SHAWORDS
Akbar Hameedi

Akbar Hameedi

Akbar Hameedi

Akbar Hameedi

poet
18Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

ابھی زمین کو ہفت آسماں بنانا ہے اسی جہاں کو مجھے دو جہاں بنانا ہے بھٹک رہا ہے اکیلا جو کوہ و صحرا میں اس ایک آدمی کو کارواں بنانا ہے یہ شاخ گل جو گھری ہے ہزار کانٹوں میں مجھے اسی سے نیا گلستاں بنانا ہے میں جانتا ہوں مجھے کیا بنانا ہے لیکن وہاں بنانے سے پہلے یہاں بنانا ہے چراغ لے کے اسے شہر شہر ڈھونڈھتا ہوں بس ایک شخص مجھے راز داں بنانا ہے ہمیں بھی عمر گزاری تو کرنی ہے اکبرؔ انہیں بھی مشغلۂ دلبراں بنانا ہے

abhi zamin ko haft aasmaan banaanaa hai

40 views

غزل · Ghazal

مجھے لکھو وہاں کیا ہو رہا ہے یہاں تو پھر تماشا ہو رہا ہے ہوا کے دوش پر ہے آشیانہ پرندہ تنکا تنکا ہو رہا ہے ابھی پرواز کی فرصت ہے کس کو ابھی تو دانہ دنکا ہو رہا ہے کوئی نادیدہ انگلی اٹھ رہی ہے مری جانب اشارہ ہو رہا ہے وہ اپنے ہاتھ سیدھے کر رہے ہیں ہمارا شہر الٹا ہو رہا ہے نہ جانے کس طرف سے لکھا جائے چمن دیوار فردا ہو رہا ہے

mujhe likkho vahaan kyaa ho rahaa hai

40 views

غزل · Ghazal

اک لمحے نے جیون دھارا روک لیا جیسے کسی قطرے نے دریا روک لیا کتنا مان گمان ہے دینے والے کو درد دیا ہے اور مداوا روک لیا دونوں عالم مل کے جس کو روکتے ہیں میں نے اس طوفان کو تنہا روک لیا کبھی کبھی تو مجھ کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرا حصہ روک لیا وہ تو سب کا دوست ہے میرا کیا ہوگا اس کو تو بس جس نے روکا روک لیا ایک سی ساری صبحیں ایک سی شامیں ہیں کس نے اکبرؔ بہتا دریا روک لیا

ik lamhe ne jivan-dhaaraa rok liyaa

40 views

غزل · Ghazal

شرار سنگ جو اس شور و شر سے نکلے گا جلوس لالہ و نسریں کدھر سے نکلے گا میں جانتا ہوں کہ اس کی خبر نہ آئے گی تناظر اس کا مگر ہر خبر سے نکلے گا سبھی اسیر ہوئے اپنی اپنی صبحوں کے وہ کوئی ہوگا جو قید سحر سے نکلے گا کسی کو اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا جو دیدہ ور ہے طلسم نظر سے نکلے گا جلال حسن دکھا میرے ماہتاب جمال تو روشنی ہے شبوں کے اثر سے نکلے گا شبوں کو جاگتے ہو جس کے خواب میں اکبرؔ وہ شاہکار کمال ہنر سے نکلے گا

sharaar-e-sang jo is shor-o-shar se niklegaa

40 views

غزل · Ghazal

حریف گردش ایام تو بنے ہوئے ہیں وہ آئیں گے نہیں آئیں گے ہم سجے ہوئے ہیں بڑا ہی خوشیوں بھرا ہنستا بستا گھر ہے مرا اسی لیے تو سبھی قمقمے جلے ہوئے ہیں وہ خود پسند ہے خود کو ہی دیکھنا چاہے سو اس کے چاروں طرف آئنے لگے ہوئے ہیں یہ کس حسیں کی سواری گزرنے والی ہے جو کائنات کے سب راستے سجے ہوئے ہیں مہک رہی ہے فضا اس بدن کی خوشبو سے چمن ہرا بھرا ہے پھول بھی کھلے ہوئے ہیں میں اس کی سمت میں خود راستہ بناؤں گا وگرنہ اس کی طرف راستے بنے ہوئے ہیں

harif-e-gardish-e-ayyaam to bane hue hain

40 views

غزل · Ghazal

دل کی گرہیں کہاں وہ کھولتا ہے چاہتوں میں بھی جھوٹ بولتا ہے سنگ ریزوں کو اپنے ہاتھوں سے موتیوں کی طرح وہ رولتا ہے کیسا میزان عدل ہے اس کا پھول کانٹوں کے ساتھ تولتا ہے ایسا وہ ڈپلومیٹ ہے اکبرؔ زہر امرت کے ساتھ گھولتا ہے

dil ki girhein kahaan vo kholtaa hai

40 views

Similar Poets