SHAWORDS
Ahmad Mushtaq

Ahmad Mushtaq

Ahmad Mushtaq

Ahmad Mushtaq

poet
72Sher
72Shayari
77Ghazal

Sherشعر

See all 72

Popular Sher & Shayari

144 total

Ghazalغزل

See all 77
غزل · Ghazal

malaal-e-dil se ilaaj-e-gham-e-zamaana kiyaa

ملال دل سے علاج غم زمانہ کیا ضیائے مہر سے روشن چراغ خانہ کیا سحر ہوئی تو وہ آئے لٹوں کو چھٹکاتے ذرا خیال پریشانی صبا نہ کیا ہزار شکر کہ ہم مصلحت شناس نہ تھے کہ ہم نے جس سے کیا عشق والہانہ کیا وہ جس کے لطف میں بیگانگی بھی شامل تھی اسی نے آج گزر دل سے محرمانہ کیا وہ بزم حرف ہو یا محفل سماع خیال جہاں بھی وجد کیا ہم نے بے ترانہ کیا

غزل · Ghazal

tire divaane har rang rahe tire dhyaan ki jot jagaae hue

ترے دیوانے ہر رنگ رہے ترے دھیان کی جوت جگائے ہوئے کبھی نتھرے ستھرے کپڑوں میں کبھی انگ بھبھوت رمائے ہوئے اس راہ سے چھپ چھپ کر گزری رت سبز سنہرے پھولوں کی جس راہ پہ تم کبھی نکلے تھے گھبرائے ہوئے شرمائے ہوئے اب تک ہے وہی عالم دل کا وہی رنگ شفق وہی تیز ہوا وہی سارا منظر جادو کا میرے نین سے نین ملائے ہوئے چہرے پہ چمک آنکھوں میں حیا لب گرم خنک چھب نرم نوا جنہیں اتنے سکون میں دیکھا تھا وہی آج ملے گھبرائے ہوئے ہم نے مشتاقؔ یوں ہی کھولا یادوں کی کتاب مقدس کو کچھ کاغذ نکلے خستہ سے کچھ پھول ملے مرجھائے ہوئے

غزل · Ghazal

monis-e-dil koi naghma koi tahrir nahin

مونس دل کوئی نغمہ کوئی تحریر نہیں حرف میں رس نہیں آواز میں تاثیر نہیں آ ہی جاتا ہے اجڑتی ہوئی دنیا کا خیال باور آیا کہ ترا درد ہمہ گیر نہیں ہجر اک وقفۂ بیدار ہے دو نیندوں میں وصل اک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں میرے اطراف یہ زنجیر علائق کیسی زندگی جرم سہی قابل تعزیر نہیں کس طرح پائیں اس افسردہ مزاجی سے نجات ہمدمو ہم سخنو کیا کوئی تدبیر نہیں

غزل · Ghazal

dast-e-sumum dast-e-sabaa kyuun nahin huaa

دست سموم دست صبا کیوں نہیں ہوا در موسم بہار کا وا کیوں نہیں ہوا ظالم تھے ورائے حساب و کتاب کیا ان پر نزول قہر خدا کیوں نہیں ہوا ان کے سروں پہ کیوں نہیں ٹوٹیں قیامتیں ان کے گھروں میں حشر بپا کیوں نہیں ہوا گونجی نہ کیوں فلک سے کوئی آیت غضب یہ گنبد سکوت صدا کیوں نہیں ہوا دل میں ہیں کس امید کے پنجے گڑے ہوئے یہ ماس ناخنوں سے جدا کیوں نہیں ہوا

غزل · Ghazal

phir vahi raat phir vahi aavaaz

پھر وہی رات پھر وہی آواز میرے دل کی تھکی ہوئی آواز کہیں باغ نخست سے آئی کسی کوئل کی دکھ بھری آواز ابھی چھایا نہیں ہے سناٹا آ رہی ہے کوئی کوئی آواز پھڑپھڑاہٹ کسی پرندے کی کسی کونپل کی پھوٹتی آواز ابھی محفوظ ہے ترا چہرہ ابھی بھولی نہیں تری آواز میرے بستر پہ آ کے لیٹ گئی روشنی کی لکیر سی آواز منہ اندھیرے جگا کے چھوڑ گئی ایک صبح جمال کی آواز دن سے فرصت کبھی ملے تو سنو شام کا ساز رات کی آواز گونجتا ہے ابھی ترانۂ شوق وہی آہنگ ہے وہی آواز ٹیڑھے میڑھے مڑے تڑے مکھڑے ٹوٹی پھوٹی کٹی پھٹی آواز بڑے دکھ جھیل کر کمائی ہے جو بھی ہے یہ بری بھلی آواز

غزل · Ghazal

dukh ki chikhein pyaar ki sargoshiyaan rah jaaeingi

دکھ کی چیخیں پیار کی سرگوشیاں رہ جائیں گی ہم چلے جائیں گے آوازیں یہاں رہ جائیں گی آئنوں جیسے بدن دریا بہا لے جائے گا ریت میں پیراہنوں کی دھجیاں رہ جائیں گی صبح سے پہلے گزر جائے گا یہ طوفان بھی آسماں پر اکا دکا بدلیاں رہ جائیں گی ہو بھی جائے دل اگر خالی خیال و خواب سے پھر بھی اک کونے میں کچھ بے خوابیاں رہ جائیں گی

Similar Poets