SHAWORDS
Aharas Siddiqui

Aharas Siddiqui

Aharas siddiqui

Aharas siddiqui

poet
9Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

9 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

گھٹ گھٹ کے اپنے دل کی مرمت کرے گا کون اس بے وفا بشر سے مروت کرے گا کون جب تک حجاب ہو تو رہے آرزوئے دید آئے جو بے حجاب تو حسرت کرے گا کون زاہد تمہارے ہاتھ میں ساغر ہے کس لئے گر تم پیو گے ہم پہ ملامت کرے گا کون خود کو ہی اپنا دشمن جانی بنا لیا کم ظرف دشمنوں سے عداوت کرے گا کون احرسؔ تمہارے دل میں ہے وحشت کا اک جہاں تم ہی بتاؤ تم سے محبت کرے گا کون

ghuT-ghuT ke apne dil ki marammat karegaa kaun

40 views

غزل · Ghazal

دولت حسن مجھ پر لٹا دیجئے اپنے چہرے سے پردہ اٹھا دیجئے میرے ساقی کو یا تو بلا دیجئے ورنہ ساغر ہی اپنا تھما دیجئے گنگنا دیجئے مسکرا دیجئے اپنے ہونٹوں کو زحمت ذرا دیجئے اہل دنیا کو منظر دکھا دیجئے ان ابابیلوں کو پھر بلا دیجئے ہم غریبوں کو اتنا بتا دیجئے کون مخلص یہاں ہے پتہ دیجئے آپ منصف ہیں جو بھی سزا دیجئے جرم پہلے تو میرا بتا دیجئے لغزشوں نے ہے پامال مجھ کو کیا میرے مولا مجھے حوصلہ دیجئے کل اسی جرم پر آپ نے دی سزا دشمن دین کو پھر سزا دیجئے چار قطروں سے ساقی بھلا ہوگا کیا دیجئے دیجئے اور ذرا دیجئے اپنے ہاتھوں پہ لکھ کر مرا نام وہ مجھ سے کہتے ہیں احرسؔ مٹا دیجئے

daulat-e-husn mujh par luTaa dijiye

40 views

غزل · Ghazal

کون جانے کدھر جا رہا ہے بشر آدمی کے لیے آدمی ہے شرر ان درختوں سے میں نے ہے جانا یہی چوٹ کھا لو مگر سب کو دے دو ثمر لوگ ملتے یہاں اپنے مطلب سے ہیں یوں کسی کو نہیں ہے کسی کی خبر کب سے ہوں مبتلا عشق کے روگ میں کوئی چارہ تو کر اے مرے چارہ گر کیا بتاؤں کہ کتنا ہے خالی بدن مجھ میں میری کمی ہی رہی عمر بھر مدتیں ہو گئیں دیکھتے دیکھتے احرسؔ ان سے کہو پھیر لے وہ نظر

kaun jaane kidhar jaa rahaa hai bashar

40 views

غزل · Ghazal

مجھے یاد حسب ضرورت کرے ہے میں سمجھا تھا احرسؔ محبت کرے ہے نہیں چاہتا ہے بھلا تیرا وہ بھی جو کہتا ہے تجھ سے محبت کرے ہے ہمیشہ سے مطلب کی جا ہے یہ دنیا یہاں کون کس سے محبت کرے ہے بھلا اس سے کوئی محبت کرے کیوں جو کہتا ہے سب سے محبت کرے ہے وہ دھوکے پہ دھوکا ہی کھائے ہمیشہ وہی جو محبت محبت کرے ہے کوئی ہے یہاں پر کے جس سے وہ کہہ دے کہ احرسؔ یہ تجھ سے محبت کرے ہے

mujhe yaad hasb-e-zarurat kare hai

40 views

غزل · Ghazal

ابھی اک دفعہ تھی ملی نظر ہوئے دل ربا کہ بچھڑ گئے کسی اجنبی سے ذرا ذرا ہوئے آشنا کہ بچھڑ گئے مجھے ہم سفر جو عزیز تھا مجھے ہم سفر وہ ملا نہیں نہ سفر میں وہ مرے ساتھ ہے مرے پاس آ کہ بچھڑ گئے ہوئی ہے دعا جو قبول اب مجھے راستے میں ملی تھی وہ وہ مجھے دکھی میں اسے دکھا ہوا سامنا کہ بچھڑ گئے سبھی کشتیوں پہ سوار تھے مرا ہم نشیں تو دکھا نہیں مری بات سن مرے ناخدا ذرا ٹھہر جا کہ بچھڑ گئے کسی بے وفا سے ہوں قربتیں یہ کسی عذاب سے کم نہیں اے مرے خدا ترا شکریہ یہ سہی ہوا کہ بچھڑ گئے یہی قسمتوں کا زوال تھا مری زیست میں نہ وصال تھا کبھی رو کے ہم سے بچھڑ گئے کبھی مسکرا کہ بچھڑ گئے کسی بے وفا سے لگا کے دل نہ کیا کرو یہ شکایتیں اسے احرسؔ اپنی وفائیں دیں ہوئی کیا خطا کہ بچھڑ گئے

abhi ik daf'a thi mili nazar hue dilrubaa ki bichhaD gae

40 views

Similar Poets