kinaaron se mujhe ai naakhudaao duur hi rakkho
vahaan le kar chalo tufaan jahaan se uThne vaalaa hai

Ali Ahmad Jalili
Ali Ahmad Jalili
Ali Ahmad Jalili
Popular Shayari
15 totalek tahrir jo us ke haathon ki thi
baat vo mujh se karti rahi raat bhar
gham se mansub karun dard kaa rishta de duun
zindagi aa tujhe jiine kaa saliqa de duun
ham ne dekhaa hai zamaane kaa badalnaa lekin
un ke badle hue tevar nahin dekhe jaate
laai hai kis maqaam pe ye zindagi mujhe
mahsus ho rahi hai khud apni kami mujhe
nasheman hi ke luT jaane kaa gham hotaa to kyaa gham thaa
yahaan to bechne vaale ne gulshan bech Daalaa hai
roke se kahin haadsa-e-vaqt rukaa hai
shoalon se bachaa shahr to shabnam se jalaa hai
kyaa isi vaaste sinchaa thaa lahu se apne
jab sanvar jaae chaman aag lagaa di jaae
us shajar ke saae mein baiThaa huun main
jis ki shaakhon par koi pattaa nahin
phirtaa huun apnaa naqsh-e-qadam DhunDtaa huaa
le kar charaagh haath mein vo bhi bujhaa huaa
duur tak dil mein dikhaai nahin detaa koi
aise viraane mein ab kis ko sadaa di jaae
kaaTi hai gham ki raat baDe ehtiraam se
aksar bujhaa diyaa hai charaaghon ko shaam se
Ghazalغزل
فریب نکہت و گلزار سے بچاؤ مجھے کرم کرو کسی صحرا میں چھوڑ آؤ مجھے وہ جنس ہوں میں جسے بک کے مدتیں گزریں جو ہو سکے تو کہیں سے خرید لاؤ مجھے مچل رہی ہے نظر چھو کے دیکھیے اس کو سمٹ رہا ہے بدن ہاتھ مت لگاؤ مجھے کسی طرح ان اندھیروں کی عمر تو کم ہو جلانے والو ذرا دیر تک جلاؤ مجھے کسی پہ اپنے سوا اب نظر نہیں پڑتی مری نگاہ سے اے دوستو بچاؤ مجھے یہ کس کی لاش لیے جاتے ہو اٹھائے ہوئے کہیں وہ میں تو نہیں ہوں ذرا دکھاؤ مجھے بکھر چکا ہوں علیؔ میں غزل کے شعروں میں بساط عارض و لب سے سمیٹ لاؤ مجھے
fareb-e-nikhat-o-gulzaar se bachaao mujhe
ہماری آنکھ نے دیکھے ہیں ایسے منظر بھی گلوں کی شاخ سے لٹکے ہوئے تھے خنجر بھی یہاں وہاں کے اندھیروں کا کیا کریں ماتم کہ اس سے بڑھ کے اندھیرے ہیں دل کے اندر بھی ابھی سے ہاتھ مہکنے لگے ہیں کیوں میرے ابھی تو دیکھا نہیں ہے بدن کو چھو کر بھی کسے تلاش کریں اب نگر نگر لوگو جواب دیتے نہیں ہیں بھرے ہوئے گھر بھی ہماری تشنہ لبی پر نہ کوئی بوند گری گھٹائیں جا چکیں چاروں طرف برس کر بھی یہ خون رنگ چمن میں بدل بھی سکتا ہے ذرا ٹھہر کہ بدل جائیں گے یہ منظر بھی علیؔ ابھی تو بہت سی ہیں ان کہی باتیں کہ ناتمام غزل ہے تمام ہو کر بھی
hamaari aankh ne dekhe hain aise manzar bhi
مستحق وہ لذت غم کا نہیں جس نے خود اپنا لہو چکھا نہیں اس شجر کے سائے میں بیٹھا ہوں میں جس کی شاخوں پر کوئی پتا نہیں کون دیتا ہے در دل پر صدا کہہ دو میں بھی اب یہاں رہتا نہیں بن رہے ہیں سطح دل پر دائرے تم نے تو پتھر کوئی پھینکا نہیں انگلیاں کانٹوں سے زخمی ہو گئیں ہاتھ پھولوں تک ابھی پہنچا نہیں ایک خوشبو ساتھ جو پل بھر رہی عمر بھر پیچھا مرا چھوڑا نہیں وہ مقام فکر ہے مرا علیؔ جس بلندی تک کوئی پہنچا نہیں
mustahiq vo lazzat-e-gham kaa nahin
ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر منتظر جانے کس کی رہی رات بھر ہم جلاتے رہے اپنے دل کے دیے تیرگی قتل ہوتی رہی رات بھر میری آنکھوں کو کر کے عطا رت جگے میری تنہائی سوتی رہی رات بھر ایک خوشبو درازوں سے چھنتی ہوئی دستکیں جیسے دیتی رہی رات بھر دل کے اندر کوئی جیسے چلتا رہا چاپ قدموں کی آتی رہی رات بھر ایک تحریر جو اس کے ہاتھوں کی تھی بات وہ مجھ سے کرتی رہی رات بھر ایک صورت علیؔ تھی جو جان غزل میرے شعروں میں ڈھلتی رہی رات بھر
ek khiDki gali ki khuli raat bhar
کاٹی ہے غم کی رات بڑے احترام سے اکثر بجھا دیا ہے چراغوں کو شام سے روشن ہے اپنی بزم اور اس اہتمام سے کچھ دل بھی جل رہا ہے چراغوں کے نام سے مدت ہوئی ہے خون تمنا کئے مگر اب تک ٹپک رہا ہے لہو دل کے جام سے صبح بہار ہم کو بلاتی رہی مگر ہم کھیلتے رہے کسی زلفوں کی شام سے ہر سانس پر ہے موت کا پہرا لگا ہوا آہستہ اے حیات گزر اس مقام سے کاٹی تمام عمر فریب بہار میں کانٹے سمیٹتے رہے پھولوں کے نام سے یہ اور بات ہے کہ علیؔ ہم نہ سن سکے آواز اس نے دی ہے ہمیں ہر مقام سے
kaaTi hai gham ki raat baDe ehtiraam se
آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے غم کی توقیر ذرا اور بڑھا دی جائے کیا اسی واسطے سینچا تھا لہو سے اپنے جب سنور جائے چمن آگ لگا دی جائے عقل کا حکم کہ ساحل سے لگا دو کشتی دل کا اصرار کہ طوفاں سے لڑا دی جائے دور تک دل میں دکھائی نہیں دیتا کوئی ایسے ویرانے میں اب کس کو صدا دی جائے تبصرہ بعد میں بھی قتل پہ ہو سکتا ہے پہلے یہ لاش تو رستے سے ہٹا دی جائے مصلحت اب تو اسی میں نظر آتی ہے علیؔ کہ ہنسی آئے تو اشکوں میں بہا دی جائے
aaj jalti hui har shama bujhaa di jaae





