"takmil-e-arzu se bhi hota hai gham kabhi aisi dua na maang jise bad-dua kahen"

Abu Mohammad Sahar
Abu Mohammad Sahar
Abu Mohammad Sahar
Sherشعر
See all 15 →takmil-e-arzu se bhi hota hai gham kabhi
تکمیل آرزو سے بھی ہوتا ہے غم کبھی ایسی دعا نہ مانگ جسے بد دعا کہیں
hindu se puchhiye na musalman se puchhiye
ہندو سے پوچھیے نہ مسلماں سے پوچھیے انسانیت کا غم کسی انساں سے پوچھیے
ishq ke mazmun the jin men vo risale kya hue
عشق کے مضموں تھے جن میں وہ رسالے کیا ہوئے اے کتاب زندگی تیرے حوالے کیا ہوئے
marzi khuda ki kya hai koi janta nahin
مرضی خدا کی کیا ہے کوئی جانتا نہیں کیا چاہتی ہے خلق خدا ہم سے پوچھیے
barq se khelne tufan pe hansne vaale
برق سے کھیلنے طوفان پہ ہنسنے والے ایسے ڈوبے ترے غم میں کہ ابھر بھی نہ سکے
ishq ko husn ke atvar se kya nisbat hai
عشق کو حسن کے اطوار سے کیا نسبت ہے وہ ہمیں بھول گئے ہم تو انہیں یاد کریں
Popular Sher & Shayari
30 total"hindu se puchhiye na musalman se puchhiye insaniyat ka gham kisi insan se puchhiye"
"ishq ke mazmun the jin men vo risale kya hue ai kitab-e-zindagi tere havale kya hue"
"marzi khuda ki kya hai koi janta nahin kya chahti hai khalq-e-khuda ham se puchhiye"
"barq se khelne tufan pe hansne vaale aise Duube tire gham men ki ubhar bhi na sake"
"ishq ko husn ke atvar se kya nisbat hai vo hamen bhuul ga.e ham to unhen yaad karen"
takmil-e-aarzu se bhi hotaa hai gham kabhi
aisi duaa na maang jise bad-duaa kahein
hindu se puchhiye na musalmaan se puchhiye
insaaniyat kaa gham kisi insaan se puchhiye
ishq ke mazmun the jin mein vo risaale kyaa hue
ai kitaab-e-zindagi tere havaale kyaa hue
'sahar' ab hogaa meraa zikr bhi raushan-dimaaghon mein
mohabbat naam ki ik rasm-e-bejaa chhoD di main ne
hamein tanhaaiyon mein yuun to kyaa kyaa yaad aataa hai
magar sach puchhiye to ek chehraa yaad aataa hai
phir khule ibtidaa-e-ishq ke baab
us ne phir muskuraa ke dekh liyaa
Ghazalغزل
har khauf har khatar se guzarnaa bhi sikhiye
ہر خوف ہر خطر سے گزرنا بھی سیکھئے جینا ہے گر عزیز تو مرنا بھی سیکھئے یہ کیا کہ ڈوب کر ہی ملے ساحل نجات سیلاب خوں سے پار اترنا بھی سیکھئے ایسا نہ ہو کہ خواب ہی رہ جائے زندگی جو دل میں ٹھانئے اسے کرنا بھی سیکھئے بگڑے بہت کشاکش ناز و نیاز میں اب اس کی انجمن میں سنورنا بھی سیکھئے ہوتا ہے پستیوں کے مقدر میں بھی عروج اک موج تہ نشیں کا ابھرنا بھی سیکھئے اوروں کی سرد مہری کا شکوہ بجا سحرؔ خود اپنے دل کو پیار سے بھرنا بھی سیکھئے
khvaabon kaa nashsha hai na tamannaa kaa silsila
خوابوں کا نشہ ہے نہ تمنا کا سلسلہ اب رہ گیا ہے بس غم دنیا کا سلسلہ آباد دور دور ہیں ویراں سے کچھ مقام یہ بستیاں ہیں یا کوئی صحرا کا سلسلہ گردش میں جان و دل ہوں تو کیوں کر ملے سکوں یارو نہیں یہ ساغر و مینا کا سلسلہ دو ہی قدم چلے تھے کسی کی تلاش میں پھر مل سکا نہ نقش کف پا کا سلسلہ انساں کو سلسلوں سے ملے گی نجات کیا دنیا کے بعد ہے ابھی عقبیٰ کا سلسلہ اپنے وجود سے بھی گلے پر ہوا تمام اتنا بڑھا شکایت بے جا کا سلسلہ اک شہر تشنہ کام میں جیتے ہیں یوں سحرؔ آتا ہے روز خواب میں دریا کا سلسلہ
kho ke dekhaa thaa paa ke dekh liyaa
کھو کے دیکھا تھا پا کے دیکھ لیا ہر طرح دل دکھا کے دیکھ لیا پھر کھلے ابتدائے عشق کے باب اس نے پھر مسکرا کے دیکھ لیا یاد کچھ بھی رہا نہ اس کے سوا ہم نے اس کو بھلا کے دیکھ لیا زندگی نے خوشی کے دھوکے میں ربط غم سے بڑھا کے دیکھ لیا ایسے بچھڑے کہ پھر ملے نہ کبھی خوب دامن چھڑا کے دیکھ لیا خواب مبہم خیال بے معنی رنج دوری اٹھا کے دیکھ لیا کتنے بیتے دنوں کا غم تھا سحرؔ آج جس نے رلا کے دیکھ لیا
ishq ki sai-e-bad-anjaam se Dar bhi na sake
عشق کی سعی بد انجام سے ڈر بھی نہ سکے ہم تری چشم عنایت سے اتر بھی نہ سکے تو نہ ملتا مگر اللہ رے محرومی شوق جینے والے تری امید میں مر بھی نہ سکے برق سے کھیلنے طوفان پہ ہنسنے والے ایسے ڈوبے ترے غم میں کہ ابھر بھی نہ سکے حسن خود حسن مجسم سے پشیماں اٹھا آئینہ لے کے وہ بیٹھے تو سنور بھی نہ سکے تشنہ لب بیٹھے ہیں مے خانۂ ہستی میں سحرؔ دل وہ ٹوٹا ہوا پیمانہ کہ بھر بھی نہ سکے
ab tak ilaaj-e-ranjish-e-be-jaa na kar sake
اب تک علاج رنجش بے جا نہ کر سکے اک عمر میں بھی حسن کو اپنا نہ کر سکے تھی ایک رسم عشق سو ہم نے بھی کی ادا دنیا میں کوئی کام انوکھا نہ کر سکے کل رات دل کے ساتھ بجھے اس طرح چراغ یادوں کے سلسلے بھی اجالا نہ کر سکے اب اس سے کیا غرض ہے کہ انجام کیا ہوا یہ تو نہیں کہ تیری تمنا نہ کر سکے خود عشق ہی کو دے گئے رسوائیوں کے داغ وہ راز حسن ہم جنہیں افشا نہ کر سکے ذوق جنوں کو راس نہیں تنگ بستیاں صحرا نہ ہو تو کیا کوئی دیوانہ کر سکے ہر امتیاز اس کے لیے ہیچ ہے سحرؔ جو اپنی زندگی کو تماشا نہ کر سکے
ye to nahin ki baadiya-paimaa na aaegaa
یہ تو نہیں کہ بادیہ پیما نہ آئے گا اے دشت آرزو کوئی ہم سا نہ آئے گا چلنا نصیب زیست ہے یوں ہی چلے چلو اس راستے میں شہر تمنا نہ آئے گا راہ وفا میں قطرۂ شبنم بھی ہے بہت جس سے بجھے گی پیاس وہ دریا نہ آئے گا خود ہو سکے تو اپنے اندھیرے اجال لو اب کوئی صاحب ید بیضا نہ آئے گا اے اہل دل خموش کہ یہ جائے صبر ہے دکھ تو یوںہی رہیں گے مسیحا نہ آئے گا گاہے وفور شوق تو گاہے ہجوم یاس سب کچھ تو آئے گا ہمیں جینا نہ آئے گا بیٹھے رہیں سحرؔ یوںہی دیوار و در لیے اپنا جسے کہیں کوئی ایسا نہ آئے گا





