ujlat mein vo dekho kyaa kyaa chhoD gayaa
apni baatein apnaa chehra chhoD gayaa

Aisha Ayub
Aisha Ayub
Aisha Ayub
Popular Shayari
15 totalitnaa masruf kar liyaa khud ko
gham bhi aa kar khushi se lauT gae
tumhaari khush-nasibi hai ki tum samjhe nahin ab tak
akele-pan mein aur tanhaai mein jo farq hotaa hai
kuchh umr apni zaat kaa dukh jhelte rahe
kuchh umr kaaenaat kaa dukh jhelnaa paDaa
ek laDki chuDiyaan khankaa rahi thi aur tabhi
us khanak se uTh rahaa thaa jaise zindaani kaa shor
kisi se bhi mukhaatib hon koi bhi baat hoti ho
tumhaaraa naam lene kaa bahaana DhunD lete hain
us se koi gila bhi karein ham to kyaa karein
vaa'da koi kiyaa hi nahin us ne aaj tak
yahi sabab hai ki aksar udaas rahte hain
jo ham se duur hain vo aas paas rahte hain
par sameTe khud hi baiThaa hai parinda ik taraf
jo qafas mein hi nahin us ko rihaa kaise karun
ek aalim hai jo sajdon mein gila kartaa hai
ek darvesh hai jo haalaat-e-namnaak mein khush
had-e-nigaah dekhiye banne ko gham-gusaar
us ko bhi chup karaaiye jo ro nahin rahaa
meri maan to miri jannat ko liye baiThi hai
aise kar lo mire purkhon ki duaa tum rakh lo
Ghazalغزل
چارہ گر نے کھیل الٹا کر دیا اک پرانا زخم گہرا کر دیا اس نے بھی پوچھا نہیں پھر کیا ہوا مختصر ہم نے بھی قصہ کر دیا زہر سے لبریز اس ماحول نے آنسوؤں کا رنگ نیلا کر دیا اب ہمیں رونے کی آزادی ملی قہقہوں نے کام آدھا کر دیا آئنے میں بھی نظر آتا ہے تو کیا مجھے بھی اپنے جیسا کر دیا دیکھ مرشد نے ترے بیمار کو قل ھواللہ پڑھ کے اچھا کر دیا کیا غضب کی ہے تری کوزہ گری کیسے کیسوں کو ہی کیسا کر دیا جس کی لو سے جل گیا میرا مکاں اس دیے نے تو اندھیرا کر دیا میں تو ایک انسان ہوں مجبور ہوں تو خدا ہے تو نے یہ کیا کر دیا
chaaraagar ne khel ulTaa kar diyaa
40 views
ہم اس جہان میں آئے تو ساتھ لائے دن کسی کے موت کے جینے کے سب منائے دن خوشی کا دن تو بڑی منتوں سے بنتا ہے اداسیوں کے مگر ہیں بنے بنائے دن ہوئے ہیں آنکھ سے اوجھل کبھی جو اپنے تھے ہماری گود میں پلتے ہیں کچھ پرائے دن یہ شور و غل یہ ٹھہاکے تا قہقہوں کا ہجوم بڑے جتن کئے پھر ہم نے چپ کرائے دن جب اس کا رات کا نشہ اترنے والا تھا غموں کو گھول کے ہم نے اسے پلائے دن نہ اس میں چاند نہ ہی جگمگاتے تارے ہیں کوئی ستارہ صفت آ کے اب سجائے دن میں اس کے ساتھ اندھیروں کی سیر پر نکلی وہ میرے ساتھ رہا اور مجھے دکھائے دن
ham is jahaan mein aae to saath laae din
40 views
مجھ کو بے رحم طبیبوں سے بچایا جائے اب دعا مانگنے والوں کو بلایا جائے صرف محسوس کریں لوگ مگر سن نہ سکیں شور کچھ اتنی خموشی سے مچایا جائے خاص لوگوں پہ جہاں آنے کی ہو پابندی مجھ کو اس عام سی محفل میں بلایا جائے درد کا بوجھ اٹھاتے ہوئے اک عمر ہوئی کچھ خوشی کا بھی تو احسان اٹھایا جائے یوں تو ہر بات پہ رونے کی ہے عادت اس کو دل بضد ہے کے اسے آج ہنسایا جائے ہے جفاکار وہ جائے تو اسے جانے دو کیوں بھلا زخم کو ناسور بنایا جائے عائشہؔ خود سے ہی میں لڑتی رہوں گی کب تک اب مجھے میرے مقابل سے ہٹایا جائے
mujh ko be-rahm tabibon se bachaayaa jaae
40 views
ہم ایک دوسرے کے اس قدر خمار میں ہیں بچھڑ چکے ہیں مگر پھر بھی انتظار میں ہیں کمان کھینچنے والو کو اس کا علم نہیں ہدف میں ہیں ہی نہیں ہم تو آر پار میں ہیں یہ بات سچ ہے مگر ہم ہی دیر میں سمجھے نہ اس کے اور نہ ہم اپنے اختیار میں ہیں مسافروں کی تھکن یہ بتا رہی ہے ہمیں انہیں خبر ہی نہیں ہے وہ کس دیار میں ہیں وہ اہل ظرف تھے سایا تلاش کرتے رہے ہم اہل کشف ہیں اڑتے ہوئے غبار میں ہیں جو خواب ٹوٹ گئے صبر دے گئے مجھ کو جو خواب بچ گئے وہ چشم اشک بار میں ہیں
ham ek dusre ke is qadar khumaar mein hain
40 views
پابندیٔ حصار سے آگے نکل گئے نفرت کی ضد میں پیار سے آگے نکل گئے اس درجہ اختیار اسے خود پہ دے دیا ہم اس کے اختیار سے آگے نکل گئے اپنے قدم کو اپنی ہی جانب بڑھا لیا دنیا کی ہر قطار سے آگے نکل گئے آواز دی گئی ہمیں تاخیر سے بہت اتنی کہ ہم پکار سے آگے نکل گئے مڑ کر بھی دیکھنے کی اجازت نہیں ملی ہم بھی رہ غبار سے آگے نکل گئے جو لوگ کار عشق میں مصروف ہو گئے وہ فکر روزگار سے آگے نکل گئے جینا محال شہر میں اتنا ہوا کہ ہم مرنے کے انتظار سے آگے نکل گئے
paabandi-e-hisaar se aage nikal gae
40 views
وہ جو اپنی ذات میں رکھتے ہیں عریانی کا شور خلد سے آئے ہیں لے کے روح یزدانی کا شور دشت میں رہتے ہیں پیاسے اور دریچے وا کئے خوش ہوا کرتے ہیں سن کے دور سے پانی کا شور ایک لڑکی چوڑیاں کھنکا رہی تھی اور تبھی اس کھنک سے اٹھ رہا تھا جیسے زندانی کا شور ہر کسی کا ایک لا ظاہر مقرب ہے مگر دشمن دوران دنیا میں ہے برہانی کا شور میرے گھر کے بام و در سب بن گئے ہیں قصہ گو ہے محبت کی خموشی اور پشیمانی کا شور ضبط غم کو طول دے جب زیست کی یکسانیت موت کی آواز سے آتا ہے آسانی کا شور میں پری پیکر ہوں لیکن بے زباں ہرگز نہیں ساری دنیا نے سنا ہے ظرف نسوانی کا شور وہ مجسم خوش بدن یوں تو سخنور ہے مگر اس کے اندر گونجتا ہے رمز پنہانی کا شور سب ستارے جھلملائے چاند کی آغوش میں جب اندھیرے میں وہ لایا اپنی تابانی کا شور اس نے پربت پر صدا دی جا کے مجھ کو عائشہؔ اور وہاں سے لوٹ آیا میری ویرانی کا شور
vo jo apni zaat mein rakhte hain uryaani kaa shor
40 views





