد پانی کی زباں چاٹتی رہتی ہے مجھے کہر میں ڈوبا ہوا کوئی جزیرہ ہوں میں اپنی ویران سی آنکھوں کو سجا لو مجھ سے پھر نہ ہاتھ آؤں گا اڑتا ہوں سپنا ہوں میں بھول جاؤ گے مجھے تم بھی سحر ہونے تک آخر شب کا کوئی ٹوٹتا لمحہ ہوں میں ٹوٹا پھوٹا ہی سہی پھر بھی کشش رکھتا ہوں مجھ سے محظوظ تو ہو لو کہ کھلونا ہوں میں ایک دشنام ہے یہ طرز تعارف مجھ کو یارو اس شہر کا دیرینہ شناسا ہوں میں

khush-shanaasi kaa sila karb kaa sahraa huun main

41 views

غزل · Ghazal

سلگ رہا ہے کوئی شخص کیوں عبث مجھ میں بجھے گا کیسے ابھی شعلۂ نفس مجھ میں عجیب درد سا جاگا ہے بائیں پسلی میں عجب شرار‌ طلب سا ہے پیش و پس مجھ میں میں شاخ شاخ سے لپٹوں شجر شجر چوموں پنپ رہی ہے عجب لذت ہوس مجھ میں نہ کوئی نقش یقیں ہے نہ کوئی عکس گماں دھواں دھواں ہے ابھی سے نیا برس مجھ میں نہ زیست کی کوئی ہلچل نہ موت ہی کی فغاں ہے کہر کہر سا اک شہر بے حرس مجھ میں بس اک پرندہ سا پر پھڑپھڑا کے چیختا ہے بہت اداس ہے اب موسم قفس مجھ میں کبھی تو گزرے ادھر سے بھی تند موج ہوا ہیں جمع کتنے ہی موسم کے خار و خس مجھ میں

sulag rahaa hai koi shakhs kyuun abas mujh mein

41 views

Similar Poets