"teri nisbat mili mujhe jab se main koi aarzu nahin karta"

Afzal Allahabadi
Afzal Allahabadi
Afzal Allahabadi
Sherشعر
See all 15 →teri nisbat mili mujhe jab se
تیری نسبت ملی مجھے جب سے میں کوئی آرزو نہیں کرتا
men iztirab ke aalam men raqs karta raha
میں اضطراب کے عالم میں رقص کرتا رہا کبھی غبار کی صورت کبھی دھواں بن کر
vo jis ne dekha nahin ishq ka kabhi maktab
وہ جس نے دیکھا نہیں عشق کا کبھی مکتب میں اس کے ہاتھ میں دل کی کتاب کیا دیتا
vo jis ki raah men main ne diye jala.e the
وہ جس کی راہ میں میں نے دیئے جلائے تھے گیا وہ شخص مجھے چھوڑ کر اندھیرے میں
yuun ilaj-e-dil bimar kiya ja.ega
یوں علاج دل بیمار کیا جائے گا شربت دید سے سرشار کیا جائے گا
abhi to us ka koi tazkira hua bhi nahin
ابھی تو اس کا کوئی تذکرہ ہوا بھی نہیں ابھی سے بزم میں خوشبو کا رقص جاری ہے
Popular Sher & Shayari
30 total"men iztirab ke aalam men raqs karta raha kabhi ghubar ki surat kabhi dhuan ban kar"
"vo jis ne dekha nahin ishq ka kabhi maktab main us ke haath men dil ki kitab kya deta"
"vo jis ki raah men main ne diye jala.e the gaya vo shakhs mujhe chhoD kar andhere men"
"yuun ilaj-e-dil bimar kiya ja.ega sharbat-e-did se sarshar kiya ja.ega"
"abhi to us ka koi tazkira hua bhi nahin abhi se bazm men khushbu ka raqs jaari hai"
abhi to us kaa koi tazkira huaa bhi nahin
abhi se bazm mein khushbu kaa raqs jaari hai
teri nisbat mili mujhe jab se
main koi aarzu nahin kartaa
mein iztiraab ke aalam mein raqs kartaa rahaa
kabhi ghubaar ki surat kabhi dhuaan ban kar
ab to har ek adaakaar se Dar lagtaa hai
mujh ko dushman se nahin yaar se Dar lagtaa hai
vo jis ne dekhaa nahin ishq kaa kabhi maktab
main us ke haath mein dil ki kitaab kyaa detaa
main chaahtaa thaa ki us ko gulaab pesh karun
vo khud gulaab thaa us ko gulaab kyaa detaa
Ghazalغزل
miri divaangi ki had na puchho tum kahaan tak hai
مری دیوانگی کی حد نہ پوچھو تم کہاں تک ہے زمیں پر ہوں مگر میری رسائی لا مکاں تک ہے ترا جلوہ تو ایسے عام ہے سارے زمانے میں وہیں تک دیکھ سکتا ہے نظر جس کی جہاں تک ہے کسی کو کیا خبر احساس ہے لیکن مرے دل کو کہ اس کے پیار کی برسات میرے دشت جاں تک ہے ذرا برق ستم سے پوچھ لیتا کاش کوئی یہ ترے قہر و غضب کا سلسلہ آخر کہاں تک ہے ہمیں چبھتے ہیں کیوں کانٹوں کی صورت آنکھ میں تیری فسادی کا نشانہ کیوں ہمارے ہی مکاں تک ہے توجہ خاک کے ذروں کی جانب کیوں کریں افضلؔ نظر اپنی مہ و پروین تک ہے کہکشاں تک ہے
luTaa rahaa huun main laal-o-gohar andhere mein
لٹا رہا ہوں میں لعل و گہر اندھیرے میں تلاش کرتی ہے کس کو نظر اندھیرے میں وہ جس کی راہ میں میں نے دیئے جلائے تھے گیا وہ شخص مجھے چھوڑ کر اندھیرے میں چراغ کون اٹھا لے گیا مرے گھر سے سسک رہے ہیں مرے بام و در اندھیرے میں تھا تیرگی کے جنازے پہ ایک حشر بپا جو اس کے آنے سے پھیلی خبر اندھیرے میں کوئی ہتھیلی پہ پھرتا ہے آفتاب لئے بھٹک رہا ہے کوئی در بدر اندھیرے میں میں کوہ نور ہوں ناداں تجھے خبر بھی نہیں مجھے چھپانے کی کوشش نہ کر اندھیرے میں مسافروں کو وہ راہیں دکھائے گا افضلؔ چراغ رکھ دو سر رہ گزر اندھیرے میں
ye haqiqat hai vo kamzor huaa karti hain
یہ حقیقت ہے وہ کمزور ہوا کرتی ہیں اپنی تقدیر کا قومیں جو گلہ کرتی ہیں ریت پر جب بھی بناتا ہے گھروندا کوئی سر پھری موجیں اسے دیکھ لیا کرتی ہیں میں گلستاں کی حفاظت کی دعا کرتا ہوں بجلیاں میرے نشیمن پہ گرا کرتی ہیں جانے کیا وصف نظر آتا ہے مجھ میں ان کو تتلیاں میرے تعاقب میں رہا کرتی ہیں تیری دہلیز سے نسبت جسے ہو جاتی ہے عظمتیں اس کے مقدر میں ہوا کرتی ہیں کیوں نہ گل بوٹوں کے چہروں پہ نکھار آ جائے یہ ہوائیں جو ترا ذکر کیا کرتی ہیں اپنی نظروں میں جو رکھتا ہے ترے نقش قدم منزلیں اس کے تعاقب میں رہا کرتی ہیں چین کی نیند مجھے آئے تو کیسے آئے میری آنکھیں جو ترا خواب بنا کرتی ہیں اس کی رحمت کے دیئے جو بھی ہیں روشن افضلؔ آندھیاں ان کی حفاظت میں رہا کرتی ہیں
apni tanhaaiyon ke ghaar mein huun
اپنی تنہائیوں کے غار میں ہوں ایسا لگتا ہے میں مزار میں ہوں تو نے پوچھا کبھی نہ حال مرا مدتوں سے ترے دیار میں ہوں تیری خوشبو ہے میری سانسوں میں جب سے میں تیری رہ گزار میں ہوں مجھ پہ اپنا ہے اختیار کہاں میں تو بس تیرے اختیار میں ہوں مجھ کو منزل سے آشنا کر دے میں تری راہ کے غبار میں ہوں جب سے تیری نگاہ لطف اٹھی چاند تاروں کی میں قطار میں ہوں مجھ کو دنیا سے کیا غرض افضلؔ میں تو ڈوبا خیال یار میں ہوں
tere jalvon ko ru-ba-ru kar ke
تیرے جلووں کو روبرو کر کے تجھ سے ملتے ہیں ہم وضو کر کے تیرے کوچے سے لوٹ آئے ہم اپنی آنکھیں لہو لہو کر کے چاک دامن ہے چاک رہنے دے کیا کرے گا اسے رفو کر کے تیرے لہجے میں کیسا جادو ہے ہم بھی دیکھیں گے گفتگو کر کے اپنی دنیا لٹائے بیٹھا ہوں یہ ملا تیری جستجو کر کے کھو دیا ہے چراغ بھی افضلؔ چاند تاروں کی آرزو کر کے
kisi ki yaad rulaae to kyaa kiyaa jaae
کسی کی یاد رلائے تو کیا کیا جائے شب فراق ستائے تو کیا کیا جائے جو رفتہ رفتہ غم انتظار کی دیمک مرے وجود کو کھائے تو کیا کیا جائے شب فراق ہو یا ہو وصال کا موسم یہ دل سکون نہ پائے تو کیا کیا جائے دکھا کے چاند سا چہرہ وہ حسن کا پیکر اسیر اپنا بنائے تو کیا کیا جائے شراب نوشی سے میں دور بھاگتا ہوں مگر کوئی نظر سے بھلائے تو کیا کیا جائے مرے علاج کو کتنے طبیب آئے مگر دوا بھی درد بڑھائے تو کیا کیا جائے سکون ملتا ہے جس کی نگاہ سے افضلؔ وہی نگاہ چرائے تو کیا کیا جائے





