SHAWORDS
A

Aish Dehlvi

Aish Dehlvi

Aish Dehlvi

poet
5Sher
5Shayari
16Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

tu hi insaaf se kah jis kaa khafaa yaar rahe

تو ہی انصاف سے کہہ جس کا خفا یار رہے اپنے جینے سے نہ کس طرح وہ بے زار رہے زخم دل چھیلے کبھی اور کبھی زخم جگر ناخن دست جنوں کب مرے بیکار رہے ان جفاؤں کا مزہ تم کو چکھا دیویں گے ہاں اگر زندہ ہم اے چرخ جفاکار رہے مے کدے میں ہے بڑی یہ ہی مغاں کی پیری کہ بس اس چشم سیہ مست سے ہشیار رہے جلتے بھنتے رہے ہم بزم بتاں میں لیکن شمع ساں اس پہ بھی سر دینے کو تیار رہے یوں تو کیا خواب میں بھی یار کا ملنا معلوم اپنے گر آہ یہی طالع بیدار رہے ایک جا سینے میں ان دونوں کا رہنا ہے محال یا یہ دل ہی رہے یا آہ شرربار رہے اس سے دل خاک ہو امید حصول مطلب جس سے اک بوسے پہ سو طرح کی تکرار رہے لے کے پیکاں سے ترے تیر بتا تو قاتل خون میں ڈوبے نہیں کب تا لب سوفار رہے جنس دل آتش الفت میں جلے جو چاہے پر کسی طرح تری گرمی بازار رہے بازی عشق میں چپکے رہو کیا خاک کہیں ایک دل رکھتے تھے پاس اپنے سو بار رہے ایسا دم ناک میں آیا ہے کہ ہم راضی ہیں عیشؔ گر سینے میں اس دل کے عوض خار رہے

غزل · Ghazal

jo hotaa aah tiri aah-e-be-asar mein asar

جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثر تو کچھ تو ہوتا دل شوخ فتنہ گر میں اثر بس اک نگاہ میں معشوق چھین لیں ہیں دل خدا نے ان کی دیا ہے عجب نظر میں اثر نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند کہاں سے اشک کا ہو کہیے چشم تر میں اثر ہو اس کے ساتھ یہ بے التفاتی گل کیوں جو عندلیب کے ہو نالۂ سحر میں اثر کسی کا قول ہے سچ سنگ کو کرے ہے موم رکھا ہے خاص خدا نے یہ سیم و زر میں اثر جو آہ نے فلک پیر کو ہلا ڈالا تو آپ ہی کہیے کہ ہے گا یہ کس اثر میں اثر جو دیکھ لے تو جہنم کی پھیرے بندھ جائے ہے میری آہ کے وہ ایک اک شرر میں اثر بگاڑیں چرخ سے ہم عیشؔ کس بھروسے پر نہ آہ میں ہے نہ سوز دل و جگر میں اثر

غزل · Ghazal

meraa shikva tiri mahfil mein adu karte hain

میرا شکوہ تری محفل میں عدو کرتے ہیں اس پہ بھی صبر ہم اے عربدہ جو کرتے ہیں مشق بیداد و ستم کرتے ہیں گر وہ تو یہاں ہم بھی بیداد و ستم سہنے کی خو کرتے ہیں جاں ہوئی ہے نگہ نام پہ ان کی عاشق چاک دل تار نظر سے جو رفو کرتے ہیں بے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی ہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ہیں آج شمشیر بکف نکلے ہیں وہ دیکھیے تر آب شمشیر سے کس کس کے گلو کرتے ہیں ہے رچی جن کے دماغوں میں تری زلف کی بو عنبر و مشک کی کب بو کو وہ بو کرتے ہیں مشک و عنبر کا انہیں نام بھی لینا ہے ننگ یار کی زلف معنبر کو جو بو کرتے ہیں چاک کرتے ہیں گریباں کو وحشت میں کبھی چاک دل میں کبھو ناخن کو فرو کرتے ہیں دیکھ سودا زدۂ الفت خوباں اے عیشؔ وادی عشق میں کیا کیا تگ و پو کرتے ہیں

غزل · Ghazal

kisi ki nek ho yaa bad jahaan mein khu nahin chhupti

کسی کی نیک ہو یا بد جہاں میں خو نہیں چھپتی چھپائے لاکھ خوشبو یا کوئی بدبو نہیں چھپتی زباں پر جب تلک آتی نہیں البتہ چھپتی ہے زباں پر جب کہ آئی بات اے گل رو نہیں چھپتی یہاں تو تجھ کو سو پردے لگے ہیں اہل تقوی سے بھلا رندوں سے کیوں اے دختر رز تو نہیں چھپتی سلیقہ کیا کرے اس میں کوئی بیتابی جاں کو چھپاؤ سو طرح جب دل ہو بے قابو نہیں چھپتی حجاب اس میں کہاں ہے بے حجابی جس کی عادت ہو چھپا کر لاکھ پیوے گر کوئی دارو نہیں چھپتی رخ روشن کو تم کیوں چھوڑ کر زلفیں چھپاتے ہو چمک رخ کی چھپائے سے تہ گیسو نہیں چھپتی یہ ریش و جبہ و دستار زاہد کی بناوٹ ہے طبیعت بے تکلف جس کی ہو یکسو نہیں چھپتی کلام اپنا عبث تو اہل دانش سے چھپاتا ہے جہاں میں عیشؔ طرز شاعر خوش گو نہیں چھپتی

غزل · Ghazal

dost jab dil saa aashnaa hi nahin

دوست جب دل سا آشنا ہی نہیں اب ہمیں غیر کا گلہ ہی نہیں جس کا دل درد آشنا ہی نہیں اس کے جینے کا کچھ مزا ہی نہیں ایک دم ہم سے وہ جدا ہی نہیں گر جدا ہو تو وہ خدا ہی نہیں آشنائی پہ اس کی مت جانا لے کے دل پھر وہ آشنا ہی نہیں خاک چھانی جہان کی لیکن دل گم گشتہ کا پتا ہی نہیں لاکھ معشوق ہیں جہاں میں مگر آہ وہ ناز وہ ادا ہی نہیں سعی بے فائدہ ہے چارہ گرو مرض عشق کی دوا ہی نہیں درد دل ان سے ہم کہا ہی کیے پر انہوں نے کبھی سنا ہی نہیں سر پھراتا ہے کیوں عبث ناصح میرا کہنے میں دل رہا ہی نہیں اب وہ آئے تو آئیں کیا حاصل طاقت عرض مدعا ہی نہیں میں تو کیا گوش چرخ نے بھی عیشؔ ایسا بیداد گر سنا ہی نہیں

غزل · Ghazal

aashiqon ko ai falak devegaa tu aazaar kyaa

عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیا دشمن جاں ان کا تھوڑا ہے دل بیمار کیا رشک آوے کیوں نہ مجھ کو دیکھنا اس کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے ہے روزن دیوار کیا آہ نے تو خیمۂ گردوں کو پھونکا دیکھیں اب رنگ لاتے ہیں ہمارے دیدۂ خوں بار کیا مرغ دل کے واسطے اے ہم صفیرو کم ہے کیوں کچھ قضا کے تیر سے تیر نگاہ یار کیا چل کے مے خانے ہی میں اب دل کو بہلاؤ ذرا عیشؔ یاں بیٹھے ہوئے کرتے ہو تم بیگار کیا

Similar Poets