chaahiye hai mujhe inkaar-e-mohabbat mire dost
lekin is mein tiraa inkaar nahin chaahiye hai

Ahmad Kamran
Ahmad Kamran
Ahmad Kamran
Popular Shayari
9 totalmiri vafaa hai mire munh pe haath rakkhe hue
tu sochtaa hai ki kuchh bhi nahin samajhtaa main
chand peDon ko hi majnun ki duaa hoti hai
sab darakhton pe to patthar nahin aayaa kartaa
mujh pe tasvir lagaa di gai hai
kyaa main divaar dikhaai diyaa huun
tu ne ai ishq ye sochaa ki tiraa kyaa hogaa
tere sar se main agar haath uThaa letaa huun
kurra-e-hijr se honaa hai numudaar mujhe
main tire ishq kaa inkaar uThaane lagaa huun
paanv baandhe hain vafaa se jab ne
tez-raftaar dikhaai diyaa huun
raas aaegi mohabbat us ko
jis se hote nahin vaade puure
ik pal kaa tavaqquf bhi giraan-baar hai tujh par
aur ham ki thake-haare masaafat se gurezaan
Ghazalغزل
یہ جو بیدار دکھائی دیا ہوں آخری بار دکھائی دیا ہوں وہاں مشکل تھا سنائی دیتا شکر ہے یار دکھائی دیا ہوں آ حراست سے چھڑا ہجراں کو میں گرفتار دکھائی دیا ہوں پاؤں باندھے ہیں وفا سے جب نے تیز رفتار دکھائی دیا ہوں جھیل میں چاند گرا تھا اور میں جھیل کے پار دکھائی دیا ہوں مجھ پہ تصویر لگا دی گئی ہے کیا میں دیوار دکھائی دیا ہوں جانتا خود کو نہیں ہوں احمدؔ خود کو بیکار دکھائی دیا ہوں
ye jo bedaar dikhaai diyaa huun
40 views
چراغ طاق طلسمات میں دکھائی دیا پھر اس کے بعد میرے ہاتھ میں دکھائی دیا میں خوش ہوں کمرے میں پہلی دراڑ آنے سے چلو میں اپنے مضافات میں دکھائی دیا کئی چراغ بنا لوں گا توڑ کر سورج اگر کبھی یہ مجھے رات میں دکھائی دیا ہزار آنکھوں نے گھیرے میں لے لیا مجھ کو میں ایک شخص کے خدشات میں دکھائی دیا اک اور عشق مجھے کہہ رہا تھا آ احمدؔ اک اور ہجر مری گھات میں دکھائی دیا
charaagh taaq-e-tilismaat mein dikhaai diyaa
40 views
دانۂ گندم بیدار اٹھانے لگا ہوں خاک ہوں خاک کا آزار اٹھانے لگا ہوں کرۂ ہجر سے ہونا ہے نمودار مجھے میں ترے عشق کا انکار اٹھانے لگا ہوں لو نے سردار کیے رکھا ہے شب بھر تم کو اے چراغو میں یہ دستار اٹھانے لگا ہوں یہ کھلی جنگ ہے اور جنگ بھی ہے اپنے خلاف اس لیے اپنے طرف دار اٹھانے لگا ہوں ایک آواز مری نیند اڑا دیتی ہے ابن آدم ترے آثار اٹھانے لگا ہوں
daana-e-gandum-e-bedaar uThaane lagaa huun
40 views
تو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا میں زیادہ کو میسر نہیں آیا کرتا میں ترا وقت ہوں اور روٹھ کے جانے لگا ہوں روک لے یار میں جا کر نہیں آیا کرتا اے پلٹ آنے کی خواہش یہ ذرا دھیان میں رکھ جنگ سے کوئی برابر نہیں آیا کرتا چند پیڑوں کو ہی مجنوں کی دعا ہوتی ہے سب درختوں پہ تو پتھر نہیں آیا کرتا اب مجاور بھی قلندر سے بڑے ہو گئے ہیں اب مزاروں پہ کبوتر نہیں آیا کرتا
tu ziyaada mein se baahar nahin aayaa kartaa
40 views
تمہارے ہجر کو کافی نہیں سمجھتا میں کسی ملال کو حتمی نہیں سمجھتا میں یہ اور بات کہ عاری ہے دل محبت سے یہ دکھ سوا ہے کہ عاری نہیں سمجھتا میں چلا ہے رات کے ہمراہ چھوڑ کر مجھ کو چراغ اس کو تو یاری نہیں سمجھتا میں میں انہماک سے اک انتظار جی رہا ہوں مگر یہ کام ضروری نہیں سمجھتا میں مری وفا ہے مرے منہ پہ ہاتھ رکھے ہوئے تو سوچتا ہے کہ کچھ بھی نہیں سمجھتا میں
tumhaare hijr ko kaafi nahin samajhtaa main
40 views
خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے جان و تن لگتے ہیں پورے پورے راس آئے گی محبت اس کو جس سے ہوتے نہیں وعدے پورے چھوڑ آئے ترے حصے کے دوست ہم نے منظر نہیں دیکھے پورے گفتگو ہوش ربا ہے اس کی اس کی باتیں ہیں صحیفے پورے ہجر اور رات تقابل میں ہیں اشک پورے کہ ستارے پورے یاد ہوں آدھا سا خود کو احمدؔ نقش آئینے میں کب تھے پورے
khvaab yuun hi nahin hote puure
40 views





