SHAWORDS
Akhtar Lakhnvi

Akhtar Lakhnvi

Akhtar lakhnvi

Akhtar lakhnvi

poet
11Sher
11Shayari
9Ghazal

Sherشعر

See all 11

Popular Sher & Shayari

22 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

hoshyaar kar rahaa hai gajar jaagte raho

ہشیار کر رہا ہے گجر جاگتے رہو اے صاحبان فکر و نظر جاگتے رہو دشت شب سیاہ میں سنتے ہیں شب پرست روکیں گے کاروان سحر جاگتے رہو ظلمت کہیں نہ کر دے اجالے کو داغدار لے کر چراغ دیدۂ تر جاگتے رہو سوئے نہیں کہ ڈوب گئی نبض کائنات بوجھل ہو لاکھ آنکھ مگر جاگتے رہو خوابیدہ اپنے چاہنے والوں کو دیکھ کر ممکن ہے لوٹ جائے سحر جاگتے رہو

غزل · Ghazal

shahr kaa shahr salibon se sajaa hai ab ke

شہر کا شہر صلیبوں سے سجا ہے اب کے ان کی آمد کا ہر انداز نیا ہے اب کے قافلہ قافلہ مقتل کی طرف جائیں گے لوگ شوخ پہلے سے بہت رنگ حنا ہے اب کے یہ تو سچ ہے وہ اسی راہ سے گزریں گے مگر کوئی دیکھے نہ انہیں حکم ہوا ہے اب کے آؤ جی بھر کے گلے مل لیں رفیقو ہم آج قتل کی شکل میں انعام وفا ہے اب کے موسم گل ترے صدقے تری آمد کے نثار دیکھ مجھ سے مرا سایہ بھی جدا ہے اب کے ایک قطرہ نہیں دیتی ہے گزر جاتی ہے جو بھی اٹھتی ہے گھٹا ایسی گھٹا ہے اب کے دوستو ذکر رخ یار سے غافل نہ رہو دشت ظلمات میں مہتاب لٹا ہے اب کے

غزل · Ghazal

dil ke har zakhm ko palkon pe sajaayaa to gayaa

دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا آپ کے نام پہ اک جشن منایا تو گیا مئے کہنہ نہ سہی خون تمنا ہی سہی ایک پیمانہ مرے سامنے لایا تو گیا خیر اپنا نہیں باغی ہی سمجھ کر ہم کو تیری محفل میں کسی طور بلایا تو گیا اب یہ بات اور کہ زنداں میں بھی زنجیریں ہیں ہم کو گلشن کی بلاؤں سے بچایا تو گیا دار پہ چڑھ کے بھی خوش ہیں کہ ہمیں اس دل میں اس بہانے ہی سہی اپنا بنایا تو گیا اب یہ قسمت ہی نہ جاگے تو کرے کیا کوئی روز و شب اک نیا طوفان اٹھایا تو گیا کیا ہے منزل سے اگر ہو گئے ہم دور اخترؔ رہبروں کے ہمیں حلقے سے نکالا تو گیا

غزل · Ghazal

su-e-maqtal koi dam saath chale

سوئے مقتل کوئی دم ساتھ چلے جس کو رکھنا ہو بھرم ساتھ چلے اسی حسرت میں کٹی راہ حیات کوئی دو چار قدم ساتھ چلے خار زاروں میں جہاں کوئی نہ تھا بن کے ہم دم ترے غم ساتھ چلے ہم سے رندوں کا ٹھکانا کیا ہے تم کہاں شیخ حرم ساتھ چلے وادئ شب کی کٹھن راہوں میں لوگ کترا گئے کم ساتھ چلے

غزل · Ghazal

dekho us ne qadam qadam par saath diyaa begaane kaa

دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بیگانے کا اخترؔ جس نے عہد کیا تھا تم سے ساتھ نبھانے کا آج ہمارے قدموں میں ہے کاہکشاں شہر مہتاب کل تک لوگ کہا کرتے تھے خواب اسے دیوانے کا تیرے لب و رخسار کے قصے تیرے قد و گیسو کی بات ساماں ہم بھی رکھتے ہیں تنہائی میں دل بہلانے کا تم بھی سنتے تو رو دیتے ہم بھی کہتے تو روتے جان کے ہم نے چھوڑ دیا ہے اک حصہ افسانے کا کچھ تو ہے جو اپنایا ہے ہم نے کوئے ملامت کو ویسے اور طریقہ بھی تھا اخترؔ دل بہلانے کا

غزل · Ghazal

dil mein Tisein jaag uThti hain pahlu badalte vaqt bahut

دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت اپنا زمانہ یاد آتا ہے سورج ڈھلتے وقت بہت وہ پرچم وہ سر کے طرے اور وہ سفینے اپنے تھے جن کو دیکھ کے شعلے بھی روئے تھے جلتے وقت بہت ان شیشوں کے ریزوں کا مرہم ہے اپنے زخموں پر لمحہ لمحہ جو ٹوٹے تلواریں چلتے وقت بہت پل بھر میں پانی ہوتے دیکھے ہیں صنم کرداروں کے ہم کیسے کہہ دیں لگتا ہے سنگ پگھلتے وقت بہت سونے کتنے بام ہوئے کتنے آنگن بے نور ہوئے چاند سے چہرے یاد آتے ہیں چاند نکلتے وقت بہت اب ہر گھر کی چوکھٹ ہم پر ہنستی ہے تو راز کھلا پھوٹ پھوٹ کر روئی تھیں کیوں دہلیزیں چلتے وقت بہت دو نسلوں کی کشتی تھی وہ پچھلے دنوں جو ڈوب گئی بھیگے جسموں والو لگے گا تم کو سنبھلتے وقت بہت

Similar Poets